نیا پاور ٹیرف، عوام کیلئے بجلی مزید کتنی مہنگی ہونے والی ہے؟

سنٹرل پاور پر چیزنگ ایجنسی کی جانب سے نیپرا کو بجلی کی خریداری کی نئی قیمت مقرر کرنے کی درخواست کے بعد عوام پر ایک اور بجلی بم گرنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں جس کے بعد پاکستانی بجلی صارفین کو 2027 میں بھی بھاری مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں بجلی کی خریداری کے لیے 6 ممکنہ ٹیرف تجویز کیے گئے ہیں اور کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں صارفین سے 1914 ارب روپے وصول کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ رقم بجلی گھروں کو بجلی پیدا کیے بغیر بھی ادا کی جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کے بلوں میں شامل ہوتا ہے۔ بجلی کی خریداری کی قیمت اور عالمی توانائی منڈی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نیا ٹیرف یکم جنوری 2027 سے نافذ کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جس پر نیپرا 3 نومبر کو سماعت کرے گا۔

اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے سال 2027 کے لیے بجلی کی خریداری کی قیمت مقرر کرنے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔ درخواست میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی توانائی مارکیٹ کے ممکنہ اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کی خریداری کے 6 مختلف ٹیرف تجویز کیے گئے ہیں، جن میں سے کسی ایک کی منظوری دی جائے گی۔

درخواست کے مطابق، اگر بجلی کی خریداری کی قیمت 26 روپے 44 پیسے فی یونٹ مقرر کی جاتی ہے تو سال 2027 کے دوران بجلی کی خریداری پر مجموعی طور پر 3439 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ اس رقم میں سے 1914 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے جائیں گے، جبکہ بجلی کی پیداوار کی خالص قیمت 1206 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ اس طرح بجلی کی پیداوار کی خالص قیمت کے مقابلے میں کپیسٹی پیمنٹس کی رقم 150 فیصد سے بھی زیادہ ہوگی۔

کپیسٹی پیمنٹس وہ ادائیگیاں ہیں جو بجلی گھروں کو بجلی پیدا کرنے یا نہ کرنے سے قطع نظر معاہدوں کے تحت کی جاتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق، بجلی کی طلب اور حقیقی پیداوار سے قطع نظر ان بھاری ادائیگیوں کا بوجھ صارفین پر منتقل ہونا توانائی کے شعبے میں ایک بڑا مالی مسئلہ ہے، کیونکہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں ان اخراجات کا حصہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے جو براہ راست ان کے استعمال کردہ یونٹس سے متعلق نہیں ہوتے۔

سی پی پی اے کی درخواست میں آپریشن اور دیکھ بھال کے اخراجات کی مد میں 70 ارب روپے سے زائد جبکہ ٹرانسمیشن چارجز کی مد میں 248 ارب روپے سے زیادہ ادائیگیوں کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ ان اخراجات کے علاوہ بجلی کی خریداری کی قیمت میں عالمی منڈی اور توانائی کے شعبے کی صورتحال کے باعث تبدیلی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے حتمی ٹیرف پر اثر پڑ سکتا ہے۔

درخواست کے مطابق، جنوری سے دسمبر 2027 تک مثالی صورتحال میں بجلی کی فی یونٹ خریداری قیمت 25 روپے 88 پیسے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ بدترین صورتحال میں یہ قیمت 29 روپے 25 پیسے فی یونٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ ان مختلف تخمینوں کی بنیاد پر نیپرا کو بجلی کی خریداری کی قیمت اور متعلقہ اخراجات کا جائزہ لے کر حتمی ٹیرف کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

نیپرا 3 نومبر کو سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت کرے گا، جس میں مجوزہ ٹیرف اور اخراجات کا جائزہ لیا جائے گا۔ سی پی پی اے نے استدعا کی ہے کہ نیا بجلی ٹیرف یکم جنوری 2027 سے مقرر کیا جائے۔ حتمی فیصلے کے بعد واضح ہوگا کہ اگلے سال بجلی کی خریداری کی قیمت کیا ہوگی اور اس کے نتیجے میں صارفین پر مالی بوجھ کس حد تک پڑ سکتا ہے۔

Back to top button