پی ٹی آئی اب بھی اپنا آئینی کردار نبھائے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں : رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی والے آئینی و قانون کردار ادا کرنےپر رضامند ہو جاتے تو عبوری نظام کی ضرورت ہی نہیں تھی،ابھی بھی پی ٹی آئی اپنا آئینی و قانونی کردار نبھائے تو معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔
مرکزی رہنما مسلم لیگ ن رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو فون تک نہیں کیا،موجودہ وزیر اعظم جب بھی ایوان آتے ہیں،اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ ملاتے ہیں،پی ٹی آئی کے اپنے رویوں کی وجہ سے ان کا نقصان ہورہا ہے۔
سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمیں خود افسوس ہےکہ عمران خان کی بہنوں کو نظر بند کرنا پڑا،سب کو معلوم ہےکہ وہ لانگ مارچ سے متعلق کیا گفتگو کیا کرتی تھیں،عمران خان کی بہنوں نے بیانات دیےکہ گورنر ہاوس پر چڑھائی کردو،صورت حال کو کنٹرول کرنے کےلیے نظر بندی مجبوری تھی۔
26 نومبر احتجاج کیس : علیمہ خان پر درج مقدمے کا فیصلہ پھر مؤخر
انہوں نے کہاکہ اگر پی ٹی آئی والے آئینی و قانون کردار ادا کرنےپر رضامند ہو جاتے تو عبوری نظام کی ضرورت ہی نہیں تھی،ابھی بھی پی ٹی آئی اپنا آئینی و قانونی کردار نبھائے تو سوچا جاسکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا فوری طور پر قلع قمع نہ کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف قوم متحدہ نہ ہوئی، صوبائی اور مرکزی حکومت کی ایک پالیسی نہ ہوئی تو ملک کے وجود کو خطرہ ہے۔
