بلوں میں چھپے بیٹھے یوتھیے اب KPKسے واپس کیوں بھاگنے لگے؟

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ان رہنماؤں اور کارکنوں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں جنہوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پشاور اور صوبے کے دیگر علاقوں میں پناہ لے رکھی تھی۔ پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں عہدیداروں، کارکنوں اور بعض ارکان اسمبلی کے لیے اب یہاں قیام برقرار رکھنا مشکل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ بیشتر اپنے آبائی علاقوں کو واپس لوٹ گئے ہیں یا واپسی پر غور کر رہے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے حالیہ لانگ مارچ کی ناکامی نے پارٹی کی تنظیمی کمزوریوں، ناقص منصوبہ بندی اور قیادت کے درمیان اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں کارکنوں کی کم تعداد، انتظامی ناکامیوں اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے۔ یوں ایک طرف پارٹی کو سیاسی اور تنظیمی مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری جانب خیبر پختونخوا میں اس کے لیے دستیاب پناہ گاہیں بھی محدود ہونے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق، پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے سیکڑوں عہدیداروں اور کارکنوں سمیت متعدد ارکان اسمبلی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پشاور میں قیام کر رکھا تھا۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد ان میں سے بیشتر واپس اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ گئے ہیں، جبکہ صوبے میں موجود دیگر رہنما بھی واپسی پر غور کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سانحہ 9 مئی سمیت مختلف مقدمات میں مطلوب بعض اہم رہنماؤں کے خیبر پختونخوا میں روپوش ہونے کی اطلاعات بھی ہیں، جن میں میاں اسلم اقبال، شیخ وقاص اکرم، شبلی فراز اور کنول شوذب کے نام شامل ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں، خیبر پختونخوا کو سیاسی کارکنوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ سمجھنے کا تاثر اب دباؤ کا شکار ہے۔ تاہم، گورنر راج اور ایمرجنسی کے قانونی و سیاسی اثرات کا جائزہ الگ معاملہ ہے، جبکہ کسی فرد کی گرفتاری یا مقدمے میں مطلوب ہونے کی بنیاد پر اس کے جرم کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ صوبے کی انتظامی تبدیلیاں سیاسی سرگرمیوں، مطلوب افراد کی قانونی حیثیت اور امن و امان کی صورت حال پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں حالیہ لانگ مارچ کی ناکامی پر قیادت، ناقص منصوبہ بندی اور رابطوں کے فقدان سے متعلق سخت سوالات اٹھائے گئے۔ ذرائع کے مطابق، چارسدہ میں تقریباً 2 ہزار افراد جبکہ مردان میں صرف 150 سے 200 افراد کی موجودگی کا ذکر کیا گیا۔ کارکنوں کی کم تعداد، شرکا کے لیے مناسب انتظامات کی عدم موجودگی اور واضح حکمت عملی کے فقدان کو مارچ کی ناکامی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا۔ صوابی میں قیام کے دوران خیموں اور دیگر ضروری انتظامات کی کمی پر بھی تحفظات سامنے آئے، جبکہ سہیل آفریدی کی جانب سے تیاریوں کے بارے میں یقین دہانیوں کے باوجود عملی صورت حال توقعات کے مطابق نہ ہونے کی شکایات کی گئیں۔
مبصرین کے مطابق، اجلاس میں ناکامی کی ذمہ داری صرف ارکان اسمبلی پر ڈالنے کے بجائے قیادت اور منصوبہ بندی کا جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ بعض رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ذمہ داریاں واضح طور پر تقسیم نہیں کی گئیں تو پھر کارکردگی کا احتساب کیسے ممکن ہوگا؟ بیرسٹر سیف کو مخصوص ذمہ داریاں دینے، سیاسی کمیٹی ختم کرکے فیصلوں کا اختیار پارلیمانی پارٹی کو منتقل کرنے اور پارٹی کو پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔
اجلاس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک رکن کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ نے پارٹی کو ایسا نقصان پہنچایا جو شاید 9 مئی کے بعد بھی نہیں ہوا تھا۔ پنجاب میں ایک ہزار سے زائد افراد کو اٹھائے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا اور کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں پناہ لینا کارکنوں کے لیے ایک سہارا تھا، جو اب متاثر ہو رہا ہے۔ اجلاس میں محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی، لیکن یہ مؤقف سامنے آیا کہ دونوں رہنماؤں کی تقرری عمران خان نے کی تھی، اس لیے تبدیلی کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔
دوسری جانب صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کو بیک وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے: مطلوب رہنماؤں اور کارکنوں کی قانونی مشکلات، خیبر پختونخوا میں بدلتی انتظامی صورت حال، لانگ مارچ کی ناکامی اور پارٹی کے اندر فیصلہ سازی پر بڑھتے سوالات۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ پارٹی اپنی تنظیمی کمزوریوں پر قابو پانے، قیادت کے اختلافات کم کرنے اور کارکنوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔
