لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ذاتی وجوہات اور حالیہ سرجری کےبعد صحت سے متعلق خدشات کو استعفے کی وجوہات قراردیا ہے۔
صدر پاکستان کو لکھےگئے استعفے میں انہوں نے کہاکہ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دےچکے ہیں اور اپنے دور میں مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتےہوئے کہاکہ ان تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خود مختاری کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے عدالتی معاملات میں انتظامیہ کےبڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہاکہ اس سے عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ وہ عہدہ چھوڑنے کےبعد وکالت کے ذریعے عوام کے حقوق کےتحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کےلیے کام جاری رکھیں گے۔
یاد رہے گزشتہ روز جسٹس محسن اختر کیانی کا لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں تبادلہ کیاگیا تھا۔
اس سے قبل رواں سال اپریل میں جسٹس محسن اختر کیانی کا دیگر ججز کے ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ سے لاہور ہائی کورٹ میں تبادلہ ہوا تھا۔جسٹس محسن اختر کیانی کو 11 فروری 2032 کو ریٹائر ہونا تھا۔
