پولیس یونیفارم پہن کر مریم نواز کس جرم کی مرتکب ہوئی ہیں؟

وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی جانب سے پولیس ٹریننگ سینٹر لاہور میں منعقدہ پاسنگ آؤٹ تقریب میں پولیس یونیفارم میں شرکت کے بعد سے سوشل میڈیا پر انکے سیاسی مخالفین نے طوفان برپا کر دیا ہے اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے کیونکہ کسی بھی سویلین کے لیے کسی فورس کا یونیفارم پہننا قانونا جرم ہے جس پر سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

طالبات کو میکڈونلڈز کھلانے کا معاملہ ہو یا پھر ایک سرکاری دورے کے دوران ٹی وی کیمروں کے سامنے خاتون پولیس اہلکار کے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرنے کا تنازع، یہ سوال اکثر سر اٹھاتا ہے کہ آیا مریم نواز اپنی حکومت کی کارکردگی دکھانے کی بجائے اپنی ذاتی تشہیر میں مصروف ہیں۔ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ کیا ایسا کرنے کے فوائد زیادہ ہیں یا نقصانات؟

ان سوالات پر عام لوگ پاکستانی سیاست کی طرح ہی تقسیم ہیں۔ تاہم وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد سے مریم نواز شہ سرخیوں اور سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہیں ۔ 25 اپریل کے روز پولیس یونیفارم میں ملبوس وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی لاہور میں پولیس ٹریننگ سینٹر کالج چوہنگ کی پاسنگ آؤٹ تقریب میں دبنگ انٹری نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی ہے۔مریم نواز کو وردی میں دیکھ کر جہاں بہت سے لوگ حیران ہیں وہیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صارفین مختلف تبصرے  بھی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے اس عمل کی تعریف بھی ہوئی، جبکہ عمرانڈوز نے تنقید کی نشتر بھی چلا دئیے۔ کسی نے مریم نواز کی جانب سے پولیس یونیفارم پہننے کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تو کسی نے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کا ’سٹنٹ‘ قرار دیا۔

جیل میں قید تحریک انصاف پنجاب کی صدر یاسمین راشد کی جانب سے مریم نواز کے اس عمل کو پاکستانی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف قانون توڑنے پر کاروائی کا آغاز کیا جائے کیونکہ کسی بھی سویلین کو کسی بھی فورس کا یونیفارم پہننے کی اجازت نہیں۔ یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ پولیس کی اصل یونیفارم پہننا تو دور کی بات پولیس کی جعلی وردی بنانے اور بیچنے والوں کو بھی قید کی سزا ملتی ہے۔

مریم پر تنقید میں سابق وزیراعلی پرویز الہی کے مفرور صاحبزادے مونس الہی بھی پیچھے نہ رہے۔ اپنا تنقیدی تبصرہ کرتے ہوئے مونس نے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ ایسی حرکتوں سے مریم نواز خود اپنا مذاق بنوا رہی ہیں۔ سحرش مان نامی صحافی نے لکھا کہ محترمہ جس وردی کا بطور وزیراعلی تحفظ نہ کر سکیں آج وہی وردی پہن کر ٹک ٹاک بنا رہی ہیں۔محسن مسعود کا کہنا تھا کہ ’مریم نواز نے آج وہ حاصل کر لیا جو وہ کرنا چاہتی تھیں اور وہ یہ کہ انھیں توجہ ملے اور اب سب ان کی پولیس وردی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ مارکیٹنگ کی کیا بہترین حکمتِ عملی ہے‘۔

فیصل ڈھکو نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر مریم نواز پولیس کی حمایت میں ایسا کوئی اظہار کرنا چاہتی تھیں تو اس کی ضرورت بہاولنگر کے پولیس تھانے میں تھی جہاں اظہار یکجہتی کی کافی ضرورت تھی لیکن بدقسمتی سے آئرن لیڈی کی جانب سے ایک جملہ بھی سامنے نہیں آیا۔‘صحافی ماجد نظامی نے بھی لکھا کہ ’کیا پنجاب پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تقریب میں شرکت کے بعد وزیراعلی مریم نواز شریف بہاولنگر پولیس سٹیشن کا دورہ بھی کریں گی؟‘ اشتیاق نامی ایک سارف نے ٹویٹر پر لکھا کہ چیف جسٹس اور آرمی چیف محتاط ہو جائیں کیونکہ اب ان کی وردیاں بھی خطرے میں ہیں جو مریم نواز کسی بھی وقت پہن کر منظر عام پر آ سکتی ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر مریم نواز اور نواز شریف کے درمیان مماثلت کے حوالے سے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا گیا کہ ’وزیراعلیٰ مریم نواز نے پولیس کی وردی پہن کر خواتین افسران سمیت پنجاب پولیس کے لیے ایک مثال قائم کی ہے‘۔

 عباس بلگرامی نامی صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر مریم نواز کے پولیس یونیفارم پہننے پر لکھا کہ ’یہ یونیفارم والی خواتین کے لیے بہترین اور حوصلہ افزا خراج تحسین تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ پنجاب ک قیادت ایک ایسی خاتون کر رہی ہیں جو سیف سٹی میں کام کرنے والی خواتین کے لیے ہاسٹلز، عام خواتین کے لیے بائیکس اور خواتین کے ورچوئل تھانوں جیسے مواقع اور اصلاحات لے کر آ رہی ہیں اوراب وہ یونیفارم میں بھی ہیں۔‘

شمع جونیجو نامی صارف نے بھی ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا کہ ’مریم نواز پنجاب پولیس کے یونیفارم میں کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں اور یہ خواتین پولیس افسران کی حمایت کا بہت طاقتور اظہار ہے۔‘ شمع جنیجو نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’مریم نواز کو دیکھیں، یہ ایک مضبوط تاثر ہے۔‘ سیف اعوان نامی صارف نے مریم نواز کی وردی میں تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا ’اے ایس پی مریم نواز۔‘

ایک اور صارف نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’ہاں جی ہے کسی کی چیف منسٹر اتنی پیاری؟‘
صحافی خرم شہزاد نے کہا کہ مریم نواز پولیس یویفارم میں کافی اچھی لگ رہی ہیں، ویسے اگر وزرائے اعظم، وزرائے اعلٰی اور سیاستدانوں کا بھی یونیفارم ہو تو کیسا لگے؟ شیری کے نام سے اکاونٹ استعمال کرنے والی صارف کا کہنا تھا کہ آپ انہیں پسند کریں یا ناپسند کریں مریم نواز خوبصورت تو ہیں۔

ایک صارف محمد علی نے مریم نواز کے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی پولیس یونیفارم میں تصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ دو تصاویر چالیس سال کے فرق سے۔
صحافی رضوان رضی نے لکھا کہ “ایسا کرنے سے وردی کے احترام

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کیلئے عمرانڈوز دست و گریبان

میں اضافہ ہو گا”۔

Back to top button