توسیع کی بجائے ریٹائرمنٹ لینے والے جنرل کاکڑ کون تھے؟

جنرل عبدالوحید کاکڑ کی وفات کے ساتھ پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کا ایک اہم باب پھر سے موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ جنرل کاکڑ جن کا آرمی چیف بننا طاقت کے ایوانوں میں موجود بڑے بڑے ناموں کے لیے حیران کن تھا، جنہوں نے 1993 کے آئینی بحران میں صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کو مستعفی ہونے پر آمادہ کیا، فوج کے اندر بغاوت کی سازش ناکام بنائی اور پھر وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جانب سے مدتِ ملازمت میں توسیع کی پیشکش بھی قبول نہیں کی۔ ان کی شخصیت پاکستان میں فوج اور سیاست کے تعلقات، جمہوری نظام کی بقا اور عسکری قیادت کے اختیارات کے حوالے سے کئی اہم سوالات چھوڑ گئی ہے۔

1993 سے 1996 تک پاک فوج کے سربراہ رہنے والے پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ 26 اکتوبر 2026 کو 89 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ان کا دور پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ان ہنگامہ خیز ادوار میں شمار ہوتا ہے جب صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات کی کشمکش نے ریاستی نظام کو شدید بحران سے دوچار کر رکھا تھا۔ جنرل کاکڑ نے ایک طرف فوج کے سیاسی کردار کو محدود رکھنے کی بات کی، لیکن دوسری جانب ان کے فیصلوں نے ملکی سیاست کی سمت متعین کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ 23 مارچ 1937 کو پشاور میں پیدا ہونے والے جنرل عبدالوحید کاکڑ کا تعلق کاکڑ قبیلے سے تھا۔ انہوں نے پشاور کے ایڈورڈ کالج سے تعلیم حاصل کی اور 1959 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کینیڈا اور نیشنل ڈیفنس کالج میں بھی تعلیم و تربیت حاصل کی۔ ان کے خاندانی پس منظر میں تحریک پاکستان کے معروف رہنما سردار عبدالرب نشتر سے رشتہ داری بھی شامل تھی، جو ان کے خاندان کے سیاسی و سماجی روابط کی نشاندہی کرتی ہے۔

سابق سفارت کار اور صحافی ملیحہ لودھی نے اپنی کتاب پاکستانز انکاؤنٹر ود ڈیموکریسی میں لکھا کہ جنرل کاکڑ کو ان کے ساتھی ایک غیر سیاسی، صاف گو، دیانت دار اور اصول پسند فوجی افسر سمجھتے تھے۔ ان کے مزاج میں دوٹوک پن اور سخت نظم و ضبط نمایاں تھا۔ تاہم، ان کی یہی خصوصیات اس وقت ایک بڑے امتحان سے دوچار ہوئیں جب انہیں پاکستان کے طاقتور ترین عسکری منصب کی ذمہ داری سونپی گئی۔

جنرل کاکڑ کی بطور آرمی چیف تقرری کسی متوقع فیصلے کا نتیجہ نہیں تھی۔ 1993 میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک وفات کے بعد نئے آرمی چیف کے انتخاب پر سیاسی اور عسکری حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ وزیراعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کے درمیان اس تقرری کے معاملے پر اختلافات بھی موجود تھے، جبکہ مختلف حلقے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو اس منصب پر دیکھنا چاہتے تھے۔

سیاسی و دفاعی امور کے تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق، نواز شریف کے قریبی حلقوں میں لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی اور لیفٹیننٹ جنرل غلام محمد ملک کے نام زیرِ غور تھے، جبکہ صدر غلام اسحاق خان کے قریب سمجھے جانے والے حلقوں میں اس وقت کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل فرخ کا نام نمایاں تھا۔ سینیارٹی کے اعتبار سے بھی متعدد افسران جنرل کاکڑ سے آگے تھے۔مصنف ہین جی کیسلنگ نے اپنی کتاب دی انٹر سروسز انٹیلیجنس آف پاکستان میں لکھا کہ جنرل کاکڑ کو کوئٹہ میں تعینات کور کمانڈر کی حیثیت سے آرمی چیف مقرر کیا گیا، حالانکہ وہ سینیارٹی میں پانچویں نمبر پر تھے اور ریٹائرمنٹ کی تیاری کر رہے تھے۔ ان کی تقرری نے ان تمام افسران کو حیران کر دیا جو اس اعلیٰ ترین منصب کے لیے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔

ملیحہ لودھی کے مطابق، جنرل کاکڑ کے انتخاب کے نتیجے میں چار ایسے افسران آرمی چیف بننے سے محروم رہ گئے جو سینیارٹی میں ان سے آگے تھے۔ ان میں لیفٹیننٹ جنرل رحم دل بھٹی، لیفٹیننٹ جنرل محمد اشرف، لیفٹیننٹ جنرل فرخ اور لیفٹیننٹ جنرل عارف بنگش شامل تھے۔ اس طرح صدر غلام اسحاق خان کے فیصلے نے نہ صرف فوج کی اعلیٰ قیادت میں تبدیلی کی بلکہ اس کے اثرات ملکی سیاست پر بھی مرتب ہوئے۔

جنرل کاکڑ کی تقرری کے بارے میں یہ رائے بھی سامنے آئی کہ ان کا نسبتاً غیر سیاسی مزاج ہی ان کے انتخاب کی ایک اہم وجہ تھا۔ تاہم، حالات نے جلد ثابت کر دیا کہ کسی فوجی سربراہ کے لیے سیاست سے دور رہنے کا اعلان کرنا اور عملی طور پر سیاسی بحرانوں سے الگ رہنا دو مختلف باتیں ہیں۔جنرل عبدالوحید کاکڑ کے دور کا سب سے اہم اور متنازع واقعہ 1993 کا سیاسی و آئینی بحران تھا، جب صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ دونوں کے درمیان اختیارات کی جنگ نے حکومت اور ریاستی اداروں کے تعلقات کو غیر معمولی تناؤ سے دوچار کر دیا۔محمد انور اور عباد بیگ نے اپنی کتاب پاکستان: ٹائم فار چینج میں لکھا کہ جنرل کاکڑ اپنے دور میں ملکی سیاسی صورتِ حال پر خاصا اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ ان کے مطابق، 1993 کے بحران میں جنرل کاکڑ نے صدر اور وزیراعظم دونوں کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا، جس کے بعد نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوئی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں۔

اس بحران کے دوران یہ سوال بھی زیرِ بحث آیا کہ آیا فوج سیاسی تصادم کو ختم کرنے کے لیے آئینی حدود میں رہ کر کردار ادا کر رہی تھی یا عملاً سیاسی قیادت پر فیصلہ مسلط کیا جا رہا تھا۔ سابق بیوروکریٹ روئیداد خان کے بیان کے مطابق، انہوں نے جنرل کاکڑ سے کہا تھا کہ ماضی میں فوج اس سے کم وجوہات کی بنیاد پر مارشل لا نافذ کر چکی ہے، تاہم اب آئین کی آٹھویں ترمیم صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتی ہے۔روئیداد خان کی کتاب پاکستان اے ڈریم گون سار کے مطابق، جنرل کاکڑ نے واضح کیا کہ مارشل لا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، البتہ اگر صدر آئین کے مطابق کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو فوج ان کا ساتھ دے گی۔ اس موقف سے یہ تاثر سامنے آیا کہ جنرل کاکڑ براہِ راست فوجی حکومت کے قیام کے بجائے آئینی طریقۂ کار کے تحت بحران کے حل کو ترجیح دے رہے تھے۔تاہم، ان کے کردار کی جمہوری حیثیت آج بھی بحث طلب ہے۔ ایک نقطۂ نظر کے مطابق، انہوں نے سیاسی تصادم کو ختم کرکے ملک کو ایک بڑے ادارہ جاتی ٹکراؤ سے بچایا، جبکہ دوسرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ صدر اور وزیراعظم کو بیک وقت رخصت ہونے پر مجبور کرنا منتخب سیاسی قیادت کے اختیارات میں عسکری مداخلت کی ایک نمایاں مثال تھا۔ یہی تضاد جنرل کاکڑ کے سیاسی ورثے کا بنیادی حصہ ہے۔

جنرل کاکڑ کے دور میں دوسرا بڑا چیلنج ستمبر 1995 میں سامنے آیا، جب فوجی افسران کے ایک گروہ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی مبینہ سازش کا سراغ ملا۔ محمد انور اور عباد بیگ کے مطابق، اس گروہ کی قیادت میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کر رہے تھے اور اسے شدت پسند تنظیم حرکت الجہاد الاسلامی کی حمایت حاصل تھی۔مبینہ منصوبے میں آرمی چیف اور وزیراعظم کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے کی سازش شامل تھی۔ اس گروہ کے ارادوں کے بارے میں سامنے آنے والی تفصیلات نے فوج کے اندر انتہا پسندانہ رجحانات اور ریاستی نظام کے لیے ممکنہ خطرات پر بھی توجہ مبذول کرائی۔جنرل کاکڑ کی قیادت میں فوج نے اس سازش کو ناکام بنایا، ملوث افراد کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف مقدمات چلائے۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی کو بھی بعد ازاں قید کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہیں چند برس بعد رہا کر دیا گیا۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب ڈاٹر آف ڈیسٹنی میں اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ جنرل کاکڑ نے انہیں سازش کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور ان کے سامنے ایک ایسا مسودہ بھی پیش کیا گیا جو مبینہ طور پر سازش میں شریک افسر نے قوم سے خطاب کے لیے تیار کیا تھا۔ اس خطاب میں ایک نام نہاد اسلامی انقلاب اور عالمِ اسلام کے اتحاد کا تصور پیش کیا گیا تھا۔بے نظیر بھٹو کے بیان کے مطابق، اس منصوبے میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد ختم کرنے اور اسلامی دنیا کو ایک سیاسی وحدت میں تبدیل کرنے جیسے تصورات بھی شامل تھے۔ ان کے خیال میں یہ منصوبہ مذہبی نعروں کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا تھا۔اس واقعے نے جنرل کاکڑ کے لیے ایک مشکل سوال کھڑا کر دیا تھا کہ فوج کے اندر ایسے عناصر سے کیسے نمٹا جائے جو ریاستی نظام کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنا چاہتے ہوں۔ ان کی جانب سے سازش ناکام بنانے کا اقدام فوجی نظم و ضبط اور ریاستی سلامتی کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔

جنرل عبدالوحید کاکڑ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع لینے سے انکار کر دیا۔ بے نظیر بھٹو کے مطابق، فوج میں انتہا پسند عناصر کی موجودگی کے باعث انہیں جنرل کاکڑ کی قیادت پر اعتماد تھا، اسی لیے انہوں نے 1995 میں ان کی مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد بھی انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی۔تاہم، جنرل کاکڑ نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ سیاسی و دفاعی امور کے تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق، پاکستان کی عسکری تاریخ میں جنرل ٹکا خان اور جنرل عبدالوحید کاکڑ ان افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے توسیع کی پیشکش قبول کرنے کے بجائے مقررہ مدت پوری کرکے عہدہ چھوڑنے کو ترجیح دی۔

تاریخ سے شغف رکھنے والے لکھاری محمد حسن معراج کے مطابق، 1995 کے اواخر میں حکومت نے مختلف ذرائع سے جنرل کاکڑ کو توسیع پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ ایک مشہور روایت کے مطابق، عمرے سے واپسی پر جب ان سے عہدے پر برقرار رہنے کے فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے مختصر جواب دیا: ’’نا مَڑا۔۔۔ آئی ایم گوئنگ ہوم۔‘‘یہ جملہ ان کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے مشہور ہوا اور اسے اس فیصلے کی علامت سمجھا گیا کہ وہ عہدے سے چمٹے رہنے کے بجائے مقررہ مدت کے اختتام پر رخصت ہونا چاہتے تھے۔ اگرچہ کسی فوجی سربراہ کی توسیع قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اپنی جگہ ایک ذاتی اور ادارہ جاتی معاملہ ہے، لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس فیصلے کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔

1996 میں عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد جنرل عبدالوحید کاکڑ نے عمومی طور پر سیاسی معاملات پر تبصرے سے گریز کیا اور نسبتاً خاموش زندگی گزاری۔ ماجد نظامی کے مطابق، ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا سیاسی معاملات سے فاصلہ برقرار رکھنا انہیں کئی دوسرے طاقتور فوجی سربراہوں سے ممتاز کرتا ہے۔تاہم، ان کے دور کا جائزہ لیتے ہوئے صرف ان کے خاموش طرزِ زندگی یا توسیع سے انکار کو ہی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کی قیادت میں فوج نے ایک طرف اندرونی بغاوت کی مبینہ سازش ناکام بنائی، دوسری طرف 1993 کے سیاسی بحران میں منتخب وزیراعظم اور صدر کے مستقبل کے تعین میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ان کے حامیوں کے نزدیک، انہوں نے ایک ایسے وقت میں سیاسی تصادم ختم کرنے کی کوشش کی جب ریاستی اداروں کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی تھی۔ ان کے ناقدین کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی بحران کا حل منتخب قیادت کو مستعفی ہونے پر مجبور کرکے نکالنا جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے مترادف تھا، یا اس سے سیاست میں فوج کے فیصلہ کن کردار کی روایت مزید مستحکم ہوئی؟

جنرل عبدالوحید کاکڑ کی زندگی اور عسکری خدمات پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہیں جس میں اصول پسندی، عسکری نظم و ضبط، سیاسی مداخلت اور جمہوری استحکام کے متضاد پہلو ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد ان کے کردار کا دوبارہ جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال بدستور اہم ہے کہ کیا انہوں نے 1993 میں جمہوریت کو بحران سے نکالنے میں مدد دی تھی، یا اس وقت کے سیاسی نظام پر فوج کے اثر و رسوخ کو مزید نمایاں کیا تھا؟ اس سوال کا حتمی جواب تاریخ، سیاسی تجزیے اور جمہوری اصولوں کی روشنی میں ہی تلاش کیا جا سکتا ہے۔

Back to top button