مریم نواز اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر اتنی برہم کیوں؟

حالیہ دنوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازاپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر شدید برہم دکھائی دیتی ہیں، گزشتہ کچھ روز کے دوران مریم نواز کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر عوام کو درپیش مشکلات، غریبوں اور مزدوروں کے استحصال اور دولت و طاقت کے بل بوتے پر خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے عناصر کے خلاف سخت بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی بھی شہری کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی اور طاقتور افراد کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ تاہم صحافتی حلقوں میں ان بیانات کے انداز، حکومتی حکمت عملی اور انصاف کی فراہمی کے لیے اختیار کیے جانے والے طریقہ کار پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔

مبصرین کے مطابق مریم نواز نے حالیہ دنوں میں ایسے واقعات پر فوری ردعمل دیا جن میں مبینہ طور پر بااثر افراد نے عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ لاہور کے جوبلی ٹاؤن میں ایک پٹرول پمپ کے ملازم کو سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا واقعہ بھی ان میں شامل ہے۔ 23 اکتوبر 2026 کو اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے اسے ان لوگوں کے لیے طمانچہ قرار دیا جو دولت اور طاقت کے بل پر غریبوں کو کمتر سمجھتے اور خود کو قانون سے بالاتر تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہیں اور انصاف ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مریم نواز نے ایک اسکول میں استاد کی جانب سے بچے پر تشدد اور اسکوٹی سوار لڑکی پر حملے جیسے واقعات پر بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اسکوٹی سوار لڑکی سے گفتگو کے دوران وزیراعلیٰ نے ملزم کو بھی اسی طرح تھپڑ مارنے کی بات کی، جس طرح اس نے متاثرہ لڑکی کو مارے تھے۔ تاہم متاثرہ لڑکی نے حکومتی تحفظ اور انصاف کی یقین دہانی کو اپنے لیے کافی قرار دیا۔ ان واقعات پر وزیراعلیٰ کے ردعمل کو بعض حلقے عام شہریوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے حلقے سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایسے معاملات میں سخت بیانات کے بجائے قانونی کارروائی اور ادارہ جاتی اصلاحات کو زیادہ نمایاں ہونا چاہیے۔

سینیئر صحافی ماجد نظامی کے مطابق مریم نواز اپنی حکومت پر ہونے والی تنقید سے پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کو جہاز کی خریداری کے معاملے سمیت مختلف امور پر تنقید کا سامنا رہا ہے اور حکومت کی ابلاغی حکمت عملی بھی توقعات کے مطابق کامیاب نہیں ہوئی۔ ماجد نظامی کے خیال میں ایسے حالات میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے فوری اور مقبول فیصلوں کو نمایاں کیا جا رہا ہے، جبکہ ان اقدامات کے آئینی اور قانونی پہلوؤں پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔ ان کے مطابق مریم نواز اصلاحات کے بجائے ایسے فیصلوں کو ترجیح دے رہی ہیں جن کے فوری نتائج سامنے آئیں اور عوام میں ان کی پذیرائی ہو۔

سینیئر صحافی احمد ولید بھی وزیراعلیٰ کے حالیہ بیانات کے انداز پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جہاز کی خریداری پر ہونے والی تنقید اور حالیہ واقعات کے بعد مریم نواز کے بیانات میں غیر معمولی سختی دکھائی دے رہی ہے، تاہم انہیں ایسے معاملات میں مؤثر قانون سازی اور اداروں کی مضبوطی پر توجہ دینی چاہیے۔ احمد ولید کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پولیس کی کارروائیوں اور مبینہ پولیس مقابلوں کے معاملے پر وزیراعلیٰ کی کھلی حمایت تشدد کے رجحان کو تقویت دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر انصاف کے لیے قانونی نظام کے بجائے عوامی جذبات کے مطابق فیصلوں کو فروغ دیا جائے تو عدالتوں اور متعلقہ اداروں کی اہمیت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

دوسری جانب سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب وزیراعلیٰ کے مؤقف کی حمایت کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت عوامی فلاح، صحت، صفائی، ماحولیاتی تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کر رہی ہے اور استحصال، بدعنوانی یا عوام پر ظلم کی کسی بھی صورت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور طاقتور عناصر کو جواب دہ بنانے کے ساتھ عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا وزیراعلیٰ کے وژن کا حصہ ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مریم نواز کے بیانات میں غصے، عوامی ہمدردی اور سیاسی حکمت عملی کے عناصر کو الگ الگ دیکھنے کے بجائے ان کے عملی نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ایک طرف عام شہریوں کے ساتھ ہونے والے تشدد پر حکومتی سربراہ کا فوری ردعمل متاثرین کو تحفظ کا احساس دلا سکتا ہے، لیکن دوسری طرف انصاف کے تقاضے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملزمان کے خلاف کارروائی قانون، شواہد اور عدالتی طریقہ کار کے مطابق ہو۔ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا اصل پیمانہ صرف سخت بیانات نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی، پولیس کی جواب دہی اور منصفانہ عدالتی عمل کو مضبوط بنایا جا رہا ہے یا نہیں۔

Back to top button