یمن کی مذہبی حوثی تحریک عالمی سلامتی کیلئے خطرہ کیسے بنی؟

حوثی تحریک کی کہانی محض ایک مذہبی احیا کی تحریک کے مسلح گروہ میں تبدیل ہونے کی داستان نہیں، بلکہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ کس طرح جمہوری تبدیلیوں سے اختلاف، نظریاتی انتہا پسندی، بیرونی معاونت اور ریاستی کمزوری مل کر ایک پورے ملک کے سیاسی مستقبل کو یرغمال بنا سکتے ہیں۔ یمن میں کبھی محدود مذہبی و علاقائی تحریک کے طور پر ابھرنے والے حوثی آج دارالحکومت صنعا سمیت وسیع علاقوں پر قابض ہیں، ان کے پاس میزائل اور ڈرون ہیں اور وہ بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، اس تبدیلی کو صرف ایران کی حمایت یا یمن کی خانہ جنگی تک محدود کرکے نہیں سمجھا جا سکتا؛ اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط نظریاتی تشکیل، مسلح تنظیم سازی اور ریاستی اداروں کو اندر سے کمزور کرنے کی حکمت عملی بھی کارفرما رہی ہے۔
حوثی تحریک کی نظریاتی جڑیں شمالی یمن کے زیدی مکتبِ فکر میں پیوست ہیں، جس کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے۔ 1962ء کے جمہوری انقلاب نے یمن میں امامت کے روایتی نظام کا خاتمہ کرکے جدید قومی ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی۔ نئے نظام کے تحت تعلیم، صحت، قانون اور شہریت پر مبنی ریاستی ڈھانچہ تشکیل دینے کی کوشش ہوئی، لیکن زیدی مذہبی اشرافیہ کے بعض حلقوں نے اسے اپنے روایتی سیاسی اثر و رسوخ کے لیے خطرہ سمجھا۔ 1990ء کی دہائی میں صعدہ کے علاقے سے ابھرنے والی تحریک ’’الشباب المؤمن‘‘ ابتدا میں مذہبی احیا سے وابستہ تھی، مگر بعد میں اس کے ایک سخت گیر دھڑے نے اسے سیاسی مزاحمت اور مسلح جدوجہد کی طرف دھکیل دیا۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں حوثی تحریک کی سمت اس وقت نمایاں طور پر تبدیل ہوئی جب حسین الحوثی نے روایتی زیدی نظریات کو ایران کے انقلاب سے متاثر مغرب اور اسرائیل مخالف انقلابی فکر کے ساتھ جوڑنا شروع کیا۔ 2000ء کے بعد یہ تحریک مذہبی سرگرمیوں تک محدود نہ رہی بلکہ ایک منظم مسلح قوت میں تبدیل ہونے لگی۔ 2004ء میں یمنی حکومت کے ساتھ جنگ چھڑ گئی اور حسین الحوثی کی ہلاکت کے بعد ان کے بھائی عبدالملک الحوثی نے قیادت سنبھال لی۔ 2004ء سے 2010ء کے دوران ہونے والی 6 جنگوں کے باوجود تحریک ختم نہ ہو سکی، بلکہ صعدہ کے پہاڑی علاقوں میں اس نے اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
2011ء کی عرب بہار نے حوثیوں کو قومی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کا موقع دیا۔ صدر علی عبداللہ صالح کے طویل اقتدار کے خلاف عوامی احتجاج کے دوران کئی جمہوریت پسند کارکنوں نے حوثیوں کو بھی سیاسی تبدیلی کی جدوجہد میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ تاہم، مضمون کے مطابق، اس دوران تحریک نے اپنے عسکری اور سیاسی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے الگ راستہ اختیار کیا۔ صعدہ میں اسلحے کے کاروبار سے وابستہ فارس منّاع کے ساتھ اتحاد کے نتیجے میں حوثیوں کو شہر پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملی۔ بعد ازاں علی عبداللہ صالح، جن کے خلاف حوثی برسوں لڑتے رہے تھے، خود ان کے اتحادی بن گئے۔ یہ اتحاد اس بات کی مثال تھا کہ اقتدار کی کشمکش میں سابقہ دشمن بھی مشترکہ مفادات کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حوثی تحریک کا سب سے بنیادی سیاسی تنازع محض حکومت کی مخالفت نہیں بلکہ حکمرانی کے تصور سے بھی جڑا ہوا ہے۔ مضمون میں فروری 2012ء کے ایک فکری و ثقافتی منشور کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق سیاسی اقتدار پر حق منتخب نمائندوں یا آئین کے بجائے پیغمبر اسلام ﷺ کی نسل سے وابستہ تھا۔ یہ تصور جدید جمہوری اصولوں اور عوامی نمائندگی کے بنیادی تصور سے متصادم ہے۔ اسی دوران ایران اور لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ حوثیوں کے تعلقات میں بھی وسعت آئی۔ مضمون کے مطابق، 2012ء سے 2014ء کے دوران حوثی وفود ایران اور لبنان میں تربیت حاصل کرتے رہے، جہاں مواصلاتی نظام، میزائل ٹیکنالوجی اور ڈرون جنگ سے متعلق تربیت بھی شامل تھی۔ ایران نے ان الزامات کی تردید کی تھی، لیکن مضمون میں اسلحے کی ترسیل اور بیرونی تربیت سے متعلق متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ستمبر 2014ء میں صنعا پر حوثیوں کا قبضہ یمن کی جدید سیاسی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ حکومتی مزاحمت کمزور پڑ گئی اور وہ شہری کارکن، جنہوں نے کبھی حوثیوں کو جمہوری تبدیلی کے ممکنہ ساتھی سمجھا تھا، خود ان کے جبر کا نشانہ بننے لگے۔ مضمون کے مطابق، حوثیوں نے مخالفین کی گرفتاریاں شروع کیں، قیدیوں کو تشدد اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا اور صحافت کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کی گئیں۔ عبدالملک الحوثی کی جانب سے صحافیوں کو دشمن کے جنگجوؤں سے زیادہ خطرناک قرار دینے کے بعد 80 سے زائد ذرائع ابلاغ کے ادارے بند کیے جانے کا ذکر بھی مضمون میں موجود ہے۔ یہ واقعات اس سوال کو جنم دیتے ہیں کہ جمہوری تبدیلی کے نام پر شروع ہونے والی سیاسی کشمکش کس طرح آزادیٔ اظہار اور شہری حقوق کو محدود کرنے والے نظام میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
حوثیوں کے اقتدار کا ایک اہم پہلو ریاستی اداروں کے متوازی اپنا انتظامی نیٹ ورک قائم کرنا بھی بتایا گیا ہے۔ وزارتوں، صوبوں اور محلوں میں ’’نگران‘‘ مقرر کیے گئے، جن کے ذریعے کاروباری سرگرمیوں، آمدنی اور مقامی انتظامات پر کنٹرول قائم کیا گیا۔ ان عہدے داروں پر نظریاتی تلقین اور نئی بھرتیوں کے عمل کو آگے بڑھانے کی ذمہ داریاں بھی عائد تھیں۔ انسانی امداد کے بدلے بچوں کو حوثی صفوں میں شامل ہونے کے لیے بھیجنے پر مجبور کیے جانے کے الزامات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق، اگر ریاستی اداروں کی جگہ ایک غیر جواب دہ تنظیمی نیٹ ورک لے لے تو اس کے اثرات صرف سیاسی آزادیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ بنیادی عوامی خدمات، معیشت اور معاشرتی ڈھانچے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
حوثیوں کے اقدامات کے اثرات مذہبی اقلیتوں اور آزاد شہری حلقوں پر بھی مرتب ہوئے۔ مضمون میں یمن کی قدیم یہودی برادری اور بہائی برادری کو ہراساں کیے جانے، قید و بند اور ملک بدری کا سامنا کرنے کا ذکر ہے۔ یہ صورت حال اس وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسلح نظریاتی تحریکیں جب ریاستی اختیار حاصل کر لیتی ہیں تو اختلافِ رائے اور مذہبی تنوع کے لیے گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں شہری آزادیوں، اقلیتوں کے تحفظ اور آزاد صحافت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
حوثی تحریک کا اثر یمن کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔ 7 اکتوبر 2023ء کو اسرائیل پر حماس کے حملے اور غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد حوثیوں نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس پیش رفت نے ایک مقامی تنازع کو عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کے مسئلے سے جوڑ دیا۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں، کسی بھی مسلح گروہ کی میزائل اور ڈرون صلاحیت جب اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ کے قریب استعمال ہونے لگے تو اس کے نتائج متعلقہ ملک سے کہیں آگے تک پہنچتے ہیں۔ جہاز رانی میں رکاوٹیں، تجارتی اخراجات میں اضافہ اور علاقائی کشیدگی اس خطرے کے اہم پہلو ہیں۔
حوثی تحریک کی تاریخ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ یمن میں جمہوری ریاست کی تعمیر کی کوششیں کیوں کمزور ہوئیں اور ایک مسلح نظریاتی گروہ کس طرح اس قدر طاقتور بن گیا۔ اس کا جواب صرف مذہبی اختلاف یا بیرونی مداخلت میں تلاش کرنا کافی نہیں؛ اس میں داخلی سیاسی کمزوریاں، سابقہ حکمرانوں کے ساتھ بدلتے اتحاد، ریاستی اداروں کی ناکامی اور مسلح تنظیم کی طویل المدت حکمت عملی بھی شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یمن کا بحران محض پراکسی جنگ یا انسانی المیے کی کہانی نہیں، بلکہ جدید جمہوری ریاست اور ایسے سیاسی تصور کے درمیان کشمکش بھی ہے جو اقتدار کو عوامی انتخاب کے بجائے مخصوص نسب سے وابستہ کرتا ہے۔ اس بحران کا دیرپا حل یمنی عوام کی سیاسی خودمختاری، مؤثر ریاستی اداروں، بنیادی انسانی حقوق اور جواب دہ حکمرانی کی بحالی سے جڑا ہوا ہے۔
