محاذ آرائی مہنگی پڑ گئی،PTIقیادت کا اب ترلہ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی حکمتِ عملی کے محاذ پر ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، صوبائی قیادت کی تصادم پر مبنی پالیسی کے باعث عمران خان، ان کی بہنوں اور اہلیہ بشریٰ بی بی کے لیے ریلیف حاصل کرنے کا اہم موقع ضائع ہوگیا۔ اب پی ٹی آئی قیادت دوبارہ حکام سے رابطے کرکے عمران خان کی بہنوں کی رہائی اور اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کی بحالی کی کوشش کر رہی ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نکل سکے گا یا نہیں۔

روزنامہ جنگ سے وابستہ انصار عباسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے حکام سے رابطہ کرکے عمران خان کی 3 بہنوں کی رہائی کی درخواست کی ہے، جن کی 30 روزہ نظر بندی کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ پارٹی بشریٰ بی بی سے اہلِ خانہ کی ملاقاتوں کی بحالی بھی چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، حالیہ احتجاجی کشیدگی کے دوران پارٹی قیادت ان معاملات پر رعایت حاصل کرنے کا موقع گنوا بیٹھی۔ذرائع کے مطابق اس صورتِ حال کی ایک وجہ اُس وقت کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں خیبرپختونخوا کی صوبائی قیادت کا جارحانہ طرزِ عمل تھا۔ بعض رہنماؤں کو توقع تھی کہ وفاقی حکومت ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے سے گریز کرے گی، کیونکہ ان کے خیال میں ایسے اقدام سے صوبے میں بڑے پیمانے پر عوامی ردِعمل پیدا ہوگا۔ لیکن یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا اور وفاقی مداخلت کے بعد پارٹی کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا پڑی۔

مبصرین کے مطابق، اس معاملے میں پی ٹی آئی کی ایک بڑی کمزوری زمینی حالات اور مخالف فریق کے عزم کا درست اندازہ نہ لگانا تھی۔ رپورٹ کے مطابق، حکام سے رابطے میں رہنے والے بعض افراد پہلے ہی خبردار کر رہے تھے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ حتمی ہے اور مجوزہ مارچ اور سکیورٹی صورتِ حال پر تحفظات دور کیے بغیر کسی سمجھوتے کا امکان کم ہے۔ اس کے باوجود صوبائی قیادت نے عوامی حمایت سے وفاقی فیصلے کو تبدیل کرانے کی امید باندھے رکھی۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد صوبے میں احتجاج کے 16 واقعات ریکارڈ ہوئے اور شرکا کی اوسط تعداد 100 سے کم رہی۔ صرف باڑہ میں 13 اکتوبر کے ایک اجتماع میں شرکا کی تعداد 500 سے زیادہ بتائی گئی، جو پولیس کارروائی کے بعد منتشر ہوگیا۔ یہ اعدادوشمار اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ صوبائی قیادت کی جانب سے جس بڑے عوامی ردِعمل کی توقع کی جا رہی تھی، وہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری جانب مبصرین کے مطابق اگرچہ پی ٹی آئی نے وفاقی مداخلت اور دہشت گردی سے نمٹنے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس اقدام کو سیاسی محرکات کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ تاہم، پارٹی کے اندر موقع ضائع ہونے کا اعتراف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محض سخت بیانات اور تصادم کی حکمتِ عملی سے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ اب عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ریلیف کی کوششوں میں مذاکرات اور حکام سے رابطوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی لا کر عمران خان اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے عملی ریلیف حاصل کر سکے گی، یا سیاسی محاذ آرائی ایک بار پھر ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنے گی؟ موجودہ صورتِ حال پارٹی قیادت کے لیے سیاسی دباؤ اور مذاکرات کے درمیان درست راستہ اختیار کرنے کا امتحان ہے۔

Back to top button