’مزاحمتی تحریکیں‘ خفیہ فائلوں میں

تحریر: مظہر عباس
بشکریہ: روزنامہ جنگ
یہ پمفلٹ، دستاویزات اب ماضی کا حصہ ہیں مگر ان کو پڑھ اور دیکھ کر انداز ہوتا ہے کہ صرف کردار بدلے ہیں ۔آئیں آپ کو ویتنام جنگ کیخلاف پاکستان میں امریکی سامراج کیخلاف مغربیت کی ایک جھلک پیش کرتا ہوں، ایسی کئی دستاویزات اس زمانے میں بھی ضبط کرلی جاتی تھیں اور پھر وہ فائلوں کا حصہ بنادی جاتی تھیں۔ بہت سی ایسی فائلیں ضائع ہوگئیں مگر کچھ اب بھی ’آرکائیو‘ میں مل جاتی ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ’’مغربیت‘‘ بھی اک نظریہ تھا اور ہم عالمی سامراج کا حصہ تھے۔اب اس پمفلٹ کی اک جھلک، ’’امریکی سامراجیو! ویت نام خالی کرو۔ پاکستان کے عوام ویت نامی عوام کے ساتھ ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ویت نام کے عوام سے اظہار یکجہتی کرے، امریکی جارحیت کی کھل کر مذمت کرے، ویت نام سے امریکی فوج کے انخلا اور جنیوا معاہدوں کی بنیاد پر مذاکرات کرے، ‘‘ یہ طویل پمفلٹ جو نیشنل عوامی پارٹی نےجاری کیا تھا اس میں تفصیل سے اس جنگ کے پس منظر کو بیان کرکے ان نعروں پر اختتام کیا گیا ’’ویت نام کے حریت پسندوں کی جنگ آزادی زندہ باد، ایشیا اور افریقہ کے عوام کا انقلاب زندہ باد، ویت نام میں امریکی سامراج کی جنگ وجارحیت کی پالیسی مردہ باد‘‘ یہ ساری دستاویزات بڑی مشکل سے ہاتھ لگی ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا بھر میں بائیں بازو کی تحریکیں بشمول طلبہ تحریکیں عروج پر تھیں اسی لئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں امریکی سامراج نے اپنے اتحادیوں کے ذریعے بائیں بازو کی جماعتوں اور دائیں بازو کو سامنے لا کھڑا کیا۔ اس میں وہ کامیاب رہا اور بائیں بازو کی قوتیں کمزور اور دائیں بازو کی مضبوط ہوئیں۔ دلچسپ امر یہ ہے سوویت یونین کے زوال کے نتیجے میں دنیا بھر میں مزاحمتی تحریکیں بشمول فلسطینی تحریک کمزور پڑگئی جس کو اب ایک بار پھر غزہ کے شہیدوں نے زندہ کیا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال ہمیں ایران اور افغانستان کے پس منظر میں بھی نظر آتی ہے۔ اس سے خطے میں جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوا وہ پاکستان تھا کیونکہ ہم نے افغان مجاہدین بھی بنا ئے اور طالبا ن بھی اور آج وہی ہمارے سامنے ہتھیار لئے کھڑے ہیں۔

آئیں ماضی کے ایک اور پمفلٹ کی طرف آپ کو لےجاتاہوں جو 1965ءمیں شائع ہوا اور نیشنل عوامی پارٹی کے کراچی کے صدر جناب انیس ہاشمی نے شائع کیا،جس پر کہتے ہیں ان کے خلاف مقدمہ بھی بنا، عنوان تھا نیشنل عوامی پارٹی کیا چاہتی ہے ؟ یہ دراصل ان کی ایک تقریر کے متن کو پمفلٹ کی شکل میں شائع کیا گیا۔اس کو پڑھ کر واقعی اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا مطالبات بھی وہی اور حالات بھی مثلاً مطالبات پر نظر ڈالیں۔’’(1) تحریر اور تقریر، جلسے اور جلوس پر پابندی لگادی گئی ہے۔ مزدوروں سے ہڑتال کا حق سلب کرلیا گیا ہے۔ اس عمل کو ہماری پارٹی ذہنی ارتقا میں بھی سب سے بڑی رُکاوٹ سمجھتی ہے۔ اگر شہری آزادیاں حاصل نہ ہوئیں تو قوم ذہنی طور پر مفلوج ہوجائیگی۔ (2) ہم یونیورسٹی آرڈیننس، پریس آرڈیننس، فرنٹیئر کرائم ریگولیشن، لاؤڈ اسپیکر آرڈیننس اور سیفٹی ایکٹ قسم کے قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ (3) ہم اپنی تجارت دنیا کے چاروں گوشوں میں پھیلائیںاور سوشلسٹ ممالک سے لمبی مدت کے بڑے تجارتی معاہدے کئے جائیں‘‘۔ مگر اس وقت چین اور روس کے نظریےسے ہم خوف زدہ تھے اسی لیے جالب نے کہا تھا

’’ چین اپنا یار ہے؍ اس پہ جاں نثار ہے؍ پر وہاں ہےجو نظام؍اس طرف نہ جائیو؍ اس کو دور سے سلام‘‘

