نئے صوبوں کے قیام بارے آوازیں اچانک مدہم کیوں پڑ گئیں؟

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ نے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام، اضافی انتظامی اکائیوں کی تشکیل اور بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے متعلق جاری بحث کا رخ بدل دیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے حکمرانی کے مسائل حل کرنے کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی تجاویز زیرِ غور تھیں، لیکن صوبے کی تازہ سیاسی صورت حال نے وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی توجہ فوری انتظامی چیلنجز اور سیاسی تعلقات پر مرکوز کر دی ہے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سےخاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کا مؤقف اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ نئے صوبوں کے قیام یا موجودہ صوبوں کی تقسیم کے لیے آئینی تقاضوں اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہوگی۔ یوں انتظامی اصلاحات کی بحث ختم تو نہیں ہوئی، لیکن فی الحال اس کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور اس پر عملی پیش رفت غیر یقینی دکھائی دیتی ہے۔
روزنامہ جنگ سے وابستہ صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل پر گزشتہ چند ماہ سے سیاسی رہنماؤں، پالیسی سازوں اور ماہرین کے درمیان بحث جاری تھی۔ اس میں چھوٹے صوبوں کے قیام، موجودہ انتظامی اکائیوں کی تنظیمِ نو اور مالی و انتظامی اختیارات رکھنے والے مضبوط بلدیاتی اداروں کی تشکیل جیسی تجاویز شامل تھیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد حکمرانی بہتر بنانا، عوامی خدمات کی فراہمی مؤثر کرنا اور انتظامی مسائل کم کرنا تھا، تاہم خیبر پختونخوا میں حالیہ پیش رفت نے ان تجاویز کو فوری سیاسی ترجیحات سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورت حال میں وفاقی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج خیبر پختونخوا میں انتظامی معاملات کو سنبھالنے کے ساتھ اتحادی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے برقرار رکھنا ہے۔ وفاقی حکومت کی اہم اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں اہم کردار رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کی کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی طریقۂ کار اختیار کیا جائے اور متعلقہ صوبے کی مطلوبہ رضامندی حاصل کی جائے۔ سندھ اسمبلی بھی موجودہ صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی محض حکومتی اعلان سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سیاسی اور آئینی مراحل طے کرنا ہوں گے۔
پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے وفاقی فیصلے کا دفاع کیا ہے، تاہم پارٹی قیادت کے مطابق ابتدا میں مذاکرات کو ترجیح دی گئی تھی اور ایمرجنسی کے اقدامات کو آخری راستہ سمجھا گیا۔ اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے کی موجودہ صورت حال پر اتحادی جماعتوں کے درمیان تعاون کے باوجود انتظامی اختیارات اور سیاسی حکمت عملی کے معاملات اہم رہیں گے۔
انتظامی اصلاحات کے حوالے سے زیرِ بحث تجاویز میں چھوٹے صوبوں کی تشکیل، بلدیاتی اداروں کو زیادہ مالی و انتظامی اختیارات دینا اور موجودہ انتظامی اکائیوں کی ازسرِنو تنظیم شامل ہیں۔ تاہم، ان تجاویز کو قانون سازی میں تبدیل کرنے کے لیے نہ کوئی واضح نظام الاوقات سامنے آیا ہے اور نہ ہی انہیں عملی جامہ پہنانے سے متعلق کسی حتمی فیصلے کا اعلان کیا گیا ہے۔
مبصرین کے خیال میں، ان اصلاحات کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکمران اتحاد نئے صوبوں کے قیام، صوبائی خودمختاری اور بلدیاتی اختیارات کے بارے میں کس حد تک مشترکہ مؤقف اختیار کرتا ہے۔ فی الحال خیبر پختونخوا کی صورت حال نے سیاسی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے، جبکہ انتظامی ڈھانچے میں وسیع تر تبدیلیوں کی بحث مؤخر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تاہم، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ تجاویز مستقل طور پر ترک کر دی گئی ہیں۔
