KP میں گورنر راج، کون سی جماعت ہوئی”اِن”اور کون سی مکمل”آؤٹ”؟

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ نے صوبے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ 2013 سے صوبے میں مسلسل حکمرانی کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انتظامی اختیارات معطل ہونے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو صوبائی معاملات میں براہِ راست یا بالواسطہ اثرورسوخ حاصل ہوا ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیے بھی سیاسی سرگرمیوں اور اپنے مؤقف کو اجاگر کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس تبدیلی سے پی ٹی آئی کو فوری انتظامی نقصان پہنچا ہے، تاہم اس کے ووٹ بینک اور عوامی حمایت پر طویل مدتی اثرات کا انحصار آئندہ سیاسی حالات پر ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی اتحادی جماعتیں اس انتظامی تبدیلی کو عوامی اعتماد میں اضافے کے لیے استعمال کر سکیں گی یا صوبے میں پی ٹی آئی کی سیاسی مقبولیت ان کے لیے بدستور ایک بڑا چیلنج رہے گی۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہونے اور صوبائی اسمبلی کے اختیارات وفاقی پارلیمان کو ملنے سے صوبے کا حکومتی ڈھانچہ تبدیل ہوا ہے۔ اس تبدیلی کا براہِ راست فائدہ وفاق میں اتحادی حکومت کا حصہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو پہنچا ہے، تاہم دونوں جماعتوں کو یکساں نوعیت کے اختیارات حاصل نہیں ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے گورنر فیصل کریم کنڈی کو نئے انتظامی بندوبست میں مرکزی کردار ملا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی صرف 4 عمومی نشستوں کے باوجود گورنر کے عہدے کے ذریعے اسے ایسے صوبے کے انتظامی معاملات میں کردار حاصل ہوا ہے جہاں 2013 سے پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ صورت حال پیپلز پارٹی کے لیے صوبے میں اپنی سیاسی موجودگی بڑھانے کا موقع ہے، لیکن انتظامی اختیارات کو عوامی حمایت میں تبدیل کرنا الگ چیلنج ہوگا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کو وفاقی حکومت میں اپنی حیثیت کے باعث خیبرپختونخوا کے معاملات میں اثرورسوخ حاصل ہوا ہے۔ صوبائی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی 7 عمومی نشستیں ہیں، جبکہ 2013 کے بعد سے وہ صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورت حال جماعت کو صوبائی سیاست میں دوبارہ جگہ بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے لیے صرف وفاقی سطح پر اقتدار کافی نہیں ہوگا بلکہ مقامی مسائل کے حل اور ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو گورنر راج کے نتیجے میں براہِ راست انتظامی اختیارات نہیں ملے۔ تاہم، صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد انہیں پی ٹی آئی کی سابقہ حکمرانی، وفاقی پالیسیوں، امن و امان اور آئینی اختیارات کے معاملے پر اپنا سیاسی مؤقف اجاگر کرنے کا موقع ملا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان جماعتوں کے لیے یہ موقع کتنا مؤثر ثابت ہوگا، اس کا انحصار ان کی سیاسی سرگرمیوں، عوامی رابطوں اور صوبے کے اہم مسائل پر واضح مؤقف پیش کرنے پر ہوگا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی سے سب سے نمایاں انتظامی نقصان پی ٹی آئی کو پہنچا ہے، کیونکہ اسے صوبائی حکومت چلانے کا اختیار حاصل نہیں رہا۔ وفاق میں اپوزیشن جماعت ہونے کے باوجود خیبرپختونخوا کی حکومت پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم سیاسی اور انتظامی مرکز تھی۔ اب پارٹی کو صوبائی حکومت کے بغیر اپنی سیاست آگے بڑھانا ہوگی، جبکہ اس کی پالیسیوں اور سابقہ کارکردگی پر بحث بھی جاری رہے گی۔ پی ٹی آئی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو سیاسی اقدام قرار دیتے ہوئے عدالت میں چیلنج کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق، صوبائی حکومت کی معطلی پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے، تاہم پارٹی کا ووٹ بینک اب بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری جماعتیں پی ٹی آئی کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گی۔ صحافی عارف حیات بھی اس صورت حال میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لیے اپنے کھوئے ہوئے سیاسی مقام کو بحال کرنے کا موقع دیکھتے ہیں، تاہم ان کے مطابق ووٹرز کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو صرف اس بنیاد پر نہیں دیکھا جا سکتا کہ کن جماعتوں کو انتظامی اختیارات حاصل ہوئے اور کون حکومت سے باہر ہوا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ صوبے میں امن و امان، عوامی مسائل، معاشی حالات اور حکومتی کارکردگی کس طرح متاثر ہوتی ہے۔ اگر وفاقی اتحادی جماعتیں عوامی توقعات پوری کرنے میں کامیاب رہتی ہیں تو انہیں سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن اگر انتظامی تبدیلی کے باوجود بنیادی مسائل برقرار رہتے ہیں تو اس کے سیاسی اثرات مختلف ہو سکتے ہیں۔
یوں خیبرپختونخوا میں گورنر راج نے پی ٹی آئی کے طویل صوبائی اقتدار میں تعطل پیدا کرتے ہوئے دوسری جماعتوں کے لیے سیاسی امکانات ضرور کھولے ہیں، مگر انتظامی اختیار ملنا اور عوامی مینڈیٹ حاصل کرنا دو مختلف معاملات ہیں۔ مبصرین کے مطابق، صوبے کی سیاست کا آئندہ رخ اس بات سے متعین ہوگا کہ موجودہ انتظامی بندوبست کتنا عرصہ برقرار رہتا ہے، عدالتی کارروائی کیا نتیجہ سامنے لاتی ہے اور سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے کس نوعیت کی حکمت عملی اختیار کرتی ہیں۔
