پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 52 فیصد اضافے سے 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے معاشی اشاریوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے،زرمبادلہ ذخائر میں52 فیصد اضافہ ہوا جب کہ برآمدات، ترسیلات زر اور آئی ٹی شعبے کی آمدنی میں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے اقتصادی و مالیاتی اصلاحات خرم شہزاد نے پہلی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتےہوئے بتایاکہ جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 52 فیصد اضافے کے ساتھ21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جب کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں7 فیصد اضافے سے 3.1 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئیں۔
خرم شہزاد کے مطابق پہلی سہ ماہی میں مجموعی برآمدات11 فیصد اضافے کے ساتھ 11.2 ارب ڈالر رہیں، جب کہ ترسیلات زر میں 14 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
انہوں نے بتایاکہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا، جو 1.25 ارب ڈالر رہیں۔ اسی طرح فری لانسرز کی آمدنی 46 فیصد اضافے کے ساتھ 550 ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
وفاقی مشیر کےمطابق تینوں بڑی عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ’بی‘ کیٹیگری میں مستحکم قراردیا ہے۔
مالیاتی شعبے کی کارکردگی پر بات کرتےہوئے خرم شہزاد نے بتایاکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں 7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.1 ٹریلین روپے رہیں،جو پہلی سہ ماہی کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہیں۔
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں 45 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 57 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی۔
پہلی سہ ماہی میں چار ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی اوز) کے ذریعے 4.6 ارب روپے جمع کیے گئے، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں جمع ہونے والے 92 کروڑ روپے کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہیں۔
خرم شہزاد کےمطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں مجموعی سرمایہ کاری28 فیصد اضافے کے ساتھ 14.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
وفاقی مشیر نے بتایا کہ مرکزی حکومت کا مجموعی قرض جون 2026 کے مقابلے میں714 ارب روپے کم ہوکر86 ٹریلین روپے رہ گیا، جب کہ ملکی قرض میں684 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 58.8 ٹریلین روپے پر آ گیا۔ بیرونی قرض 98.2 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار رہا۔
