پشاور کی BRT بسیں پنجاب منتقل کرنے کے دعوؤں کی حقیقت کیا؟

سوشل میڈیا پر خیبر پختونخوا کی بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) بسیں پنجاب منتقل کیے جانے کے دعووں نے صوبائی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا، لیکن وائرل ویڈیوز کی حقیقت ان دعووں سے مختلف نکلی۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی میں پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات کے طور پر پیش کیا گیا، جس سے یہ تاثر پھیلنے لگا کہ پشاور کے سرکاری اثاثے صوبے سے باہر منتقل کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ٹرانس پشاور کی وضاحت کے مطابق یہ ویڈیوز دراصل اس وقت کی ہیں جب بی آر ٹی کے لیے نئی بسیں پشاور لائی جا رہی تھیں۔ یوں ایک پرانی ویڈیو نے سیاسی الزامات، سوشل میڈیا کی مہم اور طنزیہ تبصروں کو جنم دے دیا، جبکہ اس معاملے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سیاسی کشیدگی کے دوران غیر مصدقہ معلومات عوامی رائے پر کس حد تک اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
اس حوالے سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں بی آر ٹی کی بسیں ٹرالروں پر لدی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ متعدد صارفین نے ان مناظر کو اس دعوے کے ساتھ شیئر کیا کہ پشاور کی 200 بسیں پنجاب منتقل کر دی گئی ہیں۔ بعض اکاؤنٹس نے اس معاملے کو صوبے کے معدنی وسائل اور دیگر سرکاری اثاثوں سے جوڑتے ہوئے خدشات ظاہر کیے کہ خیبر پختونخوا کو اس کی سہولیات اور وسائل سے محروم کیا جا رہا ہے۔
سیاسی ماحول کی حساسیت کے باعث یہ دعوے تیزی سے پھیلے۔ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ اکاؤنٹس نے بھی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ گورنر راج کی آڑ میں صوبے کے عوام کو ان سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے جو تحریک انصاف کے دور حکومت میں فراہم کی گئی تھیں۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گل نے بھی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بی آر ٹی کی بسیں کون لے جا رہا ہے۔ تاہم، ویڈیو شیئر کرنا یا اس کے ساتھ سوال اٹھانا بذات خود اس دعوے کا ثبوت نہیں تھا کہ بسیں واقعی پشاور سے منتقل کی جا رہی تھیں۔
تاہم ٹرانس پشاور نے 14 اکتوبر کو وضاحت جاری کرتے ہوئے ان دعووں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔ ادارے کے مطابق، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو پرانی ہے اور اس وقت کی ہے جب بی آر ٹی کے لیے درآمد کی گئی بسیں پشاور لائی جا رہی تھیں۔ اس وضاحت نے وائرل دعوے کی بنیادی حیثیت کو چیلنج کر دیا، کیونکہ ویڈیو میں بسوں کی منتقلی کا منظر تو موجود تھا، لیکن اسے پشاور سے باہر لے جانے کا ثبوت نہیں تھا۔
پنجاب کے وزیر ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ بلال اکبر خان نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی بسیں پنجاب نہیں بلکہ پشاور جا رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کو پشاور کی بسوں کی ضرورت نہیں، کیونکہ صوبے میں پہلے ہی الیکٹرک بسوں کا بڑا بیڑا موجود ہے اور مزید بسیں بھی خریدی جا رہی ہیں۔ اس بیان نے بھی سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعوے کی تردید کی۔
خیبر پختونخوا حکومت کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے بھی وضاحت کی کہ اگست 2026 کی ایک پرانی ویڈیو کو نئے سیاسی حالات سے جوڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اکاؤنٹ کے مطابق، حقیقت یہ تھی کہ نئی بسیں پشاور پہنچائی جا رہی تھیں، نہ کہ شہر سے باہر منتقل کی جا رہی تھیں۔ ٹرانس پشاور نے مزید بتایا کہ رواں سال خریدی گئی 52 نئی بسوں میں سے 25 پشاور پہنچ چکی ہیں، جبکہ باقی 27 بسوں کی اسی ہفتے آمد متوقع تھی۔ یہ تفصیل بھی اس دعوے کے برعکس تھی کہ بی آر ٹی کا بسوں کا بیڑا پنجاب منتقل کیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق، اس واقعے میں بنیادی مسئلہ صرف ایک پرانی ویڈیو کا دوبارہ سامنے آنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ نیا اور غیر مصدقہ سیاسی دعویٰ جوڑنا ہے۔ ویڈیو کی تاریخ، مقام اور اصل پس منظر کی تصدیق کیے بغیر اسے موجودہ حالات کا ثبوت بنا کر پیش کرنے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ خصوصاً جب صوبائی خودمختاری، سرکاری وسائل اور سیاسی اختیارات جیسے حساس معاملات زیر بحث ہوں تو غیر مصدقہ مواد سیاسی بیانیے کو تقویت دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں، سوشل میڈیا پر تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے شائع ہونے والی ہر بات لازماً درست نہیں ہوتی۔ اس معاملے میں بھی بعض سیاسی اکاؤنٹس نے ویڈیو کو ایسے دعووں کے ساتھ شیئر کیا جن کی تائید اصل ویڈیو کے پس منظر سے نہیں ہوتی تھی۔ کسی اکاؤنٹ پر تصدیق کا نشان اس کی شناخت سے متعلق ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ہر دعوے کی صحت کی ضمانت نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں، رہنماؤں اور عام صارفین کو چاہیے کہ کسی حساس خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی آزادانہ تصدیق کریں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے گرد پھیلنے والے طنزیہ تبصرے اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھی سوشل میڈیا کے موجودہ رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایک صارف نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر میں باب خیبر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل ہوتے دکھایا، جبکہ ایک اور تصویر میں انڈر پاس کو ٹریلر پر لاد کر لے جاتے ہوئے پیش کیا گیا۔ ان تصاویر کا مقصد طنز و مزاح تھا، لیکن یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ حقیقی ویڈیوز، فرضی مناظر اور سیاسی تبصرے ایک ہی سلسلے میں شامل ہو کر اصل خبر اور مزاح کے درمیان فرق کو دھندلا سکتے ہیں۔
