مسلسل مزاحمتی سیاست نے پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ کیسے کیا؟

پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ سیاسی صورت حال اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا مسلسل مزاحمت اور مفاہمت سے گریز کسی سیاسی جماعت کو تنہائی کی طرف دھکیل سکتا ہے؟ مبصرین کے مطابق اپریل 2022ء میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پی ٹی آئی کے پاس پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں اقتدار تھا، لیکن احتجاجی سیاست پر توجہ کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف تحریک انصاف کا اقتدار ختم ہوا بلکہ اس کی سیاسی پوزیشن بھی کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی گئی۔ ناقدین کے بقول اگر جماعت نے اقتدار میں رہتے ہوئے عوامی مسائل کے حل اور سیاسی مفاہمت کو ترجیح دی ہوتی تو اس کی صورت حال مختلف ہو سکتی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے خاتمے کے بعد احتجاجی سیاست کو مرکزی حکمت عملی بنایا، جس کے نتیجے میں سیاسی کشیدگی بڑھی اور 9 مئی 2023ء کے واقعات کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اس کے تعلقات مزید خراب ہوئے۔ 2024ء کے انتخابات کے بعد مفاہمت کی کوششوں کے باوجود اختلافات برقرار رہے۔ ناقدین کے مطابق، پارٹی قیادت نے مذاکرات کے حامی حلقوں کو خاطرخواہ موقع نہیں دیا، جس سے سیاسی تنہائی میں اضافہ ہوا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو ملنے والا مینڈیٹ عوامی مسائل حل کرنے کا ایک اہم موقع تھا۔ صوبے میں دہشت گردی، تباہ شدہ تعلیمی اداروں کی بحالی، صحت کی سہولیات، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری جیسے مسائل توجہ چاہتے تھے، لیکن ناقدین کا مؤقف ہے کہ پارٹی کی سرگرمیوں کا بڑا حصہ عمران خان کی رہائی کے لیے جلسوں، جلوسوں اور احتجاج تک محدود رہا۔ اس صورت حال میں عوامی توقعات اور حکومتی کارکردگی کے درمیان فاصلے بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ علی امین گنڈاپور کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں اور مفاہمت کی کوششوں کو پارٹی کے اندر موجود اختلافات نے متاثر کیا۔ مضمون کے مطابق، عمران خان کے ساتھ اختلافات کے بعد گنڈاپور کو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹایا گیا اور سہیل آفریدی نے ذمہ داری سنبھالی۔ تاہم نئے وزیراعلیٰ کو بھی حکومتی امور چلانے، مختلف سیاسی حلقوں سے رابطے رکھنے اور صوبائی مسائل حل کرنے کے ساتھ پارٹی قیادت کے سیاسی مؤقف میں توازن پیدا کرنے کا چیلنج درپیش رہا۔

سیاسی امور کے ماہرین کے خیال میں کسی صوبے کی حکومت صرف احتجاجی سیاست کے لیے نہیں بلکہ عوامی خدمت، امن و امان اور انتظامی کارکردگی کے لیے بھی ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون پر اختلافات نے صوبائی حکومت کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ ناقدین کے مطابق، اگر سیاسی جماعت اپنی حکومتی ذمہ داریوں کے بجائے مسلسل مزاحمت پر توجہ دے تو اس کے سیاسی اور انتظامی وسائل محدود ہونے لگتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی تنہائی کی ایک وجہ دیگر جماعتوں کے ساتھ اس کے کشیدہ تعلقات بھی ہیں۔ ماضی میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ سمیت مختلف جماعتوں کو سیاسی محاذ آرائی کے نتیجے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود رابطوں کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں، کیونکہ سیاسی بقا کے لیے عوامی حمایت کے ساتھ اتحادیوں اور مخالفین سے بات چیت کی گنجائش بھی ضروری ہوتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی کے لیے اب اہم سوال یہ ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتی ہے یا مزاحمتی سیاست جاری رکھتی ہے۔ مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے، وفاق کے ساتھ قابلِ عمل تعاون بڑھانے اور خیبر پختونخوا میں عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے سے پارٹی کو اپنی سیاسی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے صرف بیانات کافی نہیں ہوں گے بلکہ مذاکرات، عملی اقدامات اور حکومتی کارکردگی میں واضح تبدیلی درکار ہوگی۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی بقا کے لیے اصولی مؤقف برقرار رکھنے اور حالات کے مطابق حکمت عملی میں لچک پیدا کرنے کے درمیان توازن ضروری ہے۔ مسلسل محاذ آرائی سیاسی مخالفین کو قریب آنے سے روک سکتی ہے، جبکہ غیر مشروط مفاہمت جماعت کے حامیوں میں سوالات پیدا کر سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی مطالبات اور عوامی ذمہ داریوں کو ساتھ لے کر چلے، تاکہ اس کی سیاست صرف ایک رہنما کی رہائی کے گرد محدود نہ رہے۔

سیاسی تاریخ میں کئی جماعتوں نے وقت کے ساتھ اپنے طرزِعمل پر نظرثانی کرکے سیاسی عمل میں واپسی کی کوشش کی۔ پی ٹی آئی کے لیے بھی مفاہمت، صوبائی حکمرانی اور عوامی خدمت پر توجہ ایک ممکنہ راستہ ہے۔ اگر جماعت سیاسی رابطوں کو بحال کرنے اور حکومتی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں ادا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کے لیے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں؛ بصورتِ دیگر مسلسل محاذ آرائی اس کی سیاسی تنہائی کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

Back to top button