تحریک انصاف میں گھر کے بھیدیوں نے لنکا کیسے ڈھائی

معروف اینکر پرسن سید طلعت حسین نے کہا ہے کہ تحریک انصاف میں گھر کے بھیدیوں نے ہی لنکا ڈھا دی ہے۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی اور ان کی ٹیم کی غلط حکمت عملی نے تحریک انصاف کو بدترین سیاسی نقصان سے دو چار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں حکومت بھی ہاتھ سے نکل گئی اور عمران خان کی رہائی کا امکان بھی ختم ہو گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کی ناکامی کے نتیجے میں تحریک انصاف کو وہ نقصان پہنچا ہے جو حکومت پچھلے تین سال میں بھی نہیں پہنچا سکی تھی۔

اپنے وی لاگ میں گفتگو کرتے ہوئے طلعت حسین نے کہا کہ تحریک انصاف کو بیرونی مخالفین سے زیادہ نقصان اپنی نا پختہ اور جذباتی قیادت کی غلطیوں سے پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ڈھائی ماہ تک احتجاجی مہم کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے لاکھوں افراد جمع کرنے کے دعوے کیے گئے۔ ابتدا میں دس لاکھ، پھر بیس لاکھ اور بالآخر چالیس لاکھ افراد کو سڑکوں پر لانے کی بات کی گئی، تاہم ان دعوؤں کے مطابق بڑے عوامی اجتماعات دیکھنے میں نہیں آئے۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کو مسلسل خیبر پختونخوا تک محدود رکھا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر عوامی حمایت اور جوش و خروش کے بڑے دعوے کیے جاتے رہے۔ جس رات ایمرجنسی کا نفاذ ہونا تھا اس روز سہیل آفریدی کی پشاور واپسی پر استقبال کے لیے صرف چند درجن افراد موجود تھے، جبکہ کیمرے کے مختلف زاویوں سے اجتماع کو بڑا دکھانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ سید طلعت حسین نے سوال اٹھایا کہ اگر تحریک انصاف کی عوامی حمایت اتنی زیادہ تھی تو احتجاجی مہم کے دوران اس کا عملی مظاہرہ کیوں سامنے نہیں آیا۔

سید طلعت حسین کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ دعوے بھی کیے جاتے رہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں عوام ترکیہ کی طرز پر سڑکوں پر نکل کر مزاحمت کریں گے، لیکن جب یہ ایکشن لے لیا گیا تو اسکے بعد کوئی بڑا عوامی احتجاج دیکھنے میں نہیں آیا جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آفریدی حکومت عوامی سپورٹ بھی کھو چکی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو مسلسل احتجاج اور دھرنوں کے لیے باہر نکلنے کی اپیلیں کی جاتی رہیں، تاہم قیادت کے دعوؤں اور زمینی صورت حال میں نمایاں فرق نظر آیا

انکے مطابق تحریک انصاف کے کارکنوں اور درمیانی سطح کی قیادت کو اپنی قیادت کی حکمت عملی کا جائزہ لینا چاہیے کہ آخر اس احتجاجی مہم سے پارٹی نے کیا حاصل کیا۔ کارکنان اپنی جگہ پارٹی کے ساتھ وابستہ اور پُرعزم رہے، لیکن قیادت عوامی طاقت کا وہ مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی جس کے دعوے کیے جا رہے تھے۔ طلعت حسین نے کہا کہ لانگ مارچ ناکام ہونے کے بعد تحریک انصاف کو شدید سیاسی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق احتجاج سے پہلے عمران خان کی بہنیں جیل سے باہر تھیں، لیکن اب وہ بھی جیل میں ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں پارٹی کی صوبائی حکومت بھی ہاتھ سے نکل گئی۔ کے پی میں صوبائی حکومت تحریک انصاف کے لیے ایک اہم سیاسی طاقت تھی، جس سے محرومی نے پارٹی کی سیاسی پوزیشن کو بالکل ہی صفر کر دیا ہے۔

سینیئر اینکر پرسن کے مطابق عمران خان کو قید سے نکلوانے کے لیے تحریک انصاف کے پاس جو بارگیننگ پوزیشن تھی، وہ بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ موجودہ صورت حال میں عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی دباؤ بڑھانے، انہیں پمز ہسپتال منتقل کرنے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرانے کی گنجائش پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ان حالات میں عمران خان کی رہائی اور بھی زیادہ دور ہو گئی ہے۔

سید طلعت حسین کے مطابق تحریک انصاف اگر خیبر پختونخوا میں بہتر طرز حکمرانی، پولیس کا مورال بلند کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر فیصلے کرنے پر توجہ دیتی تو شاید موجودہ صورت حال سے بچنے میں مدد مل سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی اور انتظامی مرکز تھی، لیکن احتجاجی سیاست پر انحصار اور ناقص حکمت عملی کے باعث اسے بھی کھو دیا گیا۔ ان کے تجزیے کے مطابق تحریک انصاف کو اب اپنی سیاسی حکمت عملی، طرز حکمرانی اور قیادت کے فیصلوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

Back to top button