نوازشریف اور صدر اسحاق کو گھر بھجوانے والا کاکڑ فارمولا کیا تھا؟

سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ عبدالوحید کاکڑ کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 1993ء کے آئینی بحران کے پُرامن حل کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس وقت وزیراعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کے درمیان اختیارات کی کشمکش اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ ریاستی نظام مفلوج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ جنرل کاکڑ کی مداخلت کے نتیجے میں دونوں طاقتور شخصیات کے استعفوں اور اسمبلیوں کی تحلیل پر اتفاق ہوا۔ یہی سیاسی سمجھوتا تاریخ میں ’’کاکڑ فارمولے‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔
مبصرین کے مطابق نواز شریف اور غلام اسحاق خان کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجہ اختیارات کی تقسیم تھی۔ وزیراعظم منتخب حکومت کے اختیارات بڑھانا چاہتے تھے، جبکہ صدر آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت حاصل اختیارات برقرار رکھنے کے خواہاں تھے۔ معاشی پالیسیوں، انتظامی فیصلوں اور آئینی معاملات پر اختلافات نے دونوں ایوانوں کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کی وفات کے بعد نئے آرمی چیف کی تقرری بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کا اہم سبب بنی۔ صدر غلام اسحاق خان جنرل فرخ کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے، جبکہ نواز شریف کو اس انتخاب پر اعتراض تھا۔ بالآخر جنرل عبدالوحید کاکڑ کو آرمی چیف مقرر کیا گیا، لیکن اختیارات کی کشمکش ختم نہ ہو سکی۔ نواز شریف صدر کے آئینی اختیارات میں کمی چاہتے تھے، جبکہ صدر وزیراعظم کے اقدامات کو اپنے اختیارات کے لیے چیلنج سمجھتے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپریل 1993ء میں کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب صدر غلام اسحاق خان نے 18 اپریل کو آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کی حکومت برطرف اور قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ نواز شریف نے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا، جس پر 28 جون 1993ء کو عدالت نے ان کی حکومت بحال کر دی۔ تاہم بحالی کے باوجود وزیراعظم اور صدر کے درمیان تنازع ختم نہ ہوا اور ملک ایک مرتبہ پھر سیاسی و آئینی بحران کی لپیٹ میں آگیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بحران کے حل کے لیے جنرل عبدالوحید کاکڑ نے صدر، وزیراعظم اور فوجی قیادت کے درمیان مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ ان مذاکرات میں نواز شریف نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر انہیں مستعفی ہونا ہے تو صدر غلام اسحاق خان بھی عہدہ چھوڑیں اور نئے انتخابات کے لیے غیر جانب دار نگراں حکومت قائم کی جائے۔ بالآخر اس تجویز پر اتفاق ہوگیا کہ نواز شریف اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سفارش کریں گے، نگراں وزیراعظم مقرر ہوگا اور اس کے بعد صدر بھی مستعفی ہو جائیں گے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کاکڑ فارمولے کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بحران کے حل کے لیے صرف وزیراعظم یا صدر کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے دونوں کو عہدوں سے الگ کرکے نئے سیاسی عمل کی راہ ہموار کی جائے۔ 18 جولائی 1993ء کو نواز شریف نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کی سفارش کی اور بعد ازاں غلام اسحاق خان نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ یوں دونوں طاقتور شخصیات کی رخصتی کے ساتھ ایک طویل آئینی کشمکش اپنے اختتام کو پہنچی۔
سیاسی امور کے ماہرین کے خیال میں کاکڑ فارمولہ اس اعتبار سے منفرد تھا کہ فوجی سربراہ نے خود براہِ راست اقتدار سنبھالنے کے بجائے صدر اور وزیراعظم کے استعفوں پر مشتمل سمجھوتے کے ذریعے بحران ختم کرانے کی کوشش کی۔ تاہم اس واقعے نے پاکستان کی سیاست میں فوج کے ثالثی کردار اور منتخب حکومتوں کے معاملات میں عسکری مداخلت کی حدود سے متعلق بحث کو بھی نمایاں کیا۔
