اسٹیبلشمنٹ اب عمران کو ڈیل آفر کیوں نہیں کرے گی؟

 

 

 

 

سینئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے کہا ہے کہ عمران خان کو طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے نہ پہلے کسی قسم کی کوئی ڈیل آفر کی گئی تھی اور نہ ہی اب ایسا کوئی امکان دکھائی دیتا ہے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے اور وہ فیصلہ سازوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے یا اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے عمران خان کے لیے ریلیف حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ ان کے مطابق جب تک تحریک انصاف دوبارہ ایسی پوزیشن حاصل نہیں کرتی کہ اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے عمران کی ضمانت یا رہائی کی راہ ہموار کر سکے، تب تک کسی ڈیل یا پیشکش کی باتیں محض قیاس آرائی ہیں۔

 

منیب فاروق نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے کچھ عرصے بعد 2023ء میں برطانوی حکام نے ان کے لیے ریلیف حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی اور اس حوالے سے بات چیت بھی ہوئی تھی، اس کی بنیادی وجہ شاید گولڈ سمتھ خاندان کی کوششیں تھیں، تاہم پاکستانی فوجی حکام کی جانب سے انتہائی سرد ردعمل سامنے آیا اور کوئی حوصلہ افزا اشارہ نہیں ملا۔ برطانیہ کے لیے یہ صورتحال حیران کن تھی، لیکن چونکہ اس کے پاس پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے وہ ذرائع نہیں تھے جو امریکہ کے پاس ہو سکتے ہیں، اس لیے یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔

 

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بچے ان کی رہائی کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں اور اب بھی سرگرم ہیں، لیکن ان کوششوں کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کسی پیشکش یا ڈیل سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے بقول تحریک انصاف کے بعض نامعلوم رہنماؤں کے حوالے سے مسلسل یہ خبریں پھیلائی جاتی رہی ہیں کہ عمران خان کو کوئی رہائی کی پیشکش کی گئی تھی، لیکن ان بے بنیاد دعوؤں کی تصدیق کے لیے نہ تو کوئی واضح نام سامنے لایا جاتا ہے اور نہ ہی قابلِ اعتماد تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں۔

 

منیب فاروق نے اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا تھا کہ بتایا جائے کہ عمران خان کے پاس ڈیل کی پیشکش لے کر کون گیا تھا اور یہ واقعہ کب پیش آیا۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے دعوؤں کے بعد ٹوئٹس کے ذریعے بات بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ ان کی کوئی ٹھوس بنیاد سامنے نہیں آتی۔ انہوں نے ماضی میں لاہور میں عمران خان کے لیے بیرون ملک جانے کے لیے جہاز تیار کھڑے ہونے کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی باتوں کی بھی کوئی منطق دکھائی نہیں دیتی۔

 

انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیرون ملک روانگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اپنے مفادات موجود تھے اور جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع سمیت دیگر معاملات کے لیے سیاسی راستہ درکار تھا، جس کے نتیجے میں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت مل گئی۔ اس کے برعکس، ان کے بقول، موجودہ حالات میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کے معاملے میں ایسا کوئی واضح مفاد دکھائی نہیں دیتا جس کی بنیاد پر انہیں ریلیف دینے کے لیے پیش رفت کی جائے۔

 

منیب فاروق نے کہا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے محض پس پردہ رابطوں یا مذاکرات کی خبریں کافی نہیں، بلکہ تحریک انصاف کو عملی طور پر اتنا سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرنا ہوگا کہ وہ اپنے مطالبات منوانے کی پوزیشن میں آ سکے۔ اس پوزیشن میں انے کے لیے سب سے پہلے تو تحریک انصاف کو اپنی سٹریٹ پاور دوبارہ سے بحال کرنا ہوگی جو اس وقت تقریبا ختم ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے سہیل آفریدی کا لانگ مارچ بھی ناکام ہوا جس کے نتیجے میں خیبر پختون خان میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

مسلسل مزاحمتی سیاست نے پی ٹی آئی کا دھڑن تختہ کیسے کیا؟

منیب فاروق کے مطابق فی الحال عمران کی پارٹی اس پوزیشن میں نہیں کہ عمران خان کو موجودہ صورتحال سے نکالنے میں کامیاب ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیل یا پیشکش کے دعوؤں کے باوجود عمران خان کو کوئی قابلِ ذکر ریلیف نہیں مل سکا۔ انہوں نے عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ان کی ملاقاتیں نہیں ہو پا رہیں اور وہ اس حوالے سے پریشانی کا شکار ہیں۔ منیب فاروق کے مطابق ایک طرف اہل خانہ کو ملاقات کے لیے مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری جانب جیل میں ملاقاتوں اور ڈیلز کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، جن کی تصدیق کے لیے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں لائے جاتے۔

 

منیب فاروق نے کہا کہ اگر عمران خان سے ملاقاتوں یا ان کی رہائی کے لیے کسی ڈیل کے بارے میں مستند معلومات موجود نہیں تو بے بنیاد خبریں پھیلانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کی موجودہ سیاسی کمزوری اور اسٹریٹ پاور میں کمی کو دیکھتے ہوئے یہ دعویٰ کرنا درست نہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو ریلیف دینے کے لیے کسی پیشکش پر غور کر رہی ہے، کیونکہ فی الحال پارٹی کے پاس فیصلہ سازوں پر دباؤ ڈالنے کی وہ صلاحیت موجود نہیں جس کے ذریعے وہ اپنے مطالبات منوا سکے۔

Back to top button