پیپلزپارٹی وفاقی حکومت کو ریلیف دینے پر کیسے راضی ہوئی؟

ملکی سیاست اور معیشت میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ملک میں مالی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے ایک وسیع اور اہم مفاہمت طے پانے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) جیسے حساس اور سیاسی طور پر اہم معاملات کو موجودہ شکل میں برقرار رکھا جائے گا، جبکہ وفاق کو درپیش مالی مشکلات کے حل کیلئے ایک نیا مالیاتی انتظام وضع کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی ضروریات کے باعث مرکز کی مالی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔ ایسے میں حکومت کو اضافی وسائل درکار ہیں، تاہم این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی ایک انتہائی حساس سیاسی مسئلہ سمجھا جاتا ہے جس پر صوبوں، خصوصاً سندھ، کی جانب سے سخت تحفظات پائے جاتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والی مشاورت میں فیصلہ کیا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے موجودہ فارمولے کو باضابطہ طور پر دوبارہ نہیں کھولا جائے گا اور نہ ہی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ساخت یا فنڈنگ میں کوئی بنیادی تبدیلی کی جائے گی۔ اس کے باوجود ایک ایسے مالیاتی میکانزم پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا ہے جس کے تحت صوبے مجموعی طور پر 10 کھرب روپے سے زائد کے وسائل مختلف طریقوں سے وفاقی حکومت کو فراہم کریں گے۔ذرائع کے مطابق اس مجوزہ انتظام کی تفصیلات ابھی تکنیکی کمیٹیاں مرتب کریں گی۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ مالی معاونت براہِ راست این ایف سی حصے میں کمی کی صورت میں نہیں ہوگی بلکہ اخراجات کی نئی ترجیحات، ترقیاتی فنڈز کی ازسرِ نو تقسیم، وفاقی منصوبوں میں صوبائی شراکت داری اور دیگر انتظامی اقدامات کے ذریعے ممکن بنائی جائے گی۔

سینئر صحافی انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق بجٹ 2026-27 کی پیشی میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ بھی یہی اختلافات بتائے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی مسلسل اس مؤقف پر قائم رہی کہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی کو کسی صورت متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ دونوں معاملات پارٹی کی سیاسی شناخت اور عوامی حمایت سے جڑے ہوئے ہیں۔ سندھ حکومت بھی ماضی میں این ایف سی فارمولے میں کسی بھی تبدیلی کی سخت مخالفت کرتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند برسوں سے بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والے وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ وفاق کے پاس اخراجات پورے کرنے کیلئے محدود وسائل باقی رہ گئے ہیں۔ اسی بنیاد پر نئے این ایف سی ایوارڈ یا موجودہ فارمولے میں تبدیلی کی تجاویز بھی سامنے آتی رہی ہیں، لیکن سیاسی مزاحمت کے باعث اس سمت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات میں پیپلز پارٹی نے واضح کیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ ہے اور اس کی فنڈنگ یا دائرہ کار میں کمی قابل قبول نہیں ہوگی۔ چنانچہ اس پروگرام کو مکمل تحفظ فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو اس بات پر قائل کیا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں صوبوں کو بھی وفاقی مالی دباؤ کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم رہے اور قومی مالیاتی نظام میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ مجوزہ مالیاتی فریم ورک حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اسے وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون کی ایک نئی مثال قرار دیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف وفاقی حکومت کو فوری مالی ریلیف مل سکتا ہے بلکہ این ایف سی ایوارڈ اور بی آئی ایس پی جیسے حساس سیاسی معاملات پر ممکنہ تصادم سے بھی بچا جا سکے گا۔ تاہم اس مفاہمت کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تکنیکی کمیٹیاں کس نوعیت کا قابلِ عمل اور قابلِ قبول مالیاتی فارمولا پیش کرتی ہیں

Back to top button