’علم وشعور‘ کا بحران

تحریر: مظہر عباس
بشکریہ: روزنامہ جنگ
کئی لحاظ سے ’ سیاسی بحران‘ یا معاشی بحران سے زیادہ خطرناک ’علم وشعور‘ یا ’تنقیدی شعور‘ کا بحران ہوتاہے۔جو معاشرہ ایسے بحران سے گزر رہا ہو وہاں ایسے ہی حکمراں یا ان کے وارث آتے ہیں جو سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرتے ۔ آج ہمیں ایسے ہی بحران کا سامنا ہے جب اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تنقید اور سوالات پرہی پابندی ہو، جب وائس چانسلر کو زیادہ فکر جامعہ کی ’زمین‘ کی ہو ’ تعلیم‘ اور ’ علم وشعور‘ کی نہیں تو وہاں معاشرہ آگے کی طرف نہیں زوال کی طرف جاتا ہے۔ایک وقت تھا جب حکمرانوں کی نظر میں پروفیسر کا اعلیٰ مقام ہوتا تھا۔ یہ رحجان بائیں بازو کے سیاستدانوں میں زیادہ پایا گیا، جس کا اندازہ آپ اس واقعے سے بھی لگا سکتے ہیں کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سردار عطا اللہ مینگل اور گورنر میر غوث بخش بزنجو خود پروفیسر کرار حسین کا استقبال کرنے ائیر پورٹ پر گئے جب کرار صاحب نے میر صاحب کی بلوچستان یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے کی درخواست قبول کرلی، اس شرط کے ساتھ کہ جامعہ کے معاملات میں سرکاری مداخلت نہیں ہوگی۔ ویسے تو کرار صاحب کو جامعہ کراچی کا بھی وائس چانسلر ہونا چاہئے تھا مگر یہاں کا حال تو یہ ہے کہ جب پروفیسر ممتاز حسین کو وائس چانسلر بنانے کی سفارش کی گئی توایک ’ ایجنسی‘ نے رپورٹ دی کہ وہ کمیونسٹ خیالات کے ہیں لہٰذا اس منصب کے اہل نہیں۔اب اس رپورٹ کا کیا رونا جب ’ستارہ امتیاز‘ دینے والوں کو ہی کرار صاحب کے مرتبےکا علم نہ ہو۔ایک بار سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب1977ءمیں اپنے خلاف تحریک کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ملک میں شراب پر پابندی اور جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا اور پھر رائے عامہ معلوم کرنے کیلئے ملک کا دورہ کیا۔اسی دوران کوئٹہ میں ایک اجلاس کے دوران بھٹو صاحب نے پروفیسر کرار کی رائے مانگی تو کرار صاحب نے کہا،’’بھٹو صاحب آپ کا یہ فیصلہ سیاسی زیادہ اور شعوری کم نظر آتا ہے۔ دوسرا اس کا سیاسی فائدہ آپ کو نہیں اپوزیشن اور ان کے بیانیہ کو پہنچے گا‘‘۔ڈاکٹر محمود حسین جب جامعہ کراچی کے وائس چانسلر تھے تو ایک بار پولیس جامعہ کے اندر آگئی ڈاکٹر صاحب اپنے دفتر سے نیچے آئے اور فوری طور پر پولیس کو یونیورسٹی سے نکل جانے کا کہا۔ اب تو پچھلے چالیس سال سے پولیس کیا رینجرز موجود ہے قصور ان کا بھی نہیں جس طرح کے وائس چانسلر آئے وہ انتظامی لحاظ سے کمزور ثابت ہوئے اب تواس شہر کراچی میں کیا پورے صوبہ سندھ میں ایک نظر ڈالیں تو اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارا تعلیمی نظام کہاں کھڑا ہے کتنی اور کس حد تک سیاسی مداخلت موجود ہے۔ اور سندھ ہی کیا پورے ملک کی جامعات خاص طور پر سرکاری جامعات پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوجائیگا ۔ جس طرح ہمارے یہاں پی۔ایچ۔ڈی بنائے جارہے ہیں اگریہی معیار رہا تو اللہ خیر کرے کیونکہ ملک سیاسی بحران یا معاشی بحران سے تو نکل سکتا ہے مگر ’ علمی ‘بحران زیادہ عرصہ برقرار رہا تو یہ نسلیں تباہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا اگر آج کا شاعر وادیب یاپروفیسر بشمول وائس چانسلر ’ سرکاری دربار‘میں حاضری دیتے ہیں تو پھر جامعات میں نہ’’تنقیدی شعور‘‘ کی اجازت ہوگی اور نہ ہی تنقیدی سوالات کی۔سوال کرنے، تنقیدی سوچ اور تنقیدی شعور کو روکنےکیلئے کئی دہائیوں سے ایک خاص پالیسی پر عمل ہورہا ہے کبھی مذہبی انتہا پسندی کا سہارا لیا جاتا ہے اور ہر دوسرے ایسے پروگرام کی یا تو اجازت نہیں ملتی اور اگر کہیں ہوبھی جائے تو ایسے طالبعلموں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اب تو خیر اس حد تک ’علم وشعور‘ کی پہچان ان اداروں کو ہے کہ ایسے پروگرام کیلئے پہلے این او سی کی شرط لگا دی گئی ہےاور اس پر ’ زیادہ تنقیدی‘ سوالات کی اجازت بھی نہیں۔

