ٹی ٹی پی نے کبھی PTI کی قیادت کو ٹارگٹ کیوں نہیں کیا؟

 

 

 

 

 

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سلیم صافی نے کہا ہے کہ تحریک طالبان کی جانب سے تحریک انصاف کی قیادت کو دہشت گردی کا نشانہ نہ بنانے کی بنیادی وجہ دونوں کے مابین پائی جانے والی خاموش گڈ ول (Goodwill)، نظریاتی ہم آہنگی اور ماضی کے باہمی رابطے ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سلیم صافی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے تحریک انصاف کو ٹی ٹی پی کی بی ٹیم یا سہولت کار قرار دینا بظاہر درست نہیں، کیونکہ نہ تو پی ٹی آئی نے تحریک طالبان کی دہشت گرد کارروائیوں میں حصہ لیا اور نہ ہی ٹی ٹی پی اسے براہ راست کوئی مدد فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں کے درمیان پائے جانے والے نرم گوشے کا بنیادی سبب پی ٹی آئی کی جانب سے ماضی میں تحریک طالبان کی قیادت کے خلاف ہونے والے ڈرون حملوں کی مخالفت ہے، اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ تحریک طالبان سے مذاکرات کی حمایت اور ان کے خلاف فوجی آپریشنز کی مخالفت کی ہے۔

 

سلیم صافی کے مطابق ٹی ٹی پی کو سب سے زیادہ نقصان امریکی ڈرون حملوں سے پہنچا، جن میں اس کے بانی مولوی نیک محمد، اس کے بعد کمانڈر بیت اللہ محسود، پھر کمانڈر حکیم اللہ محسود اور اسکے بعد مولوی فضل اللہ سمیت کئی اہم رہنما مارے گئے۔ دوسری جانب عمران خان نے اپنی سیاست میں ڈرون حملوں کی مخالفت پر فوکس کیا اور ان کے خلاف احتجاجی مہم چلائی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت کے اندر عمران اور تحریک انصاف کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا ہوا، کیونکہ پی ٹی آئی بالواسطہ اس مسئلے پر تحریک طالبان کے مؤقف کی حمایت کررہی تھی۔

 

انہوں نے کہا ہے کہ 2022ء تک عمران خان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر تھے۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ افغان طالبان کی درپردہ حمایت کررہی تھی، جبکہ عمران خان بھی کھل کر افغان طالبان کی حمایت کرتے تھے۔ چونکہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے درمیان نظریاتی اور تنظیمی قربت پائی جاتی ہے اور ٹی ٹی پی والے افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کو اپنا امیر تسلیم کرتے ہیں، اسلیے سلیم صافی کے مطابق یہ تعلق تحریک انصاف کے بارے میں طالبان کے نرم رویے کی ایک اہم وجہ بنا۔

 

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے شمالی وزیرستان کے ایک فوجی آپریشن کے سوا بیشتر فوجی آپریشنز کی حمایت نہیں کی اور تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حامی رہی ہے۔ انکے مطابق 2014 کے دھرنوں سے قبل، جب ٹی ٹی پی کی دہشت گرد کارروائیاں عروج پر تھیں، تب تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک مذہبی شخصیت کے ذریعے طالبان قیادت سے براہ راست رابطہ کیا تھا۔ اس رابطے کے نتیجے میں یہ طے پایا کہ ٹی ٹی پی دھرنوں کو نشانہ نہیں بنائے گی جبکہ پی ٹی آئی طالبان کے خلاف بیان بازی سے گریز کرے گی۔ ان کے مطابق دہشت گرد تنظیم قرار دی جانے جانے والی تحریک طالبان اور تحریک انصاف کی قیادت کے مابین باہمی احترام کا یہ سلسلہ تب سے جاری ہے۔

 

سلیم صافی نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابی کے بعد عمران خان نے نہ صرف افغانوں کی جانب سے امریکی غلامی کی زنجیریں توڑنے کا اعلان کیا تھا بلکہ ایک موقع پر اسامہ بن لادن کو شہید بھی قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق عمران خان اور تب کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید نے افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کے ارکان کو واپس لاکر پاکستان میں آباد کرنے کا منصوبہ بنایا، جس کے تحت کئی ہزار جنگجو سوات اور شمالی و جنوبی وزیرستان واپس آ کر بس گئے۔ تاہم ان کی واپسی سے خیبر پختون خواہ اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی بھی واپس آ گئی جس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے۔

تعلیمی ایمرجنسی کے دعوے بے نقاب؟ خیبرپختونخوا کے 627 سرکاری سکول بند

سلیم صافی کے مطابق جنرل فیض حمید نے ٹی ٹی پی کے تقریباً 120 گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور انہیں عام معافی دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی، جس کے لیے وزیراعظم ہاؤس سے صدر عارف علوی کو سمری بھی تیار کی گئی، تاہم تحریک انصاف کے اندر مخالفت کے باعث اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ اسی طرح جب جنرل فیض حمید پشاور کے کور کمانڈر تھے تو پی ٹی آئی حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کی قیادت میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے ایک وفد افغانستان بھیجا گیا، لیکن وفاقی حکومت کی تبدیلی اور فاٹا انضمام کی واپسی سمیت طالبان کے مطالبات پر اختلافات کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔ صافی نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی کے درمیان تعلقات کا اصل پس منظر یہی ماضی کے رابطے، مذاکرات کی حمایت اور طالبان مخالف پالیسی سے گریز ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ٹی ٹی پی نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے تیرہ سالہ دور حکومت کے دوران اس کی قیادت کو نشانہ نہیں بنایا، جبکہ پی ٹی آئی کے وزرائے اعلیٰ بھی فوجی دباؤ کے باوجود طالبان کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرتے رہے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ایسا کرنے کی صورت میں ان کی جماعت کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوسکتا ہے جو ماضی میں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ہوا تھا۔ تاہم انہوں نے اسرار گنڈاپور اور اکرام گنڈاپور کے واقعات کو الگ نوعیت کے معاملات قرار دیا ہے۔

Back to top button