لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار کون؟

لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار کون؟
تحریر: سلیم صافی
بشکریہ: روزنامہ جنگ
کامیابی کے ہزار باپ ہوتے ہیں جبکہ ناکامی یتیم ہوا کرتی ہے ۔ چونکہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ناکامی سے دوچار ہوا اور کچھ حاصل کرنے کی بجائے الٹا اسے خیبر پختونخوا کی حکومت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ، اس لئے اب پی ٹی آئی کے رہنما لانگ مارچ کی ناکامی کیلئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی کورکمیٹی میں زیادہ تر لوگوں نے سہیل آفریدی، جو گیارہ اکتوبر کے بعد قید میں ہیں، کو ذمہ دار قرار دیا۔ بعض نے اشاروں کنایوں میں محمود خان اچکزئی کو ذمہ دار قرار دیا تو کچھ کے نزدیک بیرسٹر گوہر وغیرہ ذمہ دار قرار پائے ۔ حالانکہ بغیر کسی تعصب کے غور سے دیکھا جائے تو یہ سب اپنی اپنی جگہ ذمہ دار قرار پاتے ہیں۔
بدقسمتی سے پی ٹی آئی اس طریقے سے بنی ہی نہیں جس طریقے سے سیاسی جماعتیں بنا کرتی ہیں اور نہ اس طریقے سے چل رہی ہے جس طرح سیاسی جماعتیں چلا کرتی ہیں۔ سب کچھ عمران خان کی ذات کے گرد گھوم رہا ہے اور جو بندہ یا گروپ ان کا قرب حاصل کرلیتا ہے ، وہی پارٹی کا مختار بن جاتا ہے ۔ انتخابات کے بعد یہ مقام علی امین گنڈاپور نے حاصل کیا چنانچہ وہ وزیراعلیٰ بھی بن گئے اور لانگ مارچ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار بھی ان کو مل گیا۔ پھر عمران کی بہنوں اور کچھ پارٹی رہنمائوں نے خان صاحب کے کان بھرے کہ علی امین درپردہ اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہوئے ہیں اور خان کی رہائی کیلئے کماحقہ کام نہیں کر رہے ہیں ۔ چنانچہ ان کی چھٹی ہوگئی اور قربت کا ہما سہیل آفریدی کے سر بیٹھ گیا۔ چنانچہ یہ نوجوان وزیراعلیٰ بن گئے ۔انہوں نے اپنی مرضی کی ٹیم بنائی اور اپنے قریبی دوستوں کو کابینہ میں شامل کیا ۔ ساتھ اسد قیصر نے اپنے بھائی کو اور نورالحق قادری نے اپنے کزن کو کابینہ کا رکن بنا دیا۔سہیل آفریدی بھی محسن نقوی کے ساتھ رابطے میں تھے لیکن انہوں نے اپنے بیانیے کو اس خوف سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور جارحانہ رکھا کہ کہیں ان پر بھی علی امین گنڈا پور کی طرح شک نہ کیا جائے لیکن پھر بھی انہیں معاف نہ کیا گیا اور چند ماہ بعد سوشل میڈیا سے یہ دبائو بڑھنے لگا کہ سہیل آفریدی، خان کی رہائی کیلئے کچھ نہیں کررہے ۔ اسی طرح انقلابی لوگ بھی انکے پیچھے پڑگئے اور صلح جو گروپ بھی انکے بیانیے سے خوش نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ یہ اعلان انہوں نے چونکہ اگست میں کیا ، اس لئے بعض لوگ اس پر بھی معترض رہے کہ انہوں نے درمیان میں اتنا لمبا وقفہ کیوں رکھ دیا۔27 ستمبر قریب آیا تو انہوں نے ایک بار پھر تاریخ بدل کر 4اکتوبر کردی جسکی وجہ سے ایک بار پھر ان کے خلاف توپوں کے منہ کھل گئے ۔ چنانچہ 4اکتوبر کو ان کے پاس کے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ مارچ شروع کریں لیکن دوسری طرف وفاقی حکومت نے قبل از وقت بھرپور انتظامات کرکے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے انہیں اسلام آباد نہیں آنے دیا جائے گا ۔چنانچہ انہوں نے نیا طریقہ ایجاد کرلیا اور مارچ کو لے کر خیبر پختونخوا میں ہی گھومتے رہے لیکن اس دوران ان کے ساتھ نہ تو محمود خان اچکزئی کنٹینر پر نظر آئے ، نہ بیرسٹر گوہر اور نہ اسد قیصر ۔
