کیا تہران اتحاد سعودی عرب پر حوثی حملوں کو روک پائے گا؟

پاکستان کی سفارتی کوششوں سے ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان تہران میں ہونے والے اجلاس کو مسلم ممالک کے باہمی اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں امن و سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے اور علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کے اہم مسلم ممالک تصادم کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینے کے خواہاں ہیں۔ تاہم اس پیش رفت کی حقیقی اہمیت کا تعین اس وقت ہوگا جب مذاکرات عملی نتائج میں تبدیل ہوں گے اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں سمیت علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے قابلِ عمل اقدامات سامنے آئیں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ تہران اجلاس کی اہمیت اس کے وقت اور علاقائی حالات کے تناظر میں بڑھ گئی ہے۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں، ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے سلامتی کے خدشات نے مسلم ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت نمایاں کر دی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران اور ایرانی قیادت کو سعودی عرب سے متعلق پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کرنے کے بعد ہونے والی یہ پیش رفت پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اہم بناتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اجلاس میں امن و سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے اور علاقائی استحکام پر اتفاق ایک مثبت قدم ہے، تاہم کسی نئے دفاعی معاہدے، حوثیوں کے حملوں کے خاتمے یا ایران اور امریکہ کے تنازع پر حتمی مفاہمت کا اعلان نہیں ہوا۔ اس لیے اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ مذاکرات کس حد تک ٹھوس نتائج دیتے ہیں اور متعلقہ ممالک مشترکہ لائحۂ عمل پر متفق ہوتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے خیال میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی روک تھام اس مذاکراتی عمل کا اہم امتحان ہے۔ ایران اور حوثیوں کے درمیان تعلقات کے باعث تہران کا کردار اہم ہو سکتا ہے، تاہم حوثیوں کی اپنی قیادت اور سیاسی ترجیحات بھی ہیں۔ اگر ایران اپنے اثر و رسوخ کو کشیدگی کم کرنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرتا ہے اور حملوں میں قابلِ تصدیق کمی آتی ہے تو یہ علاقائی امن کی جانب نمایاں پیش رفت ہوگی۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستان کے لیے اس معاملے میں توازن برقرار رکھنا اہم ہے، کیونکہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ایران سے بہتر تعلقات اور خطے میں امن کا خواہاں بھی ہے۔ تہران اجلاس نے پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور اعتماد سازی کا موقع فراہم کیا ہے۔ اگر سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے تحفظات کو سمجھتے ہوئے سیاسی حل کی جانب بڑھتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے مستقبل میں دفاعی اتحاد میں شمولیت کی خواہش کا اظہار بھی علاقائی تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم ایران کی شمولیت یا کسی نئے دفاعی انتظام کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے باضابطہ فیصلوں اور عملی پیش رفت کا انتظار ضروری ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات پر تعاون خطے میں استحکام کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں تہران اجلاس کی اہمیت صرف ایران اور سعودی عرب کے تعلقات تک محدود نہیں بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور مسلم ممالک کی اجتماعی سلامتی پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اس تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم کسی دوسرے ملک کے لیے اس اجلاس کو واضح پیغام قرار دینے کے بجائے اس کے عملی نتائج کا جائزہ لینا زیادہ مناسب ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کرکے باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون اور ایران سمیت دیگر مسلم ممالک کی علاقائی سلامتی کے انتظامات میں دلچسپی اسی رجحان کا حصہ ہے۔ اگر یہ کوششیں مستقل مذاکرات اور قابلِ عمل اقدامات میں تبدیل ہو جاتی ہیں تو مسلم ممالک کے درمیان اعتماد بڑھ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تہران اجلاس کا اصل امتحان آئندہ نشست اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت ہوگی۔ حوثیوں کے حملوں میں کمی، سعودی عرب کی سلامتی کے لیے قابلِ اعتماد یقین دہانیوں اور ایران و سعودی عرب کے درمیان مسلسل مکالمے کے بغیر اس اجلاس کی کامیابی محدود رہے گی۔ پاکستان کی سفارت کاری نے مذاکرات کا راستہ ہموار کیا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ممالک اپنے اعلانات کو عملی اقدامات میں بدلیں۔

Back to top button