پی ٹی آئی کی قیادت بلوں میں کیوں چھپ گئی ہے؟

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی اور صوبائی قیادت بلوں میں چھپ گئی ہے اور پارٹی کا کوئی بھی رہنما کارکنوں کی قیادت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کو تیار دکھائی نہیں دیتا۔ مزاحمت کے بلند بانگ دعوے کرنے والی جماعت نہ تو اپنے رہنماؤں کو متحد رکھ سکی ہے اور نہ ہی صوبے بھر میں کوئی مؤثر عوامی تحریک منظم کر پائی ہے، حالانکہ تحریک انصاف گزشتہ تیرہ برس سے خیبر پختونخوا میں اقتدار میں رہی ہے۔
سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کابینہ کے ارکان اور پارلیمانی سیکرٹریز کی روپوشی، قیادت کے درمیان اختلافات اور احتجاجی سرگرمیوں میں محدود عوامی شرکت نے پارٹی کی تنظیمی صلاحیت، سیاسی حکمت عملی اور مقبولیت کے دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وفاقی حکومت کو بھجوائی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد تحریک انصاف کی احتجاجی سرگرمیاں انتہائی محدود رہیں اور صوبے بھر میں صرف درجن بھر احتجاجی اجتماعات رپورٹ ہوئے، جن میں اوسطاً سو سے بھی کم افراد شریک ہوئے۔
خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق پانچ سو سے زائد افراد کی شرکت والا واحد احتجاج 13 اکتوبر کو ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں ہوا، جو سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا حلقۂ انتخاب ہے، تاہم پولیس کارروائی کے بعد یہ اجتماع بھی منتشر ہوگیا۔ ان اعداد و شمار نے اس سوال کو نمایاں کر دیا ہے کہ جس جماعت کی قیادت وفاقی حکومت کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی اور بھرپور مزاحمت کے اعلانات کر رہی تھی، وہ غیر معمولی سیاسی بحران کے وقت اپنے حامیوں کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر لانے میں کیوں ناکام رہی۔
تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کی مشکلات کا ایک اہم پہلو سہیل آفریدی کی کابینہ اور پارلیمانی ارکان کی عدم موجودگی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کابینہ کے سولہ وزرا، چھ مشیر، آٹھ معاونین خصوصی اور تئیس پارلیمانی سیکرٹریز گزشتہ پانچ روز سے منظرعام پر نہیں آئے۔
انٹیلی جنس رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ 10 اور 11 اکتوبر کی درمیانی شب جب صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی اطلاعات سامنے آئیں تو کابینہ کے ارکان اور وزیراعلیٰ کے قریبی ساتھی ایک ایک کرکے وزیراعلیٰ ہاؤس سے روانہ ہوگئے اور بعض نے اپنے موبائل فون بھی بند کر دیے تاکہ گرفتاری سے بچا جا سکے۔ یہ صورت حال پارٹی کی تنظیمی تیاری، قیادت کے باہمی رابطوں اور بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کے بارے میں جائز سوالات اٹھاتی ہے۔سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری نے بھی تحریک انصاف کی قیادت کی حکمت عملی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق گیارہ اکتوبر کو دوپہر کے وقت وزیراعلیٰ ہاؤس میں سہیل آفریدی کو تحویل میں لینے کی کارروائی شروع ہوئی تو وہ اپنے کمرے میں اکیلے موجود تھے اور ان کے قریبی ساتھی وہاں سے جا چکے تھے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ افسر سمیت متعلقہ ٹیم تقریباً 45 منٹ تک ان کے کمرے میں موجود رہی۔ ذرائع کے مطابق اس دوران سہیل آفریدی اپنی جماعت کی قیادت کے رویے سے پریشان اور مایوس دکھائی دے رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق آفریدی نے حکام سے گفتگو میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کا لانگ مارچ اسلام آباد لے جانے کا ارادہ نہیں تھا اور حکومت سے مذاکرات کے بعد اسے ختم کیا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق رات کے وقت مولانا فضل الرحمان کے ذریعے وفاقی حکومت سے رابطہ ہوا تھا اور حکومت عمران خان سے ملاقات اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے پر آمادہ ہوگئی تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت جاری تھی اور قیادت کی جانب سے ہدایت ملنے پر لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا جانا تھا لیکن اسی دوران گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
تاہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ان دعؤں کی تردید کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت معطل کرنے کا فیصلہ مذاکرات کی مکمل ناکامی کے بعد کیا کیونکہ سہیل افریدی لانگ مارچ منسوخ کرنے پر تیار نہیں تھے۔ ادھر تحریک انصاف کی احتجاجی حکمت عملی کی ناکامی کے اسباب میں صوبائی حکومت کی کارکردگی اور عوامی ترجیحات کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹ سے منسوب جائزے کے مطابق طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ترقیاتی کاموں، امن و امان اور سکیورٹی کے مسائل پر عوامی عدم اطمینان نے جماعت کی سیاسی قوت کو متاثر کیا۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، جانی نقصانات اور پولیس و محکمہ انسداد دہشت گردی کو درپیش مشکلات کے تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے دور حکومت میں عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل پر خاطرخواہ توجہ کیوں نہ دی۔ ناقدین کے مطابق کسی جماعت کے لیے مسلسل محاذ آرائی کا بیانیہ اختیار کرنا اس وقت مشکل ہوجاتا ہے جب عوام امن، روزگار، ترقی اور روزمرہ زندگی کے تحفظ کے حوالے سے اس کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوں۔ ایسے حالات میں وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کی اپیلیں بھی عوام کو بڑی تعداد میں متحرک کرنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتیں۔
