پاک بھارت بڑی جنگ کا خدشہ،جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں؟

جنوبی ایشیا ایک بار پھر کشیدگی کے خطرناک دوراہے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے، جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے ساتھ بھارت میں مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ جیو نیوز کے خصوصی پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں میزبان حامد میر نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی نئی جنگ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ موجودہ صورتِ حال کو صرف دونوں ممالک کی سرحدوں تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، کیونکہ بھارت میں ہندو انتہا پسند عناصر اور حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف منظم مہم کے الزامات بھی سامنے آرہے ہیں۔ اگر سیاسی کشیدگی، مذہبی منافرت اور عسکری محاذ آرائی کے رجحانات کو مؤثر انداز میں نہ روکا گیا تو اس کے اثرات پاکستان، بھارت اور پورے خطے کے امن و استحکام پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1948، 1965، 1971 اور 1999 میں جنگیں ہوچکی ہیں، جبکہ مئی 2025 میں بھی دونوں ممالک کے درمیان شدید فوجی کشیدگی سامنے آئی تھی۔ ان واقعات نے جنوبی ایشیا کے امن، علاقائی سلامتی اور دونوں ممالک کے عوام کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ موجودہ صورتِ حال میں ایک بار پھر جنگ کے امکانات سے متعلق خدشات سامنے آنا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دونوں جوہری صلاحیت کے حامل ممالک کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔
حامد میر نے اپنے پروگرام میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت میں انتہا پسندانہ سیاست اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو الگ الگ معاملات کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ مودی سرکار کی بھارتی مسلمانوں کے خلاف مبینہ کارروائیوں اور پاکستان کے ساتھ ممکنہ محاذ آرائی کے درمیان تعلق کو بھی زیرِ بحث لانے کی ضرورت ہے۔ حامد میر کے مطابق، ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے حوالے سے مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے الزامات تشویش کا باعث ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر جاری بین الاقوامی کشیدگیوں اور دیگر تنازعات کی وجہ سے پیدا ہونے والی توجہ کی تقسیم سے بھارت میں انتہا پسند عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
مبصرین کے بقول بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 20 کروڑ سے زیادہ بتائی جاتی ہے، اس لیے مذہبی آزادی، شہری حقوق اور مذہبی مقامات کے تحفظ سے متعلق کسی بھی پیش رفت کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اگر کسی مذہبی برادری کو منظم امتیاز، تشدد یا مذہبی مقامات پر حملوں کا سامنا ہو تو ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور متاثرین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہوتا ہے۔ ناقدین کے بقول بھارت میں مذہبی قوم پرستی، اقلیتوں کے حقوق اور حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسیوں پر بحث محض داخلی سیاست تک محدود نہیں رہتی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے سے موجود تاریخی تنازعات کے تناظر میں مذہبی بنیادوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر بھارت میں مذہبی تقسیم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کو تقویت ملتی ہے تو اس سے داخلی استحکام کے ساتھ علاقائی تعلقات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی بیانات، عسکری تیاریوں اور باہمی الزامات میں شدت کسی بھی واقعے کو بڑے بحران میں تبدیل کرنے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی نئی جنگ کا خدشہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ ممکنہ فوجی تصادم سے انسانی جانوں کے نقصان، شہری آبادیوں کے تحفظ، معیشت، تجارت اور علاقائی استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ دونوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں اور جوہری ہتھیاروں کے تناظر میں کشیدگی کو قابو میں رکھنا مزید اہم ہوجاتا ہے۔خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے برقرار رہیں، کسی بھی ناخوش گوار واقعے کی تحقیقات شواہد کی بنیاد پر کی جائیں اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی اہم ہے۔ مبصرین کے بقول جنوبی ایشیا کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ تاریخی تنازعات، مذہبی اختلافات اور سیاسی مفادات کو ایک ایسی محاذ آرائی میں تبدیل ہونے سے روکا جائے جس کی قیمت دونوں ممالک کے عام شہریوں کو ادا کرنا پڑے۔ خطے کا پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور تنازعات کے پُرامن حل کو بھی بنیادی اہمیت دی جائے۔
