شہباز گل کا سہیل آفریدی پر ڈبل گیم کھیلنے کا الزام

 

 

 

 

تحریک انصاف کے رہنما اور عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل نے خیبر پختونخوا حکومت کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معطل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر ڈبل گیم کھیلنے کا الزام لگا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ظلم یہ ہوا کہ چوکیدار ہی چوروں کے ساتھ مل گیا جس کے نتیجے میں عمران خان کی رہائی کے لیے شروع کیا جانے والا لانگ مارچ خیبر پختون خواہ حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔

 

اپنے وی لاگ میں شہباز گل نے سوال اٹھایا کہ اگر فوجی جرنیل اتنی آسانی سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کر سکتے تھے تو گزشتہ دو سال تک تحریک انصاف کی حکومت کو وہاں برقرار کیوں رہنے دیا گیا؟ ان کے مطابق پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ خیبر پختونخوا میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہر شخص دس مرتبہ سوچے گا، لیکن صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملک کے کسی حصے میں کوئی احتجاج یا مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی جس سے پارٹی کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہو گیا ہے۔

 

شہباز گل نے تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کی مکمل خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سہیل آفریدی اور جنید اکبر گرفتار ہو گئے تھے تو پارٹی کے دوسرے رہنما تو موجود تھے، جن کے پاس پلان اے، پلان بی، پلان سی اور پلان ڈی ہونے کے دعوے کیے جاتے تھے۔ انہوں نے شفیع جان، شاہد خٹک اور مینا خان آفریدی کا نام لیتے ہوئے سوال کیا کہ مشکل وقت میں یہ رہنما کہاں تھے؟ ان کے بقول، پارٹی رہنماؤں کو کم از کم سیاسی مزاحمت کی کوشش ضرور کرنی چاہیے تھی اور کارکنوں کو احتجاج کے لیے متحرک کرنے کی اپیل کرنی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان کا مطلب یہ نہیں کہ تحریک انصاف کے رہنما کوئی انتہائی قدم اٹھاتے یا تشدد کا راستہ اختیار کرتے، بلکہ وہ صرف یہ سوال کر رہے ہیں کہ پارٹی نے مزاحمت کی کوشش کیوں نہیں کی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ لانگ مارچ لے کر نکلنے والے سہیل آفریدی ڈبل گیم کھیل رہے تھے اور ان کا اسلام اباد پہنچنے کا کوئی پلان تھا ہی نہیں۔

 

شہباز گل کے مطابق پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور اگر اس مرتبہ بھی وہ گرفتار ہو جاتے تو کوئی غیر معمولی بات نہ ہوتی۔ انہوں نے سہیل آفریدی کی آخری دنوں میں سخت تقاریر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے بیانات دینے کے باوجود عملی طور پر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آفریدی کئی روز تک لانگ مارچ لے کر اسلام آباد جانے کی بجائے خیبر پختون خواہ میں ہی گھومتے رہے اور اس انتظار میں رہے کہ گورنر راج نافذ ہو جائے تو وہ واپس پشاور جائیں۔

 

عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے شہباز گل نے کہا کہ عمران خان جیل میں بیٹھے یہ امید کر رہے ہوں گے کہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے گا، مذاکرات ہوں گے اور وہ رہائی کے بعد باہر آئیں گے۔ لیکن ان کے مطابق نتیجہ اس کے برعکس نکلا، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ختم ہو گئی اور عمران خان کی رہائی کا مقصد بھی حاصل نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ آج حفاظتی تحویل میں موجود پارٹی رہنماؤں کی تعریفیں کر رہے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس پوری جدوجہد کے نتیجے میں کیا حاصل ہوا اور صوبائی حکومت کے خاتمے کے بدلے پارٹی کو کیا ملا۔

گورنر راج کے بعد تحریک انصاف عوام کو سڑکوں پر کیوں نہ لا سکی؟

شہباز گل نے تحریک انصاف کی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کوئی سیاسی جماعت اپنی آخری بازی کھیلنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے ایک واضح منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور ممکنہ نقصانات کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ ان کے بقول تحریک انصاف کی آخری کوشش انتہائی بے ڈھنگے انداز میں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت کو پہلے سے طے کرنا چاہیے تھا کہ اگر اہم رہنما گرفتار ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد کیا کرنا ہے، کارکنوں کو کس طرح متحرک رکھنا ہے اور سیاسی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے کون سے اقدامات کرنے ہیں۔

شہباز گل نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ وہ ڈالر کمانے کے لیے تحریک انصاف کے رہنماؤں پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا مقصد صرف ناظرین کو خوش کرنا ہوتا تو وہ پارٹی رہنماؤں کی تعریفیں کرتے، کارکنوں کو امیدیں دلاتے اور ہر ایک کو ہیرو قرار دیتے۔

 

انہوں نے کہا کہ ایسی تنقید سے تحریک انصاف کے حامیوں کا ایک حصہ ان کے وی لاگ دیکھنا چھوڑ سکتا ہے، جس سے ان کے ناظرین کی تعداد اور آمدنی کم ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم شہباز گل کے مطابق انہیں ایسے ردعمل کی پروا نہیں اور وہ اپنی رائے کا اظہار کرتے رہیں گے۔

 

Back to top button