گورنر راج کے بعد تحریک انصاف عوام کو سڑکوں پر کیوں نہ لا سکی؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست بڑے امتحان سے دوچار ہے۔ جس صوبے کو پارٹی اپنی ناقابلِ تسخیر سیاسی طاقت کا مرکز قرار دیتی رہی، وہاں سوشل میڈیا کی مسلسل اپیلوں، لانگ مارچ اور گورنر ہاؤس کے گھیراؤ کی دھمکیوں کے باوجود کوئی بڑا عوامی احتجاج سامنے نہیں آیا۔ اس صورت حال نے بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا تحریک انصاف کی احتجاجی طاقت عوامی حمایت پر قائم تھی یا صوبائی حکومت اور سوشل میڈیا کے دباؤ نے اسے ضرورت سے زیادہ بڑا بنا کر پیش کیا تھا؟

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول، سہیل آفریدی کے لانگ مارچ میں شرکا کی تعداد محدود رہی اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد مارچ کسی بڑی مزاحمتی تحریک میں تبدیل ہونے کے بجائے ختم ہوگیا۔ مسلسل سفر اور تھکن بھی اس کی ممکنہ وجوہات میں شامل تھیں، تاہم شرکا کی محدود تعداد نے تحریک انصاف کی احتجاجی حکمت عملی پر سوالات ضرور اٹھا دیے۔

مبصرین کے مطابق، ایمرجنسی کے بعد پشاور پہنچنے کی اپیلوں کے باوجود کوئی بڑا اجتماع سامنے نہ آنا پارٹی کے لیے اہم سیاسی دھچکا ہے۔ گورنر ہاؤس کے گھیراؤ جیسے بلند بانگ دعووں کے برعکس عوامی شرکت محدود رہی، جبکہ پارٹی کے منتخب نمائندے بھی بڑے احتجاج منظم کرنے میں نمایاں نظر نہیں آئے۔باڑہ میں چند سو افراد نے احتجاج کیا، پولیس سے تصادم ہوا اور بعض سرکاری دفاتر کو آگ لگائی گئی۔ حکام نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد مظاہرین کو گرفتار کیا۔ تاہم، اس مقامی احتجاج کو صوبے بھر میں کسی بڑی عوامی تحریک کا آغاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں، اس صورت حال نے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کی حقیقی سیاسی طاقت پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ آن لائن مہمات، احتجاجی اپیلوں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے سڑکوں پر نکلنے کے دعووں کے باوجود وسیع عوامی شرکت نظر نہیں آئی۔ بعض اکاؤنٹس پر پرانی اور مبینہ جعلی ویڈیوز پھیلانے کے الزامات بھی سامنے آئے، جن کی الگ الگ تصدیق ضروری ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، سوشل میڈیا پر مقبولیت اور عملی طور پر عوام کو متحرک کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی جماعت کی اصل تنظیمی صلاحیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اسے اقتدار اور انتظامی وسائل کے بغیر کارکنوں کو منظم کرنا پڑے۔ خیبر پختونخوا کی موجودہ صورت حال نے تحریک انصاف کی قیادت اور اس کے منتخب نمائندوں کے کردار کو بھی زیرِ بحث لا دیا ہے۔

ماضی میں خیبر پختونخوا کے کارکن پنجاب کی تحریک انصاف کو احتجاج نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے، لیکن اب صوبائی حکومت کے خاتمے کے بعد محدود احتجاج نے اس تقابل کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ تاہم، دونوں صوبوں میں سیاسی حالات اور انتظامی پابندیوں کے فرق کو نظرانداز کرکے حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ مبصرین کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں بڑی احتجاجی تحریک چلا سکے گی؟ اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں پارٹی کی تنظیمی تیاری، قیادت کے فیصلوں اور عوامی ردعمل سے ہوگا۔ فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا تحریک انصاف اپنی سوشل میڈیا مقبولیت کو حقیقی عوامی طاقت میں تبدیل کر سکتی ہے، یا اس کی احتجاجی سیاست کو زمینی حقائق کے بجائے ڈیجیٹل سرگرمیوں سے زیادہ جانچا جاتا رہا ہے؟

Back to top button