خبردار! ویلے پارکنگ سروس آپ کو گاڑی سے محروم بھی کر سکتی ہے

فیصل آباد میں کاروباری شخصیت ریحان اشرف کا ویلے پارکنگ کے دوران گاڑی چوری کی کوشش میں قتل ایک سنگین واقعہ ہے، جس نے ہوٹلوں، ریسٹورینٹس اور دیگر کاروباری مراکز میں گاڑیاں پارک کرنے کے لیے استعمال ہونے والی اس سہولت کی حفاظت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جس سروس پر شہری اپنی گاڑیوں اور قیمتی سامان کی حفاظت کا بھروسا کرتے ہیں، اگر اسی کے دوران جان چلی جائے تو معاملہ محض گاڑی چوری کا نہیں رہتا بلکہ صارفین کے تحفظ، ملازمین کی جانچ پڑتال اور انتظامی نگرانی کا بھی بن جاتا ہے۔

ویلے پارکنگ سروس میں صارف اپنی گاڑی کی چابیاں ایک ملازم کے حوالے کرتا ہے، جو گاڑی پارک کرتا ہے اور واپسی پر اسے مالک کے حوالے کر دیتا ہے۔ یہ سہولت بظاہر آسان ہے، لیکن اس پورے نظام کی بنیاد اعتماد پر ہے۔ گاڑی کی چابی، اس کے اندر موجود قیمتی سامان اور بعض اوقات ذاتی دستاویزات تک رسائی ایک ایسے شخص کو مل جاتی ہے جسے صارف عموماً ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ اس لیے ملازمین کی تصدیق، تربیت اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ بنیادی حفاظتی ضرورت ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق 17 اکتوبر کی رات ریحان اشرف اپنے بھائی اور کزنز کے ساتھ ڈنر کے لیے چناب کلب پہنچے اور گاڑی ویلے اٹینڈنٹ کے حوالے کی۔ کچھ ہی دیر بعد گاڑی میں نصب ٹریکر سے اطلاع ملی کہ گاڑی اپنی جگہ سے حرکت کر چکی ہے۔ وہ پارکنگ میں پہنچے تو نہ گاڑی موجود تھی اور نہ ہی چابیاں لینے والا اٹینڈنٹ۔ ٹریکر کمپنی سے گاڑی کی براہِ راست لوکیشن حاصل کرنے کے بعد وہ اس کا پیچھا کرنے روانہ ہوئے، لیکن ایف آئی آر کے مطابق مبینہ ویلے اٹینڈنٹ نے انہیں گولی مار دی، جو گردن پر لگی اور ان کی موت واقع ہو گئی۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے، اس لیے واقعے کی تمام تفصیلات اور ذمہ داری کا تعین تفتیش کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

مبصرین کے مطابق اس واقعے نے ایک بنیادی سوال کو نمایاں کیا ہے: کیا ویلے پارکنگ فراہم کرنے والی ہر کمپنی اپنے ملازمین کی جانچ پڑتال، گاڑیوں کی حوالگی اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مؤثر نظام رکھتی ہے؟ ایک نجی کمپنی کے مالک کے مطابق ان کے ہاں ملازمین کے لیے ڈرائیونگ لائسنس اور پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ ضروری ہیں، جبکہ کمپنی متعلقہ سرکاری اداروں میں رجسٹرڈ ہوتی ہے۔ تاہم، کسی کمپنی کا رجسٹرڈ ہونا یا ملازم کا سرٹیفکیٹ رکھنا بذاتِ خود اس بات کی ضمانت نہیں کہ ہر گاڑی محفوظ رہے گی یا کسی ہنگامی صورتِ حال میں بروقت کارروائی ہو سکے گی۔

حکام کے مطابق نجی ریسٹورینٹس، ہوٹلز اور شاپنگ مالز میں ویلے پارکنگ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ضلعی انتظامیہ سے لائسنس لینا ہوتا ہے اور ملازمین کے کوائف بھی جمع کرانا ہوتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کوئی شخص ذاتی حیثیت میں یہ سروس فراہم کرنے کا مجاز نہیں۔ اگر یہی اصول متعلقہ علاقوں میں نافذ ہے تو اس پر عمل درآمد، باقاعدہ معائنوں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اصل سوال صرف ضابطوں کی موجودگی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ان پر کتنی سختی سے عمل ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں ویلے پارکنگ کی حفاظت کا جائزہ صرف ملازمین کی بھرتی تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ گاڑی وصول کرتے وقت رسید یا شناختی پرچی، چابیوں کی محفوظ تحویل، ملازمین کی واضح شناخت، نگرانی کے کیمرے، گاڑی کی آمد و رفت کا ریکارڈ اور شکایت کی صورت میں فوری رابطے کا نظام بھی ضروری ہے۔ ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ گاڑی چوری، نقصان یا کسی مجرمانہ واقعے کی صورت میں صارف کس سے رابطہ کرے گا اور ادارے کی ذمہ داری کیا ہوگی۔

مبصرین کے مطابق ریحان اشرف کا قتل اس حقیقت کی تلخ یاد دہانی ہے کہ سہولت کے نام پر فراہم کی جانے والی کوئی بھی سروس حفاظتی تقاضوں سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتی۔ ویلے پارکنگ بذاتِ خود غیر محفوظ سروس نہیں، لیکن اس کی حفاظت کا انحصار کمپنی کے معیار، ملازمین کی تصدیق، نگرانی اور جواب دہی پر ہے۔ اس واقعے کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور ویلے پارکنگ کے انتظامات کا مؤثر جائزہ ضروری ہے تاکہ شہری اپنی گاڑی کسی کے حوالے کرتے وقت صرف رسید نہیں بلکہ حقیقی تحفظ کا احساس بھی حاصل کر سکیں۔

Back to top button