پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن اور حکومت پھر آمنے سامنے

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ ایک بار پھر الجھ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 14 دسمبر 2026 کو پولنگ کرانے کی تجویز دی ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے موسم، اسموگ، شدید سردی اور رمضان المبارک کی آمد کو جواز بناتے ہوئے اپریل 2027 میں تین مرحلوں میں انتخابات کرانے کی سفارش کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے حکومتی مؤقف کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے انتخابی شیڈول فوری جاری کرنے اور متعلقہ افسران کی فہرستیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اس اختلاف نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ایک بار پھر غیر یقینی صورت حال پیدا کر دی ہے، جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں فریق کسی متفقہ تاریخ پر پہنچ سکیں گے یا انتظامی اور قانونی اختلافات انتخابات میں مزید تاخیر کا سبب بنیں گے۔

الیکشن کمیشن نے اکتوبر 2026 میں چیف سیکریٹری پنجاب کو مجوزہ انتخابی شیڈول ارسال کیا تھا، جس کے مطابق پولنگ 14 دسمبر کو ہونا تھی۔ اس تجویز کے تحت امیدواروں کو 27 سے 30 اکتوبر تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے، 2 سے 5 نومبر تک جانچ پڑتال اور 7 سے 11 نومبر تک اپیلوں کی سماعت کا مرحلہ مکمل کرنا تھا۔ کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 18 نومبر، حتمی فہرست 19 نومبر اور انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ 20 نومبر کو ہونا تھی، جبکہ ریٹرننگ افسران نے 17 دسمبر تک نتائج کا اعلان کرنا تھا۔

یہ مجوزہ شیڈول 20 اگست 2026 کو ہونے والے مشاورتی اجلاس کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، جس میں صوبائی کابینہ کی کمیٹی نے 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان انتخابات کرانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے بھی اس تجویز سے اصولی اتفاق کیا تھا۔

تاہم، پنجاب حکومت نے 14 اکتوبر کو اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ دسمبر اور جنوری میں شدید دھند، اسموگ اور سخت سردی انتخابی سرگرمیوں اور ووٹرز کی پولنگ مراکز تک رسائی میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ حکومت کے مطابق، فروری میں رمضان المبارک کے آغاز کے پیش نظر بھی انتخابات کا شیڈول تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر صوبائی کابینہ نے 4، 11 اور 18 اپریل 2027 کو تین مرحلوں میں پولنگ کرانے کی تجویز منظور کی۔

حکومت نے یہ بھی تجویز دی کہ تینوں انتخابی مراحل کے لیے اضلاع کی تقسیم الیکشن کمیشن کے ساتھ مشاورت سے طے کی جائے، تاکہ سیکیورٹی، انتظامی نگرانی اور انتخابی عمل کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔

دوسری جانب، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر صدارت 15 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں الیکشن کمیشن نے حکومتی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ کمیشن کا مؤقف تھا کہ انتخابی شیڈول کے حوالے سے اگست میں مشاورت مکمل ہو چکی تھی، اس لیے اب پہلے سے طے شدہ مدت میں تبدیلی کے لیے پیش کی گئی وجوہات قابلِ قبول نہیں۔ الیکشن کمیشن نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابی پروگرام منظوری کے لیے پیش کرنے اور ضلعی ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی فہرستیں ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، اس معاملے میں بنیادی اختلاف صرف انتخابی تاریخ کا نہیں بلکہ انتخابی عمل کے انتظامی تقاضوں اور آئینی ذمہ داریوں کی ترجیحات کا بھی ہے۔ حکومت موسمی حالات اور انتظامی مشکلات کو اہم قرار دے رہی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن بروقت انتخابات کے انعقاد اور اپنے قانونی اختیار پر زور دے رہا ہے۔ تاہم، حتمی صورت حال کا انحصار دونوں فریقوں کے آئندہ فیصلوں اور کسی ممکنہ قانونی پیش رفت پر ہوگا۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاخیر کا پس منظر بھی خاصا طویل ہے۔ صوبائی اسمبلی نے 2025 میں پنجاب لوکل گورنمنٹ بل منظور کیا، جس کے نتیجے میں 2022 کا بلدیاتی ایکٹ منسوخ ہوگیا۔ نئے قانون کے باعث الیکشن کمیشن نے دسمبر 2025 میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں اور حلقہ بندیوں سے متعلق جاری شیڈول واپس لے لیا تھا۔ نئے قانون کے تحت حلقہ بندیوں کا عمل اگست 2026 تک مکمل کیا گیا۔

پنجاب میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں مرحلہ وار ہوئے تھے، جبکہ ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی بلدیاتی کونسلوں کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہوگئی تھی۔ یوں منتخب بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں، لیکن نئے انتخابات تاحال منعقد نہیں ہو سکے۔

آئین کے آرٹیکل 140-اے اور الیکشنز ایکٹ کے تحت بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد 120 دن کے اندر نئے انتخابات کرانے کی قانونی ضرورت کا حوالہ بھی اس بحث میں اہم ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، بار بار قوانین میں تبدیلی، انتخابی شیڈول پر اختلافات اور انتظامی تاخیر نے بلدیاتی نظام کی بحالی کو مسلسل مؤخر کیا ہے، جس سے مقامی سطح پر منتخب نمائندگی کا خلا برقرار ہے۔

فی الحال الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابی شیڈول جاری کرنے کے فیصلے کا اعلان کر چکا ہے، لیکن حتمی شیڈول سامنے آنا باقی ہے۔ اصل پیش رفت اس وقت ہوگی جب یہ واضح ہو گا کہ پنجاب حکومت اپریل 2027 کی تجویز پر قائم رہتی ہے یا الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ وقت کے مطابق انتخابات کی تیاری آگے بڑھتی ہے۔

Back to top button