معاشرے میرٹ،علم وادب،شعور اورتنقیدی شعور سے آگے بڑھتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب خود اس شہر کراچی کی پہچان جامعہ کراچی، این ای ڈی، ڈاؤ میڈیکل کالج، سندھ میڈیکل کالج، آدم جی، سینٹ جوزف، کامرس کالج، ڈی جے سائنس، ایس ایم لاکالج ہوا کرتے تھے۔ کراچی سے آگے نکل جائیں تو حیدرآباد میں خود سندھ یونیورسٹی، جامشورو میڈیکل کالج، اور اس طرح لاڑکانہ تک چلے جائیں، صوبے سے باہر پنجاب ہو یا کے پی وہاں کا تعلیمی معیار ایک زمانے میں کیا ہوتاتھا۔ بلوچستان کی مثال میں پہلے ہی دے چکا ہوں۔’ علم وشعور‘ کا معیار زوال پذیر ہوا تو اس کا اثر سب اداروں پر آیا ۔ اسی لیے نہ ہم اچھے اور قابل پروفیسر سامنےلا پارہے ہیں نہ ہی شاگرد، ’ سوچ‘ کا بحران ’ سیاسی بحران‘ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک کتاب’100‘ پڑھنے کا موقع ملا۔ مصنف شاہ رخ ندیم نے بہت خوبصورتی اور مکمل تحقیق کے بعد ہمیں خبردار کیا ہے کہ جب پاکستان ایک سو سال کا ہوجائے گا تو اگر ’تنقید شعور‘‘یا سوالات کرنے پر پابندی رہی خاص طور پر تعلیمی اداروں میں اور ’سوچ‘ پر پابندی رہی تو شاید ہم آگے نہ بڑھ سکیں۔ ایک بہت ہی خوبصورت مثال اس نے بچوں کی دی۔ بڑے بچوں کو سوچنے اور سوالات کی اجازت نہیں دیتے بس انہیں حکم دیتے ہیںTo obeyیعنی بس وہ ہر بات مانیں سوال نہ کریں۔ ایسے معاملات پر ہمارے یہاں کم ہی لکھا گیا ہے۔ ہمارا سیاسی بحران اس وجہ سے بھی شدت اختیار کرتاجارہا ہے کہ نہ ہی حکمرانوں کو اور نہ ہی اپوزیشن کو ’اصل بحران‘ کا علم ہےجو معاشرےکو ایک ایسی سمت پر لے جارہے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ سیاسی بحران وقتی ہوتا ہے مگر ’ علمی بحران‘ نسلوں کو تباہ کرسکتا ہے۔

 

Back to top button