پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری، گورنر راج آئین پر حملہ قرار

پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پارٹی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین پر حملہ قراردیتے ہوئے فوری خاتمے کا مطالبہ کردیا، جب کہ سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی حکومت کی بحالی اور عمران خان سمیت دیگر اسیر رہنماؤں کی رہائی کےلیے قرارداد بھی منظور کی۔
اجلاس کے شرکاء نے منتخب قیادت، پارٹی تنظیموں اور کارکنوں کےخلاف چھاپوں اور گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتےہوئے اسیر رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
پارلیمانی پارٹی نے قرارداد میں کہاکہ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوام کے حقوق کی جدوجہد میں عمران خان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاگیا کہ عمران خان سے اہلِ خانہ، وکلا اور پارٹی نمائندوں کی بلا رکاوٹ ملاقات اور رابطے کے حقوق بحال کیے جائیں۔
اجلاس میں عمران خان کے آزادانہ طبی معائنے اور شفا انٹرنیشنل میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کی بہنوں، شاہ محمود قریشی،ڈاکٹر یاسمین راشد،اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا، جب کہ سیاسی مخالفین،وکلا، ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کےخلاف غیرقانونی اقدامات ختم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
اعلامیے کےمطابق اجلاس میں دہشت گردی اور تمام دہشت گرد تنظیموں کی دوٹوک مذمت کی گئی اور صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی نے پاکستان کے دفاع میں مسلح افواج، پولیس اور عام شہریوں کی قربانیوں کا اعتراف کرتےہوئے کہاکہ مسلم لیگ ن کی حکومت عمران خان، پی ٹی آئی اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
پی ٹی آئی کی جائز جمہوری اور آئینی جدوجہد کو غلط طور پر ریاست دشمنی بناکر پیش کیا جارہا ہے۔
اجلاس میں8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ بحال کرنے یا ملک بھر میں نئے، آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس کے علاوہ9 مئی2023 اور26 نومبر 2024 کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات پر بھی زور دیا گیا۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے عدلیہ کی آزادی، اظہارِ رائے، پُرامن احتجاج اور قانونی کارروائی کے بنیادی حقوق بحال کرنے پر زور دیا۔
اعلامیے میں عمران خان کی جانب سے نامزد پارلیمانی اور پارٹی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیاگیا۔محمود خان اچکزئی،علامہ راجہ ناصر عباس،بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ کی قیادت پر اعتماد کا اعادہ کیا گیا، جب کہ سہیل آفریدی، جنید اکبر اور دیگر عہدیداروں پر بھی اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
پارٹی اعلامیے میں کہاگیا کہ عمران خان کی جانب سے بااختیار بنائی گئی پولیٹیکل کمیٹی،کور کمیٹی اور پارٹی تنظیموں کے اختیارات تسلیم کیےجاتے ہیں، جب کہ حتمی فیصلوں کا اختیار عمران خان اور ان کی بااختیار قیادت کے پاس ہی رہے گا۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کےاجلاس میں ارکان قیادت پربرس پڑے
اجلاس میں پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنےاور اندرونی اختلافات کو عوامی بیانات کے بجائے پارٹی فورمز پر حل کرنےکے عزم کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے کےمطابق پارلیمانی،سیاسی اور قانونی محاذوں پر بااختیار قیادت کی مشاورت سے مربوط جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
