حکومت نے سابق اراکین اسمبلی کوتاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کا فیصلہ کیوں کیا؟

سینیٹ نے سابق ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹ کو تاحیات بلیو پاسپورٹ دینے کا بل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا ہے، جس سے عوامی نمائندوں کو عہدہ ختم ہونے کے بعد بھی خصوصی سفری سہولت حاصل ہو سکے گی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بھی یہ سہولت دینے کی تجویز پر شدید مخالفت ہوئی اور اسے واپس لے لیا گیا۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر سوال اٹھا دیا ہے کہ عوامی نمائندوں کو عہدہ ختم ہونے کے بعد تاحیات سرکاری مراعات دینا کس حد تک ضروری ہے، خصوصاً ایسے ملک میں جہاں عام شہریوں کو بنیادی سہولتوں اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ سینیٹر محمد عبدالقادر کی جانب سے پیش کردہ پاسپورٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کے تحت ہر وہ سابق رکنِ قومی اسمبلی یا سینیٹ بلیو پاسپورٹ رکھنے کا اہل ہوگا جس نے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہو۔ اس کے لیے پارلیمانی مدت پوری کرنا بھی ضروری نہیں ہوگا۔ بل کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے سابق پارلیمنٹیرینز کو دیگر اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کے برابر مراعات ملیں گی، تاہم تاحیات سہولت کی ضرورت اور اس کے دائرۂ کار پر بحث اپنی جگہ موجود ہے۔

بل پر بحث کے دوران ارکانِ پارلیمنٹ کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ دینے کی تجویز پر اختلافات نمایاں ہوئے۔ وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سمیت دیگر ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق، بلیو پاسپورٹ سرکاری حیثیت کی علامت ہے اور بچوں کو اپنی شناخت اور مقام خود بنانا چاہیے۔ طلال چوہدری نے بتایا کہ حکومت حال ہی میں 30 ہزار سے زائد بلیو پاسپورٹ منسوخ کر چکی ہے، جبکہ گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسران کے بچوں کو جاری کیے گئے بلیو پاسپورٹس ختم کرنے کے لیے بھی قانون سازی کی جائے گی۔

مبصرین کے مطابق، اس معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ ایک طرف حکومت بلیو پاسپورٹس کی تعداد محدود کرنے اور غیر ضروری مراعات ختم کرنے کی بات کر رہی ہے، تو دوسری طرف سابق ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے اس سہولت کو تاحیات بنانے کی منظوری دی جا رہی ہے۔ اگر سرکاری پاسپورٹ کا بنیادی مقصد سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کرنا ہے تو عہدہ ختم ہونے کے بعد اس حق کو مستقل برقرار رکھنے کی دلیل اور حدود واضح ہونا ضروری ہیں۔

اجلاس میں پاسپورٹ کی تجدید اور این او سی کے معاملے پر بھی اختلاف سامنے آیا۔ عابد شیر علی نے ارکانِ پارلیمنٹ کو درپیش مشکلات پر اعتراض کیا، جبکہ اعظم نذیر تارڑ اور طلال چوہدری نے وضاحت کی کہ ارکان کو وزارتِ داخلہ سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں، بلکہ متعلقہ ایوان کے سربراہ کا تصدیقی سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے۔ بعض ارکان نے بلیو پاسپورٹ کی تجدید کی مدت بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ بلیو پاسپورٹ مخصوص سرکاری عہدے داروں اور اہل افراد کو سرکاری حیثیت میں بیرونِ ملک سفر کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ بعض ممالک میں اس کے حامل افراد کو ویزا یا امیگریشن سے متعلق سہولتیں مل سکتی ہیں، تاہم یہ فوائد ہر ملک میں یکساں نہیں ہوتے اور بلیو پاسپورٹ خودبخود عالمی سطح پر ویزا استثنیٰ یا خصوصی مراعات کی ضمانت نہیں دیتا۔

اصل سوال یہ ہے کہ سابق عوامی نمائندوں کے لیے تاحیات مراعات کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ اگر ایسی سہولت سرکاری فرائض کی ادائیگی سے منسلک ہے تو اسے عہدے کی مدت کے بعد مستقل جاری رکھنے کی ضرورت پر شفاف وضاحت ہونی چاہیے۔ قانون سازی میں عوامی مفاد، سرکاری اخراجات اور مراعات کے یکساں اصولوں کو اہمیت دینا ضروری ہے، تاکہ ریاستی سہولتیں کسی مخصوص طبقے کے مستقل استحقاق کے بجائے واضح اور قابلِ جواز قواعد کے تحت دی جائیں

Back to top button