عمران کو مکافات عمل کا سامنا ہے، کپتان کے بہنوئی کا چھکا

 

 

 

 

اڈیالہ جیل میں قید کی سزا بھگتنے والے عمران خان کے ایک اور بہنوئی نے تحریک انصاف کی غلط پالیسیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ مکافاتِ عمل ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہو رہا ہے۔ عمران کی بہن نورین خان کے سابق شوہر حفیظ اللہ نیازی کی جانب سے بانی کی غلط پالیسیوں پر تنقید کے بعد ان کی دوسری بہن عظمیٰ خان کے شوہر احد خان کی جانب سے عمران مخالف گفتگو پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ احد خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی موجودہ مشکلات کو مکافاتِ عمل قرار دیا، میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے ایک سوال پر اتفاق کیا کہ عمران دورِ حکومت میں ان کے سیاسی مخالفین کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا آج اس کے اثرات خود تحریک انصاف کی قیادت بشمول عمران کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

 

جب احد خان سے پوچھا گیا کہ کیا پی ٹی آئی کو درپیش حالات اللہ تعالیٰ کی مرضی سے پیدا ہوئے ہیں تو انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے اسے مکافاتِ عمل قرار دیا۔  احد خان کے اس مؤقف نے عمران کے ناقدین کے ان الزامات کو تقویت فراہم کی ہے کہ ان کی سیاسی حکمتِ عملی اور طرزِ حکمرانی آمرانہ تھیں ۔

 

یاد رہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی اہم شخصیات کو گرفتاریوں، مقدمات اور احتسابی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، آصف علی زرداری، فریال تالپور، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ سمیت کئی سیاسی رہنما اس دور میں قانونی کارروائیوں اور گرفتاریوں کی زد میں آئے۔ مریم نواز کی اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے موقع پر گرفتاری بھی شدید ترین سیاسی تنازع کا سبب بنی تھی۔

شہباز گل کا سہیل آفریدی پر ڈبل گیم کھیلنے کا الزام

تحریک انصاف کی حکومت ان اقدامات کو احتساب اور قانون کی حکمرانی سے تعبیر کرتی رہی، جبکہ اپوزیشن انہیں سیاسی انتقام قرار دیتی تھی۔ آج عمران خود جیل میں ہیں اور تحریک انصاف کے رہنما مقدمات، گرفتاریوں اور سزاؤں کا سامنا کر رہے ہیں۔ عمران خان کے دور حکومت میں قومی احتساب بیورو کی کارروائیوں کو حکومت احتساب کا عمل قرار دیتی تھی، جبکہ مخالف سیاسی جماعتوں کا مؤقف تھا کہ ان اداروں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بھی مختلف احتسابی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جنہیں تحریک انصاف کی جانب سے سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے۔

 

عمران خان کے بہنوئی احد خان کے بیان کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے تحریک انصاف کے ماضی کے طرزِ حکمرانی اور موجودہ مشکلات کے درمیان تعلق پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی سیاست کا بنیادی المیہ یہ ہے کہ حکومتیں اور سیاسی اتحاد تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لیکن گرفتاریوں، سیاسی انتقام، میڈیا پر پابندیوں اور ریاستی طاقت کے استعمال سے متعلق تنازعات ختم نہیں ہوتے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کو درپیش موجودہ حالات بھی اسی وسیع تر سیاسی کشمکش کا حصہ ہیں۔

Back to top button