کیا فیلڈ مارشل امریکہ اور ایران کو ایک بار پھرمذاکرات کی میز پر لاپائیں گے؟

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایران کا چوتھا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے متعدد ادوار کے باوجود حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی برقرار ہے اور خطے میں نئی فوجی کشیدگی کا خطرہ بھی موجود ہے۔ تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں علاقائی صورتحال، جوہری تنازع اور پاکستان ایران سرحد کے معاملات زیر بحث آئے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے برقرار رہیں، آبنائے ہرمز کھلے اور جنگ کے خطرات کم ہوں، تاہم فوری طور پر کسی بڑے معاہدے کی توقع محدود دکھائی دیتی ہے۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران پہنچے۔ رواں سال 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد یہ ان کا چوتھا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ اپریل، مئی اور اگست میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کوششوں کے سلسلے میں ایران جا چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دوران ملاقات کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ ایرانی عوام واشنگٹن پر اعتماد نہیں کرتے۔ پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے بھی واضح کیا کہ ایران اپنے قومی وقار اور دفاع پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دوسری جانب ایرانی قومی سلامتی کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم ملک سے باہر نہیں بھیجے گا۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوہری پروگرام اور باہمی بداعتمادی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
دورے کے دوران پاکستان ایران سرحد کی بندش کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا کہ سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ہو گیا ہے، تاہم بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق منگل کی رات تک سرحد بند تھی اور مقامی حکام کو بھی باضابطہ اطلاع نہیں ملی تھی۔ سرحد کی بندش سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت متاثر ہوئی اور متعدد مال بردار کنٹینر پھنس گئے۔
اس حوالے سے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہےکہ اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ایک اہم مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور آبنائے ہرمز کھلوانا ہے، کیونکہ تیل کی بلند قیمتیں عالمی معیشت سمیت پاکستان کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
تاہم مبصرین کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں کم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام پر بھی رعایت کے خواہاں ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے سابق سربراہ شعبہ سیاسیات ڈاکٹر فاروق حسنات کا خیال ہے کہ سفارتی رابطے جاری رہنے کے باوجود انتخابات سے پہلے کسی بڑی پیش رفت کا امکان محدود ہے۔
دیگر ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کو کسی حتمی معاہدے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات گہرے ہیں، جبکہ پاکستان کو ثالثی کے ساتھ اپنی سرحدی سلامتی، تجارتی مفادات اور خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔
مجموعی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران پاکستان کے سفارتی کردار کے لیے اہم ہے۔ فی الحال اس دورے کی اہمیت کسی حتمی معاہدے کے بجائے مذاکراتی رابطے برقرار رکھنے اور ممکنہ فوجی تصادم روکنے کی کوششوں میں ہے۔ اصل کامیابی اسی وقت سامنے آئے گی جب ان کوششوں سے عملی پیش رفت، سرحدی مسائل کا حل اور خطے میں کشیدگی میں حقیقی کمی ممکن ہو سکے گی۔
