جنرل کاکڑ: توسیع کی آفر ٹھکرانے والا واحد آرمی چیف

پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ میں جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کو 1993ء کے سیاسی بحران کے حل کے لیے پیش کیے گئے ’’کاکڑ فارمولے‘‘ کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس فارمولے کے تحت صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف دونوں کو اپنے عہدوں سے الگ ہونا پڑا اور ملک میں عام انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔ جنرل کاکڑ نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بجائے سیاسی قیادت کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا۔ وہ ایک پیشہ ور سپاہی تھے جنہوں نے آرمی چیف کے عہدے میں توسیع کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کیا، سینیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود فوج کی سربراہی تک پہنچے اور ریٹائرمنٹ کے بعد میڈیا کے انٹرویوز اور سیاسی تبصروں سے گریز کرتے رہے۔ جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ پیر 26 اکتوبر 2026ء کو راولپنڈی میں 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
یاد رہے کہ 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان اختیارات کی کشمکش نے ملک کو شدید آئینی بحران سے دوچار کر دیا تھا۔ صدر نے اپریل 1993 میں قومی اسمبلی توڑ کر نواز شریف حکومت برطرف کر دی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے شریف حکومت بحال کر دی۔ اس عدالتی فیصلے کے باوجود دونوں رہنماؤں کے درمیان محاذ آرائی ختم نہ ہوئی اور حکومتی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا، جبکہ ملک میں مارشل لا کے خدشات بھی بڑھنے لگے۔
اس صورت حال میں جنرل وحید کاکڑ نے دونوں رہنماؤں کو اختلافات ختم کرنے اور اپنے عہدوں سے الگ ہونے پر آمادہ کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ انکی کوششوں سے طے پانے والے سمجھوتے کو ’’کاکڑ فارمولا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف دونوں مستعفی ہونے پر رضامند ہو گئے، جس کے نتیجے میں قومی اسمبلی تحلیل ہوئی اور نئے انتخابات کی راہ کھل گئی۔ یوں فوجی اقتدار قائم کرنے کے بجائے سیاسی سمجھوتے کے ذریعے بحران ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔
کاکڑ فارمولے کے نتیجے میں جولائی 1993ء میں معین الدین قریشی کی سربراہی میں نگران حکومت قائم ہوئی، جس نے عام انتخابات کرائے۔ اکتوبر 1993ء کے انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیراعظم بن گئیں۔ اس طرح صدر اور وزیراعظم کے درمیان جاری کشمکش اپنے انجام کو پہنچی اور ملک مارشل لا کے بجائے انتخابی عمل کی طرف بڑھا۔ یہ واقعہ جنرل کاکڑ کی عسکری زندگی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا بھی اہم باب بن گیا۔
جنرل عبدالوحید کاکڑ 20 مارچ 1937ء کو پشاور میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق بلوچستان کے پشتون قبیلے کاکڑ سے تھا۔ انہوں نے 1959ء میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں حصہ لیا۔ فوج میں مختلف اہم ذمہ داریاں نبھانے کے بعد وہ کور کمانڈر راولپنڈی اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری ٹریننگ جیسے عہدوں پر فائز رہے۔ جنوری 1993ء میں جنرل آصف نواز جنجوعہ کے اچانک انتقال کے بعد جب انہیں آرمی چیف مقرر کیا گیا تو وہ سینیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر تھے۔ انہیں ایسے وقت میں فوج کی کمان سونپی گئی جب ملک سیاسی بے یقینی اور ادارہ جاتی کشمکش کا شکار تھا۔
جنرل کاکڑ کی اصول پسندی کے حوالے سے جنرل ضیا الحق کے دور کا ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ 1987ء سے 1989ء کے دوران جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے انہیں آرمی میڈیکل کالج میں تین طلبہ کو داخلہ دینے کی ہدایت ملی، لیکن وہ مقررہ میرٹ پر پورا نہیں اترتے تھے۔ جنرل کاکڑ نے میرٹ کے خلاف داخلے دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد کالج کی نشستوں کی تعداد بڑھا دی گئی تاکہ ان طلبہ کو بھی جگہ مل سکے اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کے حقوق بھی متاثر نہ ہوں۔
سینئیر صحافی حامد میر کے مطابق جنرل کاکڑ نے آرمی چیف بننے کے بعد انٹیلیجنس اداروں کے بعض اعلیٰ افسران کی سیاسی معاملات میں مداخلت اور اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے ساتھ غیر معمولی روابط پر بھی کارروائی کی۔ ان افسران کو عہدوں سے ہٹانے کے اقدام کو فوج کے پیشہ ورانہ کردار اور سیاسی معاملات سے دوری برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا جاتا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ اب عمران کو ڈیل آفر کیوں نہیں کرے گی؟
جنرل کاکڑ کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم پہلو آرمی چیف کے عہدے میں توسیع قبول نہ کرنے کا فیصلہ تھا۔ 1996ء میں ان کی مقررہ مدت مکمل ہونے کے قریب تھی تو وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت کی جانب سے انہیں مزید عرصے تک عہدے پر برقرار رکھنے کی پیشکش کیے جانے کا ذکر ملتا ہے، تاہم انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ وہ 12 جنوری 1996ء کو ریٹائر ہو گئے اور جنرل جہانگیر کرامت نے فوج کی کمان سنبھال لی۔ ان کے اس فیصلے کو فوج میں قیادت کی بروقت تبدیلی اور ترقی کے معمول کے نظام کو برقرار رکھنے کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل وحید کاکڑ نے راولپنڈی میں گوشہ نشینی کی زندگی اختیار کر لی۔ وہ ٹی وی انٹرویوز، سیاسی تبصروں اور ذرائع ابلاغ میں تشہیر سے گریز کرتے رہے اور ملکی سیاست پر بھی کبھی اظہارِ خیال نہیں کیا۔ کاکڑ فارمولے جیسے تاریخی سیاسی بحران میں مرکزی کردار ادا کرنے کے باوجود انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد خود کو سیاسی بحثوں اور میڈیا سے دور رکھا، جو انکی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو تھا۔
