پاکستان میں روسی وزیر داخلہ، کابل میں انٹیلیجنس چیف؛ ماسکو کے اصل مقاصد کیا؟

روس کا ایک ہی وقت میں پاکستان اور افغانستان کے ساتھ اعلیٰ سطح کے رابطے بڑھانا خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی اور سکیورٹی صورتحال میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ایک جانب روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف پاکستان کے چار روزہ سرکاری دورے پر اہم پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کر رہے تھے، تو دوسری جانب روسی انٹیلیجنس ادارے کے سربراہ سرگئی نیرشکن کابل میں طالبان حکومت کے انٹیلیجنس چیف عبدالحق وثیق اور دیگر اعلیٰ حکام سے رابطے میں تھے۔ مبصرین کے مطابق یہ محض معمول کے سفارتی دورے نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ماسکو جنوبی ایشیا میں اپنے سکیورٹی اور سیاسی اثرورسوخ کو مزید فعال بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

روسی انٹیلیجنس چیف کا کابل دورہ ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں اور ماسکو میں ہونے والے علاقائی مشاورتی اجلاس میں دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہیں ہو سکا تھا۔ روس نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں ماسکو بیک وقت اسلام آباد اور کابل سے رابطے بڑھا کر خطے میں اپنے لیے ایک مؤثر سفارتی کردار پیدا کرنا چاہتا ہے، تاہم اس کا حقیقی مقصد اور کسی ممکنہ ثالثی کی حدود ابھی واضح نہیں۔

سرگئی نیرشکن کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ وہ 1990 کی دہائی میں سینٹ پیٹرزبرگ میں پوتن کے ساتھ کام کر چکے ہیں، بعد میں کریملن میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں اور روسی پارلیمان کے اسپیکر بھی رہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے اہم عہدیدار کا کابل پہنچنا اس بات کی علامت ہے کہ روس طالبان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض سیاسی رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے انٹیلیجنس اور سکیورٹی تعاون میں بھی وسعت دینا چاہتا ہے۔ تاہم، ملاقاتوں کے مخصوص ایجنڈے اور ان کے نتیجے میں طے پانے والے اقدامات کے بارے میں کوئی تفصیلی سرکاری معلومات سامنے نہیں آئیں۔

روس کی افغانستان میں دلچسپی کا ایک اہم سبب داعش خراسان سے متعلق سکیورٹی خدشات ہیں۔ ماہرین کے مطابق ماسکو اس تنظیم کو نہ صرف افغانستان بلکہ روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے بھی خطرہ سمجھتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی کہہ چکے ہیں کہ طالبان داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں روس اور طالبان حکومت کے درمیان سکیورٹی تعاون بڑھا ہے، جبکہ طالبان حکام نے روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو روسی فوجی سازوسامان اور ہتھیاروں کی دیکھ بھال سے متعلق قرار دیا ہے۔ دوسری جانب روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم بھی کر رکھا ہے، جس سے دونوں کے تعلقات کو مزید سیاسی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

لیکن پاکستان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ روس افغانستان میں تمام سکیورٹی خطرات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ماسکو کی توجہ داعش خراسان پر زیادہ مرکوز دکھائی دیتی ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان کے معاملے پر اس کی حساسیت نسبتاً کم ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ گروہ براہ راست پاکستان کو نشانہ بناتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر روس ایک طرف بعض شدت پسند تنظیموں کو علاقائی خطرہ قرار دے اور دوسری طرف پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بننے والے گروہوں کے معاملے کو وہی اہمیت نہ دے تو اس سے مشترکہ سکیورٹی تعاون کی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔ پاکستان کی توقع یہی ہے کہ ماسکو افغانستان سے جنم لینے والے خطرات کے بارے میں اسلام آباد کے تحفظات کو بھی سنجیدگی سے لے گا۔

روسی وزیر داخلہ کا پاکستان کا دورہ بھی اس پورے منظرنامے کا اہم حصہ ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ کسی روسی وزیر داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔ اس دوران ولادیمیر کولوکولتسیف نے وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل عاصم منیر اور دیگر اہم پاکستانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ دوسری طرف روسی انٹیلیجنس چیف کابل میں طالبان حکام سے مل رہے تھے۔ مبصرین کے مطابق دونوں دوروں کا ایک ہی وقت میں ہونا ماسکو کی اس کوشش کی عکاسی کر سکتا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے ساتھ اپنے روابط کو متحرک رکھتے ہوئے خطے کی سفارت کاری میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرے۔

تاہم، اس حکمت عملی کے نتائج کے بارے میں اختلاف رائے موجود ہے۔ بعض مبصرین اسے علاقائی کشیدگی کم کرنے کا موقع سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر کو خدشہ ہے کہ بڑی طاقتوں کے متضاد مفادات افغانستان کو ایک بار پھر پراکسی رقابتوں کا میدان بنا سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں افغانستان میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے کہ اسے محض علاقائی طاقتوں کے سکیورٹی مفادات کے تناظر میں نہ دیکھا جائے، بلکہ پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے خدشات اور افغان خودمختاری کو بھی اہمیت دی جائے۔

اصل امتحان یہ ہوگا کہ روس کے یہ اعلیٰ سطح کے رابطے محض سفارتی سرگرمیوں تک محدود رہتے ہیں یا پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سرحد پار دہشت گردی جیسے مسائل پر کوئی قابلِ عمل پیش رفت بھی سامنے آتی ہے۔ روس اگر واقعی خطے میں ثالثی اور استحکام کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے پاکستان کے سکیورٹی خدشات اور افغانستان میں سرگرم مختلف شدت پسند گروہوں کے خطرات کو یکساں سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔

Back to top button