منیب فاروق کو KP حکومت بحال ہوتی نظر کیوں نہیں آتی؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی معطل کردہ حکومت بحال ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار ملا بھی تو وہ ایک بدلی ہوئی جماعت کے طور پر واپس آئے گی، جسے نئے ضابطہ کار کے تحت کام کرنا ہو گا۔ منیب نے اپنے وی لاگ میں کہا ہے کہ وفاقی وزرا کے بیانات سے واضح ہے کہ تحریک انصاف کی سیاسی واپسی کے امکانات آہستہ آہستہ ختم کیے جا رہے ہیں اور 2029ء کے انتخابات کے لیے بھی حکمت عملی تیار ہو رہی ہے۔

منیب فاروق نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے، جبکہ یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھنے کے باعث صوبے میں جلد نیا سیاسی انتظام قائم ہو جائے گا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے بعض رہنما خود کو پرامن سیاسی متبادل کے طور پر پیش کرکے اقتدار میں واپسی کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وفاقی حکومت کے حالیہ بیانات ان کوششوں کے لیے حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ انہوں نے وفاقی وزیر امیر مقام کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت تحریک انصاف کی سیاسی بحالی کے امکانات مسترد کر رہی ہے اور اس کی واپسی کو محض خواب قرار دیا جا رہا ہے۔ منیب فاروق کے مطابق آئینی اور قانونی اقدامات کے ذریعے کسی جماعت کی سیاسی گنجائش محدود کرنے کی کوششیں تشویش کا باعث ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب 2024ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو نمایاں عوامی حمایت حاصل ہوئی تھی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی مقبول سیاسی جماعت کو سیاسی منظرنامے سے باہر رکھنے کی حکمت عملی طویل مدت میں پائیدار ثابت ہو سکتی ہے۔ منیب فاروق کے مطابق بعض حلقے 2029ء کے انتخابات کے لیے ایسا سیاسی نظام چاہتے ہیں جس میں آئینی ترامیم اور اہم قانون سازی کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ ان کے بقول، مضبوط حکومتی جماعت یا مستحکم اتحاد کے ذریعے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل درآمد آسان بنانے کی خواہش موجود ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوتے ہیں یا نہیں اور آئندہ سیاسی صف بندی کس شکل میں سامنے آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر خان اور ان کے ساتھی خیبر پختونخوا میں حکومت کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، لیکن ان کے خطوط اور پیغامات کا تاحال کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق پارٹی کے بعض رہنما محاذ آرائی ترک کرکے وفاق کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کے خواہش مند ہیں، تاہم موجودہ حالات میں کسی بڑی پیش رفت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ منیب فاروق نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی اقتدار میں ممکنہ واپسی سے متعلق بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں، لیکن اگر انہیں دوبارہ صوبے میں اقتدار ملا تو انہیں نئے ضابطہ کار کے تحت کام کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی حکومت ماضی کی طرح محاذ آرائی کے بجائے محتاط اور محدود طرز عمل اختیار کرنے پر مجبور ہوگی، جبکہ صوبائی اسمبلی کے متعدد ارکان موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔

منیب فاروق کے مطابق پشاور میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اہم شخصیات کی گفتگو کے حوالے سے یہ دعویٰ کہ تحریک انصاف کا وجود ختم ہو چکا ہے، فی الحال قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی حالات بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کسی جماعت یا رہنما کے مستقبل کے بارے میں حتمی فیصلہ دینا درست نہیں۔ منیب فاروق نے کہا کہ تحریک انصاف کے لیے افواج پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعلقات کا معاملہ ایک اہم سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔

رانا ثناء اللہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو جماعت پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ یکسوئی سے کھڑی نہیں ہوگی، اس کے سیاسی مستقبل کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق بیرسٹر گوہر خان اس صورتحال کی حساسیت کو سمجھتے ہیں اور ایسے بیانات سے گریز کر رہے ہیں جو قومی سلامتی یا قومی یکجہتی کے خلاف سمجھے جائیں، تاہم سیاسی جماعتوں کے آئینی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں گورنر راج کو محض عارضی انتظامی تبدیلی سمجھنا درست نہیں، کیونکہ وفاقی حکومت کے بیانات اور آئندہ انتخابات کے لیے بنائی جانے والی حکمت عملی وسیع تر سیاسی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت بحال ہوئی تو اسے بدلے ہوئے سیاسی حالات میں کام کرنا ہوگا، جبکہ بحالی نہ ہونے کی صورت میں جماعت کو صوبے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ منیب فاروق کے مطابق بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ حکمت عملی ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرے گی یا سیاسی محاذ آرائی اور بے یقینی میں مزید اضافہ ہوگا۔

 

Back to top button