سوال یہ ہے کہ اگر سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کا فیصلہ غلط تھا تو پھر محمود خان اچکزئی جو اپوزیشن لیڈر اور بیرسٹر گوہر جو مرکزی چیئرمین ہیں ، نے انہیں منع کیوں نہیں کیا اور اگر ان کا فیصلہ درست تھا تو پھر یہ دونوں ان کے ساتھ لانگ مارچ کے کنٹینر پر کیوں نظر نہ آئے۔کیا اچکزئی صاحب کو عمران خان نے صرف اسمبلی میں تقریروں اور پریس کانفرنسوں کیلئے ایک سیٹ کے ساتھ اپوزیشن لیڈر بنایا ہے ؟۔ سہیل آفریدی اور ان کے دیگر نوجوان ساتھیوں کو احتجاجی سیاست کا زیادہ تجربہ نہیں تھا اور یہ اچکزئی صاحب کا فرض تھا کہ بطور اپوزیشن لیڈر اس کے انتظامات کی نگرانی اور پھر خود قیادت کرتے ۔ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں نے لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر دبائو بڑھا دیا تھا تو پھر اسلام آباد میں بیٹھے اچکزئی صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ اسے عمران خان کے حق میں کیش کراتے۔ اسی دبائو کی وجہ سے وزیراعظم نے اچکزئی صاحب کو الیکشن کمشنر کے ایشو پر مذاکرات کی دعوت دی لیکن اچکزئی صاحب نے بچوں کی طرح یہ شرطیں رکھ دیں کہ وہ وزیراعظم ہائوس یا سرکاری عمارت میں نہیں ملیں گے اور مری میں ان کے گھر پر میٹنگ رکھی جائے ۔ اس طرح تو پارلیمنٹ ہائوس بھی سرکاری عمارت ہے اور پارلیمنٹ لاجز بھی سرکاری ہیں ۔ پھر وہ وہاں کیوں بیٹھتے ہیں ؟۔ دوسرا موقع لانگ مارچ نے حکومتی اور پی ٹی آئی کی ٹیموں کے اسپیکر کے چیمبر میں مذاکرات نے فراہم کیا۔ اب اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اچکزئی صاحب نے یہاں پر بھی جانے سے انکار کردیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ان مذاکرات میں شریک ہونا جرم تھا تو پھر علامہ راجہ ناصر عباس کو یہ جرم کرنے کیوں دیا گیا اور اگر نیک کام تھا تو پھر اچکزئی صاحب خود اس میں کیوں نہیں گئے؟ آخر یہ سیاست ہے یا بچوں کا کھیل ہے ؟۔ چنانچہ مذاکرات کا یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل گیا حالانکہ اگر سیاسی دانش اور حکمت سے کام لیا جاتا تو یہاں حکومت سے عمران خان کیلئے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا تھا۔
سہیل آفریدی تو جیل میں چلے گئےلیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی نجی محفلوں میں پی ٹی آئی والے اچکزئی صاحب کے بار ے میں اور خود اچکزئی صاحب پی ٹی آئی کے بارے میں نالاں نظر آتے ہیں۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ اچکزئی صاحب کی اپنی پارٹی یعنی پختونخوا میپ کا اپنا ایک کلچر ہے جبکہ پی ٹی آئی کا اپنا ایک کلچر ہے ۔ اچکزئی صاحب اس کلچر کے ساتھ اپنے آپ کو ایڈجسٹ نہیں کرسکے جبکہ پی ٹی آئی والوں کو اچکزئی صاحب کے دانش بھرے فلسفے سمجھ نہیں آتے۔ اب تو پی ٹی آئی کے بعض لوگ یہ بھی کہتے پھر رہے ہیں کہ اگر اچکزئی صاحب کی جگہ ہم مولانا فضل الرحمان صاحب کو اپوزیشن لیڈر بناتے تو وہ کب کا کوئی راستہ نکال لیتے۔
