کےپی کی گورنرشپ مولاناکودیناوزیراعظم کی خواہش تھی،راناثنا

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کاکہناہے کہ خیبر پختونخوا کی گورنر شپ مولانا فضل الرحمان کو دینا وزیراعظم کی خواہش تھی، خود ان کا تقاضا نہیں تھا۔
وزیراعظم کے مشیر خصوصی رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی غلطیوں سے رجوع کرنے اور مذاکرات سے قبل دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کی کھل کر اور دل سے حمایت کرنی چاہیے اور پھر رعایتوں کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا عمل مجبوری میں اپنایا گیا کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔
انہوں نے سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شرط نہ رکھیں کہ ’میں شام کو واپس آتا ہوں تو دوبارہ وزیراعلیٰ بنا دیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اب الٹا پلٹا کے چکر میں نہیں پڑیں گے، سہیل آفریدی پہلے ایک سچے پاکستانی ہونے کے ناطے ریاست کے ساتھ وفاداری دکھائیں، آئیں اور ہمارے ساتھ ایک سیاستدان کے طور پر مل کر کام کریں۔
رانا ثنا اللہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان آئین و قانون کے مطابق سیاست کرنے والے ایک نامور اور سنجیدہ سیاستدان ہیں۔
انہوں نے اس معاملے میں بھی انتہائی سنجیدہ اور محدود رویہ و بیانیہ رکھا اور گورنر راج یا ایمرجنسی کی حد سے زیادہ مخالفت نہیں کی۔