میں نے اس زمانے کی کئی فائلوں کا کھوج لگایا تو اندازہ ہوا کہ ہماری بعض خفیہ ایجنسیاں بشمول اسپیشل برانچ کتنی محنت سے یہ دستاویزات جمع کرتی تھیں ۔اس کی ایک جھلک آپکو پولیس آرکائیواور سندھ آرکائیو میں مل جائیگی۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لیکر جنرل ضیاء الحق کے دور تک جن جماعتوں کو خاص نشانہ بنایا گیا اُن میں نیشنل عوامی پارٹی، کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے اُن کے رہنماؤں کی گرفتاریاں، چارج شیٹ اور جو مواد ملا سب شامل ہیں۔ اُس زمانے میں کریک ڈاؤن میں پمفلٹ، پرنٹنگ مشین اور کتابیں مثلاً میکسم گورکی کی کتاب ’ماں‘ رسالہ ’سرخ پرچم ں‘ برآمد ہوتے تھے آج کل کرنسی اور گولڈ برآمد ہوتا ہے۔ اسی طرح ایوب خان کے زمانے میں چلنے والی تحریک۔ بھٹو کے خلاف1977 کی تحریک، جنرل ضیاء کیخلاف ایم آر ڈی اور صحافیوں کی تحریکوں کا مواد بھی ملے گا۔ میں آج کل انہی کوششوں میں لگا ہوا ہوں۔ صحافیوں کی تحریک جو 1977 اور 1978 میں چلیاس کی خاصی تفصیل ملتی ہے۔

1985 ءمیں غیر جماعتی بنیاد پر انتخابات کا اعلان ہوا تو 15؍فروری، 1985 کو تو ایم آرڈی کے مرکزی رہنما میر غوث بخش بزنجو جو اُس وقت اسیر تھے ،کاایک خط تقسیم ہوا جس میں جہاں انہوں نے غیر جماعتی بنیادوں پر الیکشن کو مسترد کیا وہیں مطالبہ کیا کہ 4؍جولائی 1977 کے معاہدے کے تحت عام انتخابات کرائے جائیں۔ اِس پمفلٹ کا عنوان تھا، ’’ایم آر ڈی کے اسیر کنوینر میر غوث بخش بزنجو کا پیغام‘‘، اُن فائلوں پر نظر ڈالتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کی پوری پوری روداد جسے ہماری آج کی صحافت میں ’اندرونی کہانی‘ کا نام دیا جاتا ہے، موجود ہے۔ایسی ہی ایک رپورٹ ایک جماعت کے22جولائی 1965کے اجلاس کے حوالے سے ہے۔ جو ویت نام ڈے منانے اور امریکی سفارت خانہ کےسامنے مظاہرے کے حوالے سے اعلان تھا۔

ایسی ہی ایک اہم دستاویز ’سندھ جل رہا ہے ‘ کے عنوان سے ایک غیر معروف تنظیم سندھ یونیٹی بورڈ کی طرف سے سامنے آئی، جو کئی صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس میں اُس بیانیہ کو مسترد کیا گیا جس سے تاثر اُبھرا جیسے ’مہاجر‘ مارشل لا کے حامی ہیں۔ پمفلٹ میں اس نکتے کو اس انداز میں پیش کیا گیا اور اردو بولنے والے دانشوروں، ادیبوں اور صحافیوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ، جس میں پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا گیا ’’ہم کھلے دِل سے سندھی بھائیوں کو بے مثال قربانیوں اور جبرو تشدد کے مقابلے پر ثابت قدم رہنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، ‘‘یہ پمفلٹ کم دستاویز تھی جو 23 صفحات پر مشتمل ہے۔ تاہم نیپ اور پی پی پی اور صحافتی تنظیم PFUJاور اس کے رہنماؤں کے حوالے سے بھی خاصہ مواد موجود ہے۔ نیپ سے پہلے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان، آزاد پاکستان پارٹی کا بھی ذکر ملتا ہے ان خفیہ فائلوں میں مگر نیشنل عوامی پارٹی کی 1957ءمیں تشکیل کے حوالے سے ’فائل‘ میں اسے پاکستان کے بائیں بازو کی سب سے منظم اور بڑی جماعت کہا گیا ،ان میں خان عبدالغفار خان، عبدالصمد اچکزی، مولانا بھاشانی، جی ایم سید، غوث بخش بزنجو وغیرہ شامل ہیں۔ بعد میں نیپ پر پابندی سے یہ سارے گروپس بدل گئے اور سیاست بھی نظریات سے کاروبار ہوگئی۔ آج کی تاریخ کل کا مورخ کیسے لکھے گا۔ مقدمات بھی وہی ہیں۔ قوانین بھی وہی ۔ کل بھی سیکشن144 لگتا تھا ، غداری کا مقدمہ قائم ہوتا تھا، حفاظتی تحویل میں MPO کے تحت نظر بندی ہوتی تھی اور آج بھی وہی روش ہے کل کمیونسٹ پارٹی، نیپ، پی پی پی اور آج یہی روش پاکستان تحریک انصاف اور بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے اپنائی جارہی ہے۔ کل کا بیانیہ آج فائلوں کی نذرکردیا گیا ہے۔ اب آج کامقدمہ کل کب فائل ہوگا اور مورخ کیا لکھے اس کیلئے کل کا انتظار تو کرنا پڑےگا۔

 

Back to top button