سہیل آفریدی دور حکومت کی کرپشن فائلیں کھل گئیں

 

 

 

 

معروف اینکر پرسن منیب فاروق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد آفریدی دور حکومت میں ہونے والی کرپشن کی فائلیں اکٹھی کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر احتساب کا عمل شروع کیا جا سکے۔ ان کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی اس حوالے سے کافی متحرک ہو چکے ہیں اور ہنگامی بنیادوں پر آفریدی اور ان کی کابینہ کے دیگر وزرا کے خلاف کرپشن کے ثبوت اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

 

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے منیب فاروق نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے دور میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کا دائرہ 13 برس تک پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر کے ٹھیکوں سے لے کر معدنی وسائل کے ٹھیکوں تک کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق احتساب کا دائرہ صرف آفریدی کی معطل شدہ حکومت تک محدود نہیں رہنا بلکہ 2013 سے اب تک مختلف ادوار میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی بھی چھان بین کی جائے گی۔

 

بشریٰ بی بی کی رہائی کے امکانات کے حوالے سے منیب فاروق نے کہا کہ ماضی میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ان کو ریلیف دینے کے لیے کسی درمیانی راستے کی تلاش کا تاثر موجود تھا جو اب مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ بیرسٹر گوہر خان اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان رابطوں کے دوران یہ امکانات زیر بحث تھے کہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی کو ضمانت مل سکتی ہے اور انہیں بنی گالہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، منیب فاروق کے مطابق 27 ستمبر کے واقعات، تحریک انصاف کے اندر اختلافات اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اہم ترین رہنما نجی گفتگو میں اس بات پر مایوسی ظاہر کر رہے ہیں کہ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی صورت میں موجود سیاسی سہارا بھی ختم ہو گیا ہے اور پی ٹی آئی کا آخری قلعہ بھی فتح ہو گیا ہے۔ انہوں نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کے قانونی معاملات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ کی ضمانت اور سزا معطلی کی درخواست مسترد کرنے کے بعد مرکزی اپیل پر دلائل دینے کی ہدایت کی تھی۔ ان کے مطابق بیرسٹر سلمان صفدر نے معاملہ آئینی عدالت میں اٹھاتے ہوئے اپیل دائر کرنے میں تاخیر معاف کرنے کی استدعا کی، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو مرکزی اپیل پر جلد کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

منیب فاروق کا دعویٰ ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا 190 ملین پاؤنڈ کیس کی مرکزی اپیل پر دلائل دینے سے گریزاں ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اپیل خارج ہونے کی صورت میں مزید قانونی ریلیف حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس معاملے کا حتمی فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے۔ منیب فاروق نے کہا کہ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آئندہ چھ سے آٹھ ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں انتظامی بہتری اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کے نتیجے میں عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبے کے عوام نے 2013ء سے مسلسل تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے، اس لیے ان کی سیاسی وابستگی اور عمران خان کی مقبولیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

عمران کو مکافات عمل کا سامنا ہے، کپتان کے بہنوئی کا چھکا

ان کے مطابق خیبر پختون خواہ میں وفاقی حکومت کے حالیہ انتظامی اقدامات کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مقصد ووٹرز کی رائے تبدیل کرنا نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ، امن و امان کی بحالی اور حکومتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا عوام کے مسائل حل ہوتے ہیں اور صوبے میں امن قائم ہوتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے تحریک انصاف کی اندرونی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو سنگین سیاسی اور تنظیمی بحران کا سامنا ہے۔ پارٹی کو نئے نام سے منظم کرنے یا عمران خان سے الگ ہو کر سیاست کرنے کے امکانات پر بھی بات ہو رہی ہے، تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان تبدیلیوں سے تحریک انصاف کے ووٹرز کی سوچ تبدیل ہو سکے گی۔ منیب فاروق نے کہا کہ سال 2024 کے انتخابات میں عمران کی عوامی حمایت نمایاں رہی، اس لیے محض انتظامی تبدیلیوں سے اس مقبولیت کے خاتمے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب انہوں نے ان افواہوں کو مسترد کیا کہ خیبر پختونخوا میں اختیار کیے گئے اقدامات دوسرے صوبوں میں بھی نافذ کیے جائیں گے یا سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف ایمرجنسی لگانے کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورت حال خیبر پختونخوا تک محدود ہے۔

Back to top button