پارٹی میں بغاوت،PTIقیادت کی چھٹی کا مطالبہ زور کیوں پکڑنے لگا؟

گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف اس وقت محض وفاقی حکومت کے ساتھ نبردآزما نہیں بلکہ اپنی ہی صفوں میں بڑھتی بے چینی، ناکام سیاسی حکمت عملی اور قیادت پر اٹھتے سنگین سوالات کے باعث اندرونی بحران کی لپیٹ میں بھی آتی دکھائی دے رہی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی، گورنر راج کو عدالت میں چیلنج کرنے میں تاخیر، کارکنوں کی قانونی معاونت کے حوالے سے شکایات اور عمران خان تک رسائی کے معاملے پر پیدا ہونے والے تحفظات نے پارٹی کی قیادت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ باوثوق پارٹی ذرائع سے منسوب اطلاعات کے مطابق، بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کو عہدوں سے الگ ہونے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، جبکہ محمود خان اچکزئی پر بھی مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری عائد کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق، جب کسی جماعت کی قیادت اپنے سیاسی کارکنوں، منتخب نمائندوں اور مشکل حالات سے دوچار ساتھیوں کو مؤثر رہنمائی فراہم نہ کر سکے تو اختلافات محض شخصیات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری جماعت کی حکمت عملی اور فیصلہ سازی پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر بروقت قانونی کارروائی نہ ہونے کی شکایات نے پارٹی کے اندر موجود بے چینی کو مزید بڑھایا ہے۔ ذرائع کے مطابق، متعدد رہنماؤں کی جانب سے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پارٹی کے اندر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک بڑے سیاسی اور آئینی چیلنج کا سامنا تھا تو قیادت نے فوری اور مؤثر حکمت عملی کیوں اختیار نہیں کی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کسی جماعت کی قیادت کا امتحان صرف مشکل حالات میں بیانات جاری کرنا نہیں بلکہ بروقت فیصلے کرنا، قانونی راستے اختیار کرنا اور کارکنوں کو واضح سمت دینا بھی ہوتا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر بیرسٹر گوہر کی قیادت اور سلمان اکرم راجہ کی تنظیمی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تحریک انصاف میں فیصلہ سازی اور قیادت کے کردار پر اختلافات گہرے ہو رہے ہیں۔ ذرائع سے منسوب دعوے کے مطابق، بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ موجودہ قیادت بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقاتوں کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔ ان ذرائع نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملاقاتوں کا سلسلہ بحال ہونے کی صورت میں عمران خان موجودہ عہدیداروں کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کر سکتے ہیں۔
محمود خان اچکزئی بھی پارٹی کے اندر جاری اختلافات کی زد میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ان پر بھی عائد کی جا رہی ہے اور بعض پارٹی رہنماؤں کو ان کے کردار پر تحفظات ہیں۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں مذاکرات کے عمل میں ناکامی کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان اختلافات کن معاملات پر پیدا ہوئے، رابطوں میں کہاں تعطل آیا اور فیصلہ سازی کس سطح پر متاثر ہوئی۔ تاہم، اگر پارٹی کے اندر مذاکراتی حکمت عملی پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے تو یہ قیادت کے لیے ایک سنجیدہ تنظیمی چیلنج ہے۔
اس بحران کا ایک نہایت اہم پہلو ان کارکنوں کی صورتحال ہے جو مختلف مقدمات میں قید ہیں۔ رپورٹ میں پارٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے 8 ہزار سے زائد کارکن مختلف مقدمات میں جیلوں میں ہیں اور ان کے مقدمات کی پیروی کے لیے جماعت کی جانب سے مؤثر مدد فراہم نہیں کی جا رہی۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ پارٹی کی تنظیمی ترجیحات اور کارکنوں سے وابستگی کے حوالے سے ایک سنگین سوال ہے۔ مبصرین کے مطابق، سیاسی جماعت کی طاقت صرف قیادت کے عہدوں، جلسوں اور احتجاجی نعروں سے نہیں بلکہ اس اعتماد سے بھی قائم رہتی ہے جو کارکن مشکل وقت میں اپنی جماعت سے وابستہ رکھتے ہیں۔ کارکنوں کو قانونی معاونت اور ان کے مقدمات کی پیروی کے معاملے میں نظرانداز کیے جانے کی شکایات پارٹی کے اندر ناراضی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
تحریک انصاف کے موجودہ بحران میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا پارٹی قیادت اندرونی اختلافات کو دور کرنے، اپنی سیاسی حکمت عملی کا جائزہ لینے اور کارکنوں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے گی یا قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ مزید شدت اختیار کرے گا۔ گورنر راج کے معاملے پر قانونی پیش رفت، وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی حکمت عملی اور عمران خان سمیت قید کارکنوں سے متعلق معاملات ایسے امتحانات ہیں جن میں تاخیر اور غیر واضح فیصلے پارٹی کے اندر موجود بے اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور مذاکراتی حکمت عملی کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا واضح جواب دے۔ بصورت دیگر، بیرونی سیاسی دباؤ کے ساتھ اندرونی اختلافات بھی جماعت کے لیے ایک مستقل مسئلہ بن سکتے ہیں۔
