تحریک انصاف کی سیاست میں واپسی کیسے ممکن ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار عامر خاکوانی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو تحریک انصاف کی سیاست کا اختتام قرار دینا درست نہیں، کیونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی ماضی میں سخت سیاسی مشکلات کا سامنا کرنے اور اقتدار سے محرومی کے باوجود دوبارہ اقتدار میں واپس آ گئی تھیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی قیادت غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے براہ راست ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کرے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں عامر خاکوانی کا کہنا ہے تحریک انصاف کو سیاست میں واپسی کے لیے تصادم، لانگ مارچ اور دھرنوں کے بجائے پارلیمانی جدوجہد، سیاسی اتحاد اور فوجی اسٹیبلشمنٹ سے کشیدگی کم کرنے کی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے خدشات کے باوجود لانگ مارچ جاری رکھا لیکن عوام کی جانب سے متوقع ردعمل سامنے نہیں آیا جس کا اندازہ وفاقی حکومت کو بھی ہو گیا تھا لہذا سہیل آفریدی کی صوبائی حکومت کو معطل کر دیا گیا۔ انکے مطابق لانگ مارچ شروع کرنے کا فیصلہ ہی غلط تھا چونکہ اب ثابت ہو چکا ہے کہ تحریک انصاف کی اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں تھی۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ آفریدی حکومت کی خاتمے کے بعد کوئی عوامی رد عمل بھی سامنے نہیں آیا اور پارٹی کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہو گیا ہے۔
خاکوانی کا کہنا ہے کہ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے نتیجے میں پھیلنے والی بد دلی کے باعث اب عمران خان کے سپورٹرز بھی انکی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت گزشتہ دو برس کی حکمت عملی کا جائزہ لے اور دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرے۔ عامر خاکوانی نے بیرون ملک مقیم تحریک انصاف کے حامی ولاگرز اور سوشل میڈیا کارکنوں کی اشتعال انگیز مہم کو بھی پارٹی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر سخت مؤقف اختیار کرنے اور قیادت پر دباؤ ڈالنے سے سیاسی فیصلوں میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں، جبکہ احتجاج کے نتیجے میں مقدمات، گرفتاریوں اور دیگر مسائل کا سامنا پاکستان میں موجود کارکنوں کو کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کی پالیسی زمینی حقائق اور پارٹی مشاورت کے تحت بنے گی یا سوشل میڈیا کے دباؤ پر۔
تجزیہ کار نے خیبر پختونخوا میں آفریدی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مسلسل انتخابی مینڈیٹ کے باوجود ترقیاتی کاموں، سرکاری محکموں کی کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کے باوجود حکومت کی توجہ کا بڑا حصہ اسلام آباد کی طرف مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں پر مرکوز رہا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں اور روزگار کے مواقع میں بہتری چاہتے ہیں، اس لیے سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ اچھی حکمرانی بھی ضروری ہے۔ خاکوانی نے تحریک انصاف کو مشورہ دیا کہ وہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے تحریک انصاف کو گرینڈ الائنس بنانے اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی تجویز بھی دی۔
سہیل آفریدی دور حکومت کی کرپشن فائلیں کھل گئیں
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مختلف اپوزیشن اتحادوں نے سیاسی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا، اس لیے تحریک انصاف کو بھی دوسری جماعتوں سے اختلافات کے باوجود مل کر کام کرنے کے امکانات تلاش کرنے چاہییں۔
تجزیہ کار نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کو بھی تحریک انصاف کی آئندہ حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس کا مطلب مکمل طور پر سرنڈر کرنا نہیں، بلکہ غیر ضروری تلخی سے گریز، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی حمایت، اداروں کے خلاف سخت بیانات میں احتیاط اور سیاسی رابطوں کی بحالی ہے۔ انہوں نے نواز شریف اور آصف زرداری کی سیاسی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سیاسی حالات میں آگے بڑھنے کے لیے بعض اوقات طرزعمل میں تبدیلی اور بات چیت کے راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔
عامر خاکوانی نے کہا کہ ایمرجنسی کا خاتمہ، اسیر رہنماؤں کی رہائی اور سیاسی کشیدگی میں کمی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے صبر، دانش مندی اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی ضروری ہوگی۔
ان کے مطابق تحریک انصاف اگر موجودہ سیاسی دھچکے سے سبق سیکھ کر سڑکوں پر تصادم کے بجائے پارلیمانی جدوجہد، وسیع تر سیاسی اتحاد اور مکالمے کو ترجیح دیتی ہے تو اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے نئی راہیں تلاش کرسکتی ہے۔
