خیبر پختونخوا: 2027 کے سینیٹ الیکشن لٹکنے کا امکان

 

 

 

 

 

 

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج برقرار رہنے کی صورت میں مارچ 2027ء میں ہونے والے سینیٹ انتخابات کا انعقاد غیر یقینی ہو گیا ہے۔ اس صورت حال نے صوبے کی 12 نشستوں اور ایوانِ بالا میں اس کی نمائندگی کے مستقبل سے متعلق آئینی و سیاسی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

 

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک صوبے میں موجودہ انتظامی صورت حال برقرار رہی تو سینیٹ انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل ہے، تاہم 11 اکتوبر 2026ء کو گورنر راج کے نفاذ کے بعد اسمبلی کا معمول کا کردار متاثر ہوا ہے۔

پاکستان میں سینیٹ وفاق کی نمائندگی کرنے والا مستقل ایوان ہے، جسے قومی اسمبلی کی طرح تحلیل نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رہے کہ آئین کے تحت سینیٹرز کی مدت چھ سال ہوتی ہے، تاہم ایوان کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے ہر تین سال بعد تقریباً نصف ارکان ریٹائر ہو جاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے سینیٹرز منتخب کیے جاتے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات میں عوام براہِ راست ووٹ نہیں ڈالتے بلکہ صوبائی نشستوں کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے ارکان اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، جبکہ وفاقی دارالحکومت کی نشستوں پر قومی اسمبلی کے ارکان ووٹ دیتے ہیں۔

 

سینیٹ کا انتخابی عمل متناسب نمائندگی اور واحد قابلِ انتقال ووٹ کے اصول کے تحت مکمل ہوتا ہے، جس کے ذریعے اسمبلی میں مختلف جماعتوں کی عددی قوت کے تناسب سے نشستوں کی تقسیم ممکن ہوتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت مدت پوری ہونے پر خالی ہونے والی نشستوں کے انتخابات متعلقہ ارکان کی مدت ختم ہونے سے پہلے آخری 30 دن کے اندر کرائے جا سکتے ہیں۔

 

مارچ 2027ء میں ملک بھر کے 48 سینیٹرز کی چھ سالہ مدت مکمل ہو رہی ہے، جن میں خیبر پختونخوا کی 12 نشستیں بھی شامل ہیں۔ معمول کے حالات میں ان نشستوں پر نئے ارکان کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی کے ارکان ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن موجودہ صورت حال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر صوبائی اسمبلی معمول کے مطابق کام نہ کر سکی تو انتخابی عمل کس طرح مکمل ہوگا۔ اس کا جواب نہ صرف صوبے کی پارلیمانی نمائندگی بلکہ سینیٹ کی مجموعی تشکیل کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔

 

بیرسٹر گوہر علی خان نے اس صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسلسل دوسری مرتبہ ہوگا جب خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات مقررہ وقت پر نہیں ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق 2024ء میں مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ سے متعلق تنازعے کے باعث بھی صوبے میں سینیٹ انتخابات نہیں ہو سکے تھے۔ اگر اس بار بھی انتخابی عمل تعطل کا شکار ہوا تو صوبے کی نمائندگی میں خلل پیدا ہونے کے ساتھ ایوانِ بالا میں سیاسی جماعتوں کے درمیان توازن پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

 

اس معاملے کی سیاسی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل ہے، جبکہ قومی پارلیمان میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادیوں کو اکثریت حاصل ہے۔ ایسے میں صوبے کی 12 نشستوں پر انتخابات میں تاخیر سے سینیٹ میں جماعتوں کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس کے عملی اثرات کا تعین انتخابی عمل کی آئینی حیثیت اور ممکنہ قانونی حل کی روشنی میں ہی کیا جا سکے گا۔

 

آئینی اعتبار سے اس صورت حال میں آرٹیکل 234 خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس شق کے تحت کسی صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں صدارتی اعلان کے ذریعے گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے اور مخصوص شرائط کے تحت پارلیمان صوبائی اسمبلی کے اختیارات استعمال کر سکتی ہے۔ تاہم، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ گورنر راج کے دوران صوبے کی سینیٹ نشستوں کے انتخاب کے لیے اس آئینی اختیار کو کس طرح بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 234 کے تحت صدارتی اعلان کی ابتدائی مدت چھ ماہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026ء کو گورنر راج کے نفاذ اور مارچ 2027ء میں سینیٹ انتخابات کے متوقع انعقاد کے پیش نظر اس مدت اور انتخابی شیڈول کے درمیان تعلق بھی اہم ہو گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ اب عمران کو ڈیل آفر کیوں نہیں کرے گی؟

اگر صوبے کی 12 نشستوں پر مقررہ وقت تک انتخابات نہ ہو سکے تو نئے سینیٹرز کی عدم موجودگی ایوانِ بالا میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے ممکنہ اثرات سینیٹ کی قیادت کے انتخاب کے معاملے میں بھی زیرِ بحث آ