اسرائیلی الیکشن کے بعد نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں

 

 

 

اسرائیل میں عام انتخابات کے ابتدائی نتائج کے بعد وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں پڑ گیا ہے کیونکہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بننے کے لیے مطلوبہ 61 نشستوں کی پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ہے جبکہ ان کے مخالف اپوزیشن اتحاد کو 52 سے 53 نشستیں مل سکتی ہیں۔ اس طرح کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی اور اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی جوڑ توڑ اور مذاکرات کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔

 

اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ انفرادی طور پر سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم اس کے اتحادیوں کی مجموعی نشستیں حکومت بنانے کے لیے درکار تعداد سے کم ہیں۔ نیتن یاہو کی جماعت کو ابتدائی اندازوں کے مطابق 24 سے 25 نشستیں مل سکتی ہیں، جو 2022ء کے انتخابات میں حاصل کردہ 32 نشستوں سے نمایاں طور پر کم ہیں۔

 

دوسری جانب سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں نیتن یاہو مخالف اپوزیشن اتحاد بھی حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں نے ان انتخابی نتائج کو نیتن یاہو کی حکومت پر عدم اعتماد سے تعبیر کیا ہے اور نئی حکومت قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ مختلف جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور حکومت سازی کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کرنا ہے۔

 

نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے کے دوران اسرائیلی سکیورٹی نظام کی ناکامی ہے، جس کے بعد ان کی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ غزہ میں طویل جنگ، لبنان اور ایران کے ساتھ محاذ آرائی، یرغمالیوں کی رہائی میں تاخیر اور جنگ کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ انتہائی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد، قدامت پسند یہودیوں کو لازمی فوجی سروس سے استثنیٰ دینے کا تنازع اور عدالتی اصلاحات پر پیدا ہونے والی کشیدگی نے ان کے سیاسی مخالفین کی حمایت میں اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ نیتن یاہو کو کرپشن کے مقدمات کا بھی سامنا ہے۔ ان تمام عوامل کے باعث ان کے روایتی حامیوں کے ایک حصے نے بھی متبادل قیادت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

 

اسرائیل کے انتخابی نتائج میں عرب جماعتوں نے بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر تقریباً 17 سے 18 نشستیں مل سکتی ہیں۔ ان جماعتوں کی حمایت حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتی ہے، لیکن اپوزیشن کی بعض اہم جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کی مخالفت کرتی رہی ہیں، چنانچہ ان کے لیے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف نیتن یاہو نے بھی عرب جماعتوں کی حمایت سے بننے والی حکومت کی مخالفت کی ہے۔

 

نیتن یاہو نے انتخابی نتائج کے باوجود دائیں بازو کی حکومت بنانے کی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ان کی ولولہ انگیز قیادت ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں انکی حکومت کی کارکردگی، 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں اور ناکام جنگی حکمت عملی پر جواب دہی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ اپوزیشن رہنما گادی آئزن کوٹ نے بھی نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے دوسری جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 

اسرائیل میں ہونے والے یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023ء کے حماس حملوں اور اس کے بعد غزہ سمیت خطے میں جاری جنگوں کے بعد پہلے عام انتخابات ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران نیتن یاہو نے حماس اور ایران سمیت اسرائیل کے مخالفین کے خلاف سخت مؤقف اور اپنی سکیورٹی پالیسیوں کا دفاع کیا، جبکہ اپوزیشن نے ان کی حکومت کی کارکردگی اور سکیورٹی ناکامیوں پر جواب دہی کا مطالبہ کیا۔ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77 فیصد سے زیادہ رہا، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی عوام نے ملکی قیادت اور مستقبل کی سمت کے تعین میں بھرپور دلچسپی لی۔

ٹرمپ کے اعتراف نے امریکی سفارتی وعدوں کی کھوکھلی حقیقت بے نقاب کردی : ایران

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر کوئی بھی اتحاد 61 نشستوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اسرائیل کو طویل سیاسی تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں، جبکہ حکومت سازی میں ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ابتدائی نتائج کی بنیاد پر نیتن یاہو کو فوری طور پر اقتدار سے باہر قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ ان کی جماعت اب بھی سب سے بڑی انفرادی جماعت ہے اور حکومت سازی کے امکانات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ دوسری جانب اپوزیشن کے پاس بھی فی الحال واضح اکثریت نہیں ہے، اس لیے اسرائیل کی سیاست آنے والے دنوں میں اتحادی مذاکرات اور نئی حکومت کی تشکیل کے گرد گھومتی دکھائی دے رہی ہے۔

Back to top button