تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے بے نقاب؟ خیبرپختونخوا کے 627 سرکاری سکول بند

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے صوبے میں پی ٹی آئی کی طرف سے لائی گئی تبدیلی کا ایک ایک پرت کھلتا دکھائی دیتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں تعلیمی ایمرجنسی کے دعووں، ہر سال داخلہ مہمات اور سرکاری وسائل کے استعمال کے باوجود 627 سرکاری سکولوں کا غیر فعال ہونا صوبے کے تعلیمی نظام کی منصوبہ بندی، انتظامی کارکردگی اور حکومتی ترجیحات پر سنگین سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی دستاویزات کے مطابق 26 اضلاع میں بند پڑے ان سکولوں میں 299 ایسے ہیں جہاں نہ کوئی استاد تعینات ہے اور نہ ہی کوئی طالب علم زیرِ تعلیم ہے، جبکہ 524 سکول لڑکیوں کے ہیں۔ مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ 11 سکولوں پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف ہوا ہے اور متعدد سکول اساتذہ کی عدم دستیابی، طلبہ کے داخلے نہ ہونے اور زمین کے تنازعات کے باعث تعلیمی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتِ حال محض بند عمارتوں کا معاملہ نہیں بلکہ ان بچوں کے تعلیمی مستقبل کا سوال بھی ہے جنہیں سرکاری سکولوں کے ذریعے تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

خیبرپختونخوا میں مختلف ادوار کے دوران حکومتیں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے اور سکولوں میں بچوں کے داخلوں میں اضافے کے لیے مہمات چلانے کے دعوے کرتی رہی ہیں، لیکن دستیاب سرکاری دستاویزات ایک مختلف صورتِ حال پیش کرتی ہیں۔ صوبے کے مجموعی طور پر 34 ہزار 784 سرکاری سکولوں میں تقریباً 59 لاکھ بچے زیرِ تعلیم ہیں، تاہم 26 اضلاع میں 627 سکول غیر فعال پڑے ہیں۔ ان میں 580 پرائمری، 31 مڈل، 10 مکتب اور 6 ہائی سکول شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق بند سکولوں میں لڑکیوں کے 524 اور لڑکوں کے 103 سکول شامل ہیں۔ یوں غیر فعال سکولوں میں لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کا حصہ 83 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ یہ فرق اس بات کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے کہ حکومت سکولوں کی بندش کی وجوہات، طالبات کی تعلیمی سہولتوں تک رسائی اور متعلقہ علاقوں میں سکولوں کی عملی افادیت کا الگ سے جائزہ لے۔

محکمہ تعلیم کی دستاویزات کے مطابق 299 سکول ایسے ہیں جہاں نہ تدریسی عملہ موجود ہے اور نہ ہی کوئی طالب علم داخل ہے۔ ان اداروں کی غیر فعالیت کے پیچھے مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں، تاہم دستیاب معلومات میں تمام 299 سکولوں کی انفرادی وجوہات کی تفصیل سامنے نہیں آتی۔

دستاویزات کے مطابق 207 سکول اساتذہ کی کمی یا عدم تعیناتی کے باعث غیر فعال ہیں۔ ان سکولوں میں تدریسی عملہ دستیاب نہ ہونے کے باعث تعلیمی سرگرمیاں شروع نہیں ہوسکیں۔ اس کے علاوہ 16 ایسے سکول بھی ہیں جن کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے، لیکن وہاں اب تک اساتذہ تعینات نہیں کیے گئے۔

یہ صورتِ حال سرکاری منصوبہ بندی کے ایک بنیادی پہلو کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ سکول کی عمارت تعمیر کرنا ہی تعلیمی سہولت فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس کے ساتھ اساتذہ کی دستیابی، طلبہ کے داخلوں، تدریسی وسائل اور مستقل انتظامی نگرانی کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔دستیاب دستاویزات کے مطابق 66 سکول ایسے ہیں جہاں تدریسی عملہ موجود ہے، لیکن کوئی طالب علم زیرِ تعلیم نہیں۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان سکولوں میں داخلے نہ ہونے کی وجوہات کیا ہیں اور آیا ان کے محلِ وقوع، مقامی آبادی، تعلیمی ضروریات یا دیگر مسائل کا مناسب جائزہ لیا گیا تھا۔

