پاک ایران تجارت کی فوری معطلی کی اصل وجہ کیا؟

پاکستان اور ایران کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہوں پر تجارتی سرگرمیاں کی معطلی سے بلوچستان کی سرحدی معیشت اور دونوں ممالک کے تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرحد کے دونوں جانب ہزاروں مال بردار گاڑیوں اور کنٹینرز کے پھنسنے، خراب ہونے والی اشیا کے ضائع ہونے اور پہلے سے ادائیگی شدہ سامان کی ترسیل رک جانے نے اس فیصلے کے معاشی اثرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ تجارت کی بندش کی وجوہات پر پاکستان اور ایران کی جانب سے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں، جبکہ تاجروں کو اب تک ایسی واضح پالیسی نہیں مل سکی جس کی بنیاد پر وہ اپنے کاروباری فیصلے کر سکیں۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق سرحدی گزرگاہوں کی بندش کا مقصد سکیورٹی خدشات دور کرنا، اسمگلنگ روکنا اور سرحدی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس اقدام کو بعض تکنیکی مسائل کے باعث ضروری قرار دیا۔ دونوں ممالک نے بندش کو عارضی قرار دیا، لیکن تاجروں کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ تجارت کب بحال ہوگی اور اس دوران ہونے والے نقصان کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں معاملے کی پیچیدگی اس وجہ سے بھی بڑھ گئی ہے کہ سرحدی تجارت کی معطلی سے صرف سامان کی آمدورفت نہیں رکی بلکہ کاروباری ادائیگیاں، سپلائی چین اور تاجروں کے آئندہ معاہدے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شمس الحق کے مطابق گبد ریمدان بارڈر پر پاکستان کی جانب تقریباً 1500 گاڑیاں کھڑی تھیں، جن میں چاول، آلو اور کیلے سمیت مختلف اشیا لدی ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب بھی تقریباً 3000 کنٹینرز پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ایل پی جی سمیت ضروری سامان کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ اگر بندش طویل ہوئی تو خراب ہونے والی اشیا کے نقصان کے ساتھ تاجروں کے مالی مسائل بھی سنگین ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق اس بحران کا ایک اہم پہلو پاکستان کی وزارت تجارت کی جانب سے الیکٹرانک امپورٹ فارم سے استثنیٰ کی منسوخی ہے۔ یہ سہولت ایران سے زمینی راستے کے ذریعے درآمدات میں ادائیگیوں اور کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو آسان بنانے کے لیے دی گئی تھی۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس استثنیٰ کی واپسی سے درآمدات کو معمول کے ضابطوں اور محصولات کے نظام میں لانے، سرکاری آمدنی بڑھانے اور سستے ایرانی سامان کی آمد کو محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، اس تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیے بغیر اچانک تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے کاروباری غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔

سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ تجارت کا معاملہ محض سرحد کھولنے یا بند کرنے تک محدود نہیں۔ ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کے باعث بینکاری اور ادائیگیوں کے معاملات پیچیدہ ہیں، اسی لیے سرحدی تجارت میں مختلف سہولتیں اور رعایتیں دی جاتی رہی ہیں۔ دوسری جانب مقامی صنعتوں کو یہ شکایت بھی رہی ہے کہ کم قیمت ایرانی مصنوعات ان کے لیے مسابقتی مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ اس طرح حکومت کو محصولات، مقامی صنعت کے تحفظ، اسمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی علاقوں کے روزگار کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ لیکن واضح اور مستقل پالیسی کے بغیر بار بار بدلتے ضابطے قانونی تجارت کرنے والوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تجارت کی حقیقی اہمیت سمجھنے کے لیے سرکاری اعداد و شمار کی محدودیت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہی، جس میں پاکستان کی برآمدات 684 ملین ڈالر اور درآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر تھیں۔ تاہم، غیر رسمی تجارت اور بعض سامان کی منزل کے بارے میں مختلف اندراجات کے باعث حقیقی تجارتی حجم کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اس صورت حال میں سرحدی تجارت کے لیے قابلِ اعتماد اعداد و شمار اور شفاف نظام کی تشکیل مزید ضروری ہو جاتی ہے۔

سرحدی تجارت کی معطلی پر کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ واضح پالیسی سامنے آنے اور درآمدی سہولت کی بحالی تک ایران سے نئی خریداری اور مال کی بکنگ سے گریز کریں۔ یہ ہدایت اس بات کی علامت ہے کہ کاروباری حلقوں میں غیر یقینی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ سرحدی بندش کی وجوہات، متوقع مدت اور درآمدی ضابطوں کے بارے میں واضح مؤقف دے، خراب ہونے والی اشیا سے متعلق مناسب انتظامات کرے اور تاجروں کو پیشگی اطلاع دینے کا قابلِ عمل طریقۂ کار وضع کرے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کی بحالی دونوں ممالک کے معاشی مفاد میں ہو سکتی ہے، لیکن پائیدار حل کے لیے صرف سرحد کھولنا کافی نہیں ہوگا۔ اسمگلنگ کی روک تھام، قانونی تجارت کی سہولت، بینکاری پابندیوں سے پیدا ہونے والی مشکلات اور مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے مربوط حکمت عملی درکار ہے۔ اگر ہر نئی پابندی یا انتظامی تبدیلی کے ساتھ تجارت اچانک رک جاتی ہے تو اس کا بوجھ بالآخر تاجروں، ٹرانسپورٹرز، سرحدی علاقوں کے کاروبار اور صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے۔

Back to top button