فوج نہ چاہتی تو ہماری حکومت کیسے گر سکتی تھی؟

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے یہ بیان داغ کر عمران خان کے امریکی سازش والے بیانیے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں کہ اگر فوج نہ چاہتی تو ہماری حکومت کبھی نہیں گر سکتی تھی۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پاکستانی سیاست کی ایک بڑی پلیئر ہے وہ کیسے نیوٹرل ہو سکتی ہے، اگر عسکری ادارہ نہ چاہتا تو ہماری حکومت کیسے گر سکتی تھی۔ اے آر وائی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہمیشہ فوج اور عدلیہ نے مل کر حکومتیں تبدیل کی ہیں اور اس میں سیاستدانوں کا بھی قصور ہے جو رولز آف گیم طے نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’دل بہلانے کو تو ہم کہہ سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں فوج اور عدلیہ پولیٹیکل پلیئرز ہیں۔ انہوں نے ذوالفقار بھٹو جیسے شخص کو پھانسی لگا دی۔ یہ ظلم کی حد ہے۔

لندن میں جمائما کے گھر کے باہر ن لیگ کے مظاہرے شروع

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ن لیگ کیساتھ طے کر لیا گیا تھا کہ موجودہ اسمبلیاں توڑی جائیں گی۔ طےہوا تھا کہ ہم اسمبلی میں جائیں گے اور اسمبلیاں توڑی جائیں گی۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ موجودہ اسمبلیاں توڑنے کے بعد الیکشن کی کال دی جائے گی، لیکن راتوں رات ن لیگ اپنے مؤقف سے مکر گئی۔ فواد نے کہا کہ معاملات طے ہو گئے تھے۔ ن لیگ سمجھی لہ ہم کمزور ہو گئے ہیں تو وہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی۔

فواد نے کہا کہ اسوقت شریف اور زرداری خاندان کے ذاتی مسائل ہیں یہ دونوں خاندان چاہتے ہیں کہ ان کے کیسز معاف کر دیے جائیں۔ دونوں خاندانوں پر اربوں کے کیسز ہیں کیسے چھوڑا جا سکتا ہے دونوں پارٹیاں ان ہی دونوں خاندانوں کے زیر اثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جہاں نیوٹرل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نیب قانون میں جو ترامیم ہوئیں اگر ان پر بھی اداروں نےنیوٹرل ہونا ہےتو پھر تو صرف تباہی ہے۔

ہم اسٹیبلشمنٹ کو قصور وار کہتے ہیں، لیکن اصل قصور سیاستدانوں کا ہے۔ سابق وزیر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے انقلاب آگیا ہے۔ اب سب سچ عوام کو پتا چل جاتا ہے۔ ہمارے کئی لوگوں نے بتایا کہ انہیں فون آ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹس نہ لیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ میرا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ احترام کا تعلق ہے۔ بات یہاں تک نہیں پہنچنی چاہیے تھی۔ پاکستان میں بہت چیزیں خراب ہوکر ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی ٹھیک ہو جائے گی، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں گیم کے کوئی رولز ہے ہی نہیں، ساری کرسی کی سیاست ہے اور کرسی کی سیاست میں پاکستان آگے ہی نہیں بڑھ رہا۔

Related Articles

Back to top button