سہیل وڑائچ کی پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں کی مخالفت

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت پنجاب کی جانب سے مختلف جرائم میں ملوث ملزمان کو ماورائے عدالت جعلی پولیس مقابلوں میں پار کرنے کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس عمل کے دوران اگر ایک بھی بے گناہ شخص مارا گیا تو قیامت کے دن اس کے خون کا حساب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو قانونی کارروائی اور منصفانہ سماعت کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی، خواہ اس پر کتنا ہی سنگین جرم کیوں نہ عائد ہو۔

 

سہیل وڑائچ نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ اگرچہ پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ایسے افراد کو جعلی مقابلوں میں پار کر رہا ہے جو سنگین جرائم میں ملوث ہوتے ہیں اور جنہیں سزا ملنی چاہیے، لیکن قانونی طریقۂ کار اختیار کیے بغیر انہیں جان سے مار دینا درست نہیں۔ اس طرز عمل سے وقتی طور پر پولیس کی تعریف تو ہوتی ہے، لیکن طویل مدت میں پورا نظام انصاف متاثر ہوتا ہے اور قانون کی حکمرانی کمزور پڑ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کے اہلکار سنگین جرائم کے ملزمان کے بارے میں خود ہی فیصلہ کرتے اور خود ہی انہیں سزا دے دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ ملزمان کو عدالتوں میں پیش کرنے سے مقدمات طویل ہوں گے، گواہ سامنے نہیں آئیں گے، جج خوف زدہ ہوں گے اور ملزمان قانونی پیچیدگیوں کے باعث بری ہو جائیں گے، اس لیے مختصر راستہ اختیار کیا جاتا ہے، لیکن کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

 

سہیل وڑائچ نے تجویز دی کہ سنگین جرائم کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے خصوصی اور تیز رفتار عدالتی نظام قائم کیا جائے، تاہم اس میں قانونی تقاضوں اور منصفانہ سماعت کے اصولوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں بعض مقدمات کی جلد سماعت کے انتظامات کیے جاتے ہیں، اس لیے پاکستان میں بھی ایسے مقدمات کے لیے مخصوص دن مقرر کیے جا سکتے ہیں اور ججوں کی شناخت خفیہ رکھنے جیسے اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں، لیکن ملزمان کو عدالت میں پیش کرنا اور صفائی کا پورا موقع دینا ضروری ہے۔

 

انہوں نے خبردار کیا کہ آج ماورائے عدالت کارروائیوں پر واہ واہ ہو رہی ہے، لیکن مستقبل میں جب اس طرز عمل کے نتیجے میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا۔ اگر لوگوں کا اعتماد عدالتی نظام سے اٹھ گیا اور ہر شخص فوری فیصلوں کا مطالبہ کرنے لگا تو معاشرے میں قانون کی حکمرانی برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کی عدالتیں قائم ہونے کے بعد بھی بعض لوگ اپنے مقدمات ان عدالتوں میں چلانے کا مطالبہ کرتے تھے، کیونکہ انہیں عام عدالتی نظام پر اعتماد نہیں رہا تھا۔

 

سہیل وڑائچ نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت واقعی سنگین جرائم کے ملزمان کو جلد سزا دلوانا چاہتی ہے تو اس نے گواہوں کے تحفظ کے لیے کون سے قوانین بنائے ہیں اور ججوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ قانونی کارروائی میں تاخیر اور گواہوں کے عدم تحفظ جیسے مسائل کا حل عدالتی نظام کو مؤثر بنانا ہے، نہ کہ ملزمان کو عدالتوں میں پیش کیے بغیر قتل کر دینا۔ اگر ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر ماورائے عدالت کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو انصاف کی فراہمی مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہائی کورٹس، سیشن عدالتوں اور ماتحت عدالتوں سمیت ایک مکمل عدالتی نظام موجود ہے، جہاں سے مقدمات سپریم کورٹ تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ اب ایک آئینی عدالت بھی قائم ہو چکی ہے۔ ایسے میں ان اداروں کو فعال بنانے اور قانونی طریقۂ کار بہتر کرنے کے بجائے ایسا راستہ اختیار کرنا، جسے قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے، کسی صورت درست نہیں۔ اگر ریاست مسلسل قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرتی رہی تو پاکستان کا عدالتی نظام اور قانون کی حکمرانی عالمی سطح پر بھی تنقید کی زد میں آ سکتے ہیں۔

مریم نواز اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر اتنی برہم کیوں؟

سہیل وڑائچ نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک فراڈیے کے ہاتھوں اپنی جمع پونجی لٹانے کے بعد خود کشی کرنے والی لائبہ کا معاملہ ہو یا اس نوعیت کا کوئی دوسرا افسوس ناک واقعہ، بعض اوقات غم اور غصے کی شدت میں قانون اور انصاف کی بات کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے، لیکن ایسے حالات میں بھی قانونی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آج جن افراد کو مجرم سمجھ کر ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے، کل اسی طریقۂ کار کے تحت بے گناہ شہری بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔ اگر اس عمل میں ایک بے گناہ شخص بھی قتل ہو گیا تو قیامت کے دن اس کے خون کا جواب کون دے گا اور اس کے حق میں آواز کون اٹھائے گا؟

Back to top button