PTIلانگ مارچ کے نام پرجمع کروڑوں روپے کون کھا گیا؟
خیبر پختونخوا سے اعلان کردہ لانگ مارچ مطلوبہ عوامی قوت کا مظاہرہ نہ کر سکا، لیکن اس کے لیے جمع ہونے والے کروڑوں روپے کا معاملہ اب خود پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک نیا سوال بن گیا ہے۔ چندے کی رقم 4 کروڑ سے شروع ہو کر 10 کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کے دعووں تک پہنچ گئی، جبکہ پارٹی کے بعض رہنما 85 کروڑ روپے کے فنڈ اور اس میں سے 50 کروڑ روپے کے حساب پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ کہیں بینک اکاؤنٹ بلاک ہونے کی بات ہے، کہیں بیرونِ ملک پاکستانیوں سے براہِ راست مالی تعاون لینے کا معاملہ زیر بحث ہے اور کہیں پارٹی فنڈز کے استعمال پر پرانے الزامات دوبارہ سامنے آ رہے ہیں۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ کے نام پر کتنی رقم جمع ہوئی، کہاں خرچ ہوئی، کتنی رقم اکاؤنٹ میں موجود ہے اور اس کا مکمل حساب پارٹی کارکنوں اور چندہ دینے والوں کے سامنے کیوں نہیں رکھا جا رہا؟ جب چندہ دینے والے عام شہری اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہوں تو مالی شفافیت محض اندرونی تنظیمی معاملہ نہیں رہتی، بلکہ اعتماد اور جواب دہی کا بنیادی تقاضا بن جاتی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے لانگ مارچ کی ناکامی کے اسباب جاننے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، لیکن اس احتجاج کے لیے جمع کیے گئے چندے کا معاملہ اب پارٹی کی کور کمیٹی میں بحث کا اصل موضوع بن گیا ہے جس کے حوالے سے جامع تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، بعض اطلاعات کے مطابق، چندے کی رقم کا ایک حصہ سہیل آفریدی کے قریبی ساتھیوں کے ذاتی اکاؤنٹس میں جمع ہوا۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی جماعت کے نام پر جمع ہونے والی رقم ذاتی اکاؤنٹس میں کیوں منتقل ہوئی اور اس کے استعمال کی نگرانی کس کے پاس تھی؟ تجزیہ کاروں کے خیال میں، لانگ مارچ کی ناکامی اور چندے کی مالی شفافیت دو الگ معاملات ہیں۔ تاہم، اگر احتجاج میں شرکا کی تعداد توقعات سے کم رہی اور انتظامات بھی محدود تھے تو اخراجات کی تفصیلات سامنے آنا مزید ضروری ہو جاتا ہے۔ محض احتجاج کی ناکامی سے خوردبرد ثابت نہیں ہوتی، لیکن جمع ہونے والی رقم اور اس کے استعمال کا مستند حساب نہ دینا شکوک و شبہات کو ضرور بڑھاتا ہے۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق، 4 اکتوبر کو اعلان کردہ لانگ مارچ سے 2 روز قبل پشاور میں فنڈ ریزنگ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے بتایا تھا کہ 4 کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی حامیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید 3 دن چندہ جمع کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔ واقفانِ حال کے حوالے سے مجموعی رقم 10 کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
پی ٹی آئی کے سابق ڈپٹی سیکریٹری اور سابق کوآرڈینیٹر برائے وزیراعلیٰ خالد خان سپاری کے مطابق، لانگ مارچ کے لیے مخصوص بینک اکاؤنٹ میں 10 کروڑ روپے جمع ہوئے تھے، لیکن رقم نکلنے سے پہلے اکاؤنٹ بلاک ہو گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں پارلیمنٹیرینز کے ماہانہ عطیات اور پہلے سے موجود رقم بھی شامل تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض مرکزی رہنماؤں نے اکاؤنٹ شیئر کرنے پر اعتراض کیا تھا، جبکہ سلمان اکرم راجہ نے اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کیں،رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی اوورسیز کے سربراہ سجاد برکی کی اجازت کے بغیر بیرونِ ملک پاکستانیوں کا آن لائن اجلاس بلایا اور مالی تعاون طلب کیا، جس کے بعد مبینہ طور پر کروڑوں روپے براہِ راست انہیں بھیجے گئے۔ ان رقوم کی تفصیلات سامنے نہ آنے پر سجاد برکی کی جانب سے پارٹی کے اندر شدید احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا۔ مبصرین کے مطابق، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے عطیات کے استعمال کی مکمل تفصیلات جاری کرنا ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ رقم کہاں جمع ہوئی اور کس مقصد پر خرچ کی گئی۔
پی ٹی آئی کی سینیٹر مثال یوسفزئی نے بھی فنڈز کے معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے 85 کروڑ روپے کی رقم کا ذکر کیا اور پوچھا کہ 50 کروڑ روپے کہاں گئے اور انہیں کون استعمال کر رہا ہے؟ تاہم، 85 کروڑ، 50 کروڑ اور لانگ مارچ کے لیے جمع ہونے والے 10 کروڑ روپے کے دعووں میں واضح فرق ہے۔ یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ آیا ان اعداد و شمار کا تعلق ایک ہی فنڈ سے ہے یا مختلف مالی معاملات سے۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کے فنڈز کے استعمال پر سوالات پہلے بھی اٹھتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برس ایک نجی ٹی وی پروگرام میں پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نے دعویٰ کیا تھا کہ 26 نومبر کے احتجاج کے لیے 30 کروڑ روپے جمع کیے گئے، لیکن ان کا حساب سامنے نہیں آیا۔ شیر افضل مروت نے الزام لگایا تھا کہ یہ فنڈز علیمہ خان کے پاس گئے۔ تاہم، اس الزام کی آزادانہ تصدیق کے بغیر اسے ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان تمام معاملات کا حل الزام تراشی یا وضاحتوں سے گریز نہیں، بلکہ مکمل مالیاتی گوشواروں کی اشاعت ہے۔ پی ٹی آئی قیادت کو واضح کرنا چاہیے کہ کتنی رقم وصول ہوئی، کتنی خرچ کی گئی، کتنی بینک اکاؤنٹس میں موجود یا منجمد ہے اور کتنی رقم دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہوئی۔ اگر مالی معاملات درست ہیں تو دستاویزی حساب پیش کرنے سے شکوک دور ہو سکتے ہیں، اور اگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو تحقیقات کے ذریعے ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے۔ مبصرین کے بقول لانگ مارچ کی سیاسی کامیابی یا ناکامی اپنی جگہ، لیکن چندے کا حساب دینا ایک بنیادی ذمہ داری ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں اور پارٹی کارکنوں نے جس اعتماد کے ساتھ مالی تعاون کیا، اس کا تقاضا ہے کہ انہیں رقم کے استعمال کی واضح تفصیلات فراہم کی جائیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ لانگ مارچ کے نام پر جمع ہونے والے کروڑوں روپے کہاں گئے، اور ان کا مکمل حساب کب سامنے آئے گا؟
