پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کیلئے عمرانڈوز دست و گریبان

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین کون ہوگا؟ سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں کے شیر افضل مروت، حامد خان اور حامد رضا کے نام سے متعلق متضاد بیانات نے اہم عہدے پر تعیناتی کے حوالے سے بھی پارٹی میں اختلافات سے پردہ اٹھا دیا ہے۔جہاں ایک طرف شیر افضل مروت نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے لیے اپنی ہی پارٹی کے لوگوں پر بانی پی ٹی آئی سے متبادل نام کے لیے زور دینے کا الزام عائد کیا ہے وہیں اختلافی بیان پر شیر افضل کو چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے ایک بار پھر شٹ اپ کال دی گئی ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ شیر افضل کو کہہ دیا ہے کہ آئندہ ایسی باتیں نہیں کریں گے، پارٹی کے اندرونی معاملات پر پارٹی میں ہی بحث ہوگی۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب شیر افضل مروت کے حق میں سامنے آگئے، انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کو چیئرمین پی اے سی نامزد کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہر جگہ برملا کہا کہ شیر افضل مروت کو ہی چیئرمین پی اے سی ہونا چاہیے۔
دوسری طرف پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چیئرمین کیلئے پہلے حامد خان کے حق میں بیان دیا اور پھر کہا کہ انہوں نے تو یہ اعلان کسی سے سنا تھا۔ جبکہ تازہ اطلاعات کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا کو پی اے سی چیئرمین شپ کے لیے نامزد کر دیا ہے۔
دوسری جانب نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر نومنتخب اراکین قومی اسمبلی کی حلف برداری کے بعد اب پارلیمان میں کمیٹیوں کی تشکیل کے لیے مشاورت جاری ہے تاہم پارلیمان کی سب سے مؤثر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف نے پہلے تو شیر افضل مروت کا نام چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے لیے دیا تھا۔ تاہم اب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منظوری کے بعد سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا نام بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سپیکر قومی اسمبلی کو دینے کی اطلاعات ہیں۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے الیکشن کمیشن میں پارٹی رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد آزاد حیثیت سے عام انتخابات میں حصہ لیا تھا اور بعدازاں سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوگئے تھے۔
سنی اتحاد کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے تصدیق کی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اُن کا نام چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے طور پر دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’اس کا باضابطہ اعلان پارٹی کی جانب سے کیا جائے گا۔‘ صاحبزادہ حامد رضا کے مطابق ’بانی پی ٹی آئی عمران خان جس کا نام بھی دیں گے ہمیں قبول ہو گا۔‘
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے ایک سینئر رہنما نے بھی تصدیق کی ہے کہ پارٹی کے اندر اور حکومت کی جانب سے شیر افضل مروت کے بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پر اختلافات کی وجہ سے بانی پی ٹی آئی نے حامد رضا کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے لیے نامزد کیا ہے۔
تاہم چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے لیے کوئی دوسرا نام آگے نہیں بھیجا گیا۔اُن کا بتانا تھا کہ ’شیر افضل مروت کے نام پر پارٹی کے اندر کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ اُن کا نام بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ہی دیا گیا تھا۔ اس لیے اختلافات کی خبریں درست نہیں ہیں۔‘بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ’اس وقت شیر افضل مروت کا نام بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی زیرِغور ہے۔ تاہم اس پر حکومت کے ساتھ ابھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔‘
دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کا موقف ہے جو نام بانی پی ٹی آئی دیں گے، وہی چیئرمین پی اے سی ہو گا۔ تاہم میں نے ہر جگہ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ شیر افضل مروت کو چیئرمین پی اے سی ہونا چاہیے۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ اپوزیشن کی ہوتی ہے۔‘
دوسری جانب پی ٹی آئی کو کور کرنے والے صحافی حیدر شیرازی کا بتانا ہے کہ ’اس وقت شیر افضل مروت کا نام چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی فہرست سے نکالنے کے لیے سینیٹر شبلی فراز متحرک ہیں۔‘انہوں نے بتایا کہ ’شیر افضل مروت کو سائیڈ لائن کرنے کے لیے سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضا کو آگے لایا گیا ہے۔ عمران خان کو یہ باور کروایا گیا ہے کہ شیر افضل مروت کا نام سپیکر قبول نہیں کر رہے۔‘حیدر شیرازی کے خیال میں ’شیر افضل مروت چونکہ سنی اتحاد کونسل کے رکن ہیں اور اگر اُن کی جماعت کے سربراہ یعنی صاحبزادہ حامد رضا کا نام بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سامنے آتا ہے تو شیر افضل مروت خود بھی پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔‘
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف سے جڑے امور پر نگاہ رکھنے والے صحافی عبدالقادر کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر کچھ عناصر شیر افضل مروت اور بعض کسی دوسرے کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنانا چاہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ’سنی اتحاد کونسل نے صاحبزادہ حامد رضا کا نام بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھیج دیا ہے۔ کیونکہ پارٹی کے اندر بھی شیر افضل مروت کے نام پر کچھ رہنماؤں کو تحفظات ہیں۔‘عبدالقادر کے خیال میں ’شیر افضل مروت اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ وہ جلد یا بدیر پارٹی کے اندر ہی کسی رہنما کو اپنے خلاف لابنگ کرنے پر مورد
الزام ٹھہرائیں گے۔‘
