سہیل آفریدی دور میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں نے پنجے کیسے گاڑے؟

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی بگڑتی صورتحال نے صوبائی حکومت کی کارکردگی، انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی اور وفاق و صوبے کے درمیان رابطہ کاری پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے دورِ اقتدار میں صوبے میں دہشت گردی کے 3767 واقعات پیش آئے، جن میں 550 سکیورٹی اہلکاروں اور 599 شہریوں سمیت 1149 افراد شہید جبکہ 2595 زخمی ہوئے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق بحث جاری ہے اور صوبائی و وفاقی حکومتوں کے درمیان کشیدگی بھی نمایاں ہے۔

رپورٹ کے مطابق، شہید ہونے والوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 550 اہلکار اور 599 عام شہری شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 1704 سکیورٹی اہلکار اور 891 شہری ہیں۔ یہ اعداد و شمار صوبے میں امن و امان کی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، رپورٹ میں صوبائی طرزِ حکمرانی، انسدادِ دہشت گردی کی تیاریوں اور وفاقی سکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کو پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی استعداد بڑھانے، جدید آلات فراہم کرنے اور ریاستی عمل داری مضبوط بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس، پی ٹی آئی قیادت وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف نظر آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2024ء میں پی ٹی آئی کی قیادت میں صوبائی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 4 طویل مارچوں سمیت 18 بڑے احتجاجی پروگرام منعقد کیے گئے، جبکہ اسی عرصے میں صوبے میں عسکریت پسندی کے خطرات بڑھ رہے تھے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں سیاسی احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن صوبائی حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ انتظامی ذمہ داریوں، عوامی تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو مسلسل ترجیح دے۔رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2010ء سے 2026ء کے دوران صوبے کو انسدادِ دہشت گردی اور سکیورٹی اداروں کی مضبوطی کے لیے 800 ارب روپے سے زائد فراہم کیے گئے۔ اس کے باوجود جدید اسلحے، بکتر بند گاڑیوں، نگرانی کے آلات، خصوصی تربیت، تکنیکی عملے، فرانزک سہولتوں اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ نکات اس سوال کو اہم بناتے ہیں کہ مختص کیے گئے وسائل کس حد تک مؤثر انداز میں استعمال ہوئے، اداروں کی ضروریات کا تعین کیسے کیا گیا اور سکیورٹی نظام کو جدید بنانے میں کہاں رکاوٹیں پیش آئیں۔

رپورٹ میں عسکریت پسندی کی دوبارہ شدت کو جزوی طور پر 2021ء میں پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے عسکریت پسندوں کے ساتھ مفاہمت کی پالیسی سے بھی جوڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صوبائی حکومت پر انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کی محدود سیاسی سرپرستی اور سکیورٹی آپریشنز کی مخالفت کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، خیبر پختونخوا میں امن و امان کا بحران محض صوبائی حکومت کی کارکردگی تک محدود نہیں بلکہ اس کے قومی سلامتی، سرحد پار عسکریت پسندی اور وفاقی و صوبائی پالیسیوں سے بھی گہرے روابط ہیں۔ رپورٹ میں عالمی دہشت گردی اشاریہ 2026ء کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا گیا ہے۔ یہ تناظر ظاہر کرتا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے صرف سیاسی بیانات یا انتظامی اقدامات کافی نہیں، بلکہ مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط پولیس، تربیت یافتہ انسدادِ دہشت گردی ادارے اور مربوط قومی حکمت عملی بھی ضروری ہیں۔ مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو کم کرنے کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ 3767 واقعات، 1149 شہادتیں اور 2595 زخمی افراد کے اعداد و شمار محض سیاسی بحث کا موضوع نہیں، بلکہ ایک ایسے انسانی بحران کی عکاسی کرتے ہیں جس کا بوجھ عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں نے اٹھایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے دعوؤں کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو، صوبائی اور وفاقی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کریں اور سیاسی محاذ آرائی کے بجائے عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے۔

Back to top button