کیا PTI کو خیبر پختونخوا میں دوبارہ حکومت مل جائے گی؟

 

 

 

 

معروف لکھاری اور اینکر پرسن جاوید چوہدری نے دعوی کیا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کو دوبارہ حکومت دینے کے لیے تیار ہے لیکن اس سے پہلے نئے اور قابل قبول وزیراعلی کے نام پر اتفاق کرنا ہو گا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے تین رہنما اس وقت وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں جن میں سے ایک کے نام پر پارٹی کو اتفاق کرنا ہوگا۔

 

جاوید چوہدری نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت کا مقصد تحریک انصاف کو صوبے میں دوبارہ اقتدار دے کر احتجاج سے روکنا اور ریاستی معاملات میں تعاون پر آمادہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب اور تحریک انصاف کو دوبارہ صوبائی حکومت ملنے کی خبریں اہم ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ پہلے تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کے 18 ارکان صوبائی اسمبلی پر مشتمل ایک گروپ سہیل آفریدی کو ہٹا کر نیا وزیر اعلیٰ لانا چاہتا ہے، جس پر علی امین گنڈا پور نے سخت ردعمل دیا اور ان کی ایک آڈیو بھی سامنے آئی۔

 

اس معاملے پر پارٹی کے اندر اور کور کمیٹی کے اجلاس میں شدید بحث ہوئی، جبکہ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ نیا وزیراعلیٰ لانے اور گورنر راج ختم کرنے کا معاملہ طے پا چکا ہے۔ جاوید چوہدری کے مطابق تحریک انصاف کے اندر اس وقت وزارت اعلیٰ کے لیے تین رہنما زیر غور ہیں۔ ان میں پہلے علی امین گنڈاپور شامل ہیں، جن کے ساتھ 35 سے 40 ارکان صوبائی اسمبلی کا گروپ موجود ہے۔ دوسرے امیدوار بابر سلیم سواتی ہیں، جو ماضی میں صوبائی اسمبلی کے سپیکر رہ چکے ہیں اور ہزارہ ڈویژن کے بااثر اور متمول سواتی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ جاوید چوہدری نے کہا کہ بابر سلیم سواتی بھی وزیراعلیٰ بننے کے لیے تیار ہیں، جبکہ تیسرے امیدوار ہندکو بولنے والے ایک پارٹی رہنما ہیں، جن کا نام انہوں نے ظاہر نہیں کیا۔

 

انہوں نے گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے ایک اہم آئینی نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں گورنر کی جانب سے باضابطہ سمری موجود نہیں، بلکہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی درخواست پر براہ راست حکم جاری کیا۔ ان کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے آئینی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے اور گورنر کی سمری کا نہ ہونا عدالتی کارروائی میں اہم سوال بن سکتا ہے۔ جاوید چوہدری نے اس امکان کا اظہار کیا کہ جب یہ معاملہ عدالتوں میں زیر سماعت ہو گا اور فیصلے کی نوبت قریب آئے گی تو صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلا کر نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کرایا جا سکتا ہے۔

ٹی ٹی پی نے کبھی PTI کی قیادت کو ٹارگٹ کیوں نہیں کیا؟

جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں دوبارہ حکومت دے کر سیاسی احتجاج کا راستہ روکنا چاہتی ہے۔ ان کے بقول وفاق کا مقصد یہ ہے کہ تحریک انصاف صوبے کے 36 اضلاع میں سے 12 اضلاع کا کنٹرول سنبھالے، احتجاجی سرگرمیوں سے گریز کرے اور ریاست کے ساتھ تعاون کرے۔ ان کے مطابق گورنر راج کے خاتمے اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کی ممکنہ پیش رفت کو اسی سیاسی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے۔ جاوید چوہدری نے کہا کہ پارٹی کے دو اہم رہنما مزمل اسلم اور شہباز گل ایک دوسرے کے خلاف سنگین ترین الزامات عائد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق شہباز گل نے مزمل اسلم کو حوالدار قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ جرنیلوں کے سہولت کار ہین اور پارٹی کے لیے کینسر ہیں۔ جواب میں مزمل اسلم نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے شہباز گل کو ملک سے فرار ہو جانے والا ڈالر خور بھگوڑا قرار دیا، انہوں نے شہباز گل پر امریکہ میں خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کا الزام بھی لگایا۔ مزمل اسلم نے شہباز گل کو چیلنج کیا کہ وہ پاکستان آ کر عمران خان کے سامنے ان سے بات کریں۔

Back to top button