دوسری جانب 28 سکول حکومت اور زمین فراہم کرنے والے مالکان کے درمیان تنازعات کے باعث بند ہیں۔ ان سکولوں میں طلبہ بھی زیرِ تعلیم تھے اور اساتذہ بھی تعینات تھے، لیکن زمین کے تنازعات نے تعلیمی سرگرمیاں معطل کردیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکولوں کی تعمیر سے پہلے زمین کی قانونی حیثیت اور ملکیت کے معاملات کو حتمی شکل دینا کس قدر اہم ہے۔اسی طرح 11 سکولوں پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف بھی سرکاری تعلیمی املاک کے تحفظ اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھاتا ہے۔ تاہم، دستیاب معلومات میں ان قبضوں کی نوعیت، ذمہ دار افراد یا متعلقہ کارروائیوں کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق بعض علاقوں میں سکولوں کی تعمیر سیاسی بنیادوں پر کی جاتی ہے اور منصوبوں کے انتخاب میں محکمہ تعلیم کا کردار بھی زیرِ سوال ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض سکول آبادی سے دور اور فزیبلٹی کا مناسب جائزہ لیے بغیر تعمیر کیے گئے۔ان اطلاعات کے مطابق، کچھ سکول دور دراز پہاڑی علاقوں میں ایسی جگہوں پر قائم کیے گئے جہاں یا تو آبادی موجود نہیں تھی یا طلبہ کی تعداد اتنی کم تھی کہ وہاں سکول چلانا مشکل ہوگیا۔ نتیجتاً سرکاری وسائل سے عمارتیں تعمیر ہونے کے باوجود مقامی آبادی کو مطلوبہ تعلیمی سہولت میسر نہ آسکی۔

غیر فعال سکولوں کی ضلع وار تفصیلات میں جنوبی وزیرستان 119 سکولوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ شمالی وزیرستان میں 111 سکول بند ہیں۔ بنوں میں 89، اپر کوہستان میں 68، کرم میں 51، لوئر کوہستان میں 29 اور خیبر میں 27 سکول غیر فعال ہیں۔اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان اور اورکزئی میں 22، 22، ہنگو میں 16، دتہ خیل میں 13 اور مہمند میں 12 سکول بند پڑے ہیں۔ مانسہرہ اور ٹانک میں 7، 7، پشاور میں 5، جبکہ چارسدہ اور سوات میں 4، 4 سکول غیر فعال ہیں۔کوہاٹ، کولئی پالس اور شانگلہ میں 3، 3 سکول بند ہیں۔ باجوڑ، لکی مروت اور نوشہرہ میں 2، 2 جبکہ کرک، مردان اور صوابی میں ایک، ایک سکول غیر فعال بتایا گیا ہے۔

مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور کے مطابق حکومت تمام محکموں کے منصوبوں کا جائزہ لے رہی ہے، خصوصاً یہ جانچنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ 2013 سے اب تک فنڈز کہاں اور کس طرح استعمال کیے گئے۔یہ جائزہ تعلیمی منصوبوں کی افادیت جانچنے کا ایک اہم موقع فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم، اصل پیش رفت کا اندازہ اسی وقت ممکن ہوگا جب سکولوں کی تعمیر پر خرچ ہونے والی رقم، غیر فعال رہنے کی وجوہات، اساتذہ کی تعیناتی اور قبضوں یا زمین کے تنازعات کے حل سے متعلق واضح نتائج سامنے آئیں۔حکومت کے سامنے فوری چیلنج یہ ہے کہ بند سکولوں کی جامع فہرست مرتب کرکے ہر ادارے کے مسئلے کی نشاندہی کی جائے۔ جہاں اساتذہ کی کمی ہے وہاں تعیناتی، جہاں داخلے نہیں وہاں مقامی ضروریات کے مطابق حکمتِ عملی، جہاں زمین کے تنازعات ہیں وہاں قانونی حل، اور جہاں غیر قانونی قبضے ہیں وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی ضرورت ہے۔ناقدین کے مطابق تعلیمی ایمرجنسی کی کامیابی کا پیمانہ اعلانات، داخلہ مہمات یا نئی عمارتوں کی تعداد نہیں، بلکہ فعال سکول، حاضر اساتذہ اور تعلیم حاصل کرتے بچے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 627 اسکولوں کی غیر فعالیت اور ان میں لڑکیوں کے اداروں کی نمایاں تعداد اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت اعداد و شمار کے جائزے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرے۔ اگر سرکاری وسائل سے تعمیر ہونے والے سکول بچوں کو تعلیم فراہم نہیں کررہے تو ان کی وجوہات سامنے لانا، ذمہ داری کا تعین کرنا اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنا ناگزیر ہے۔

Back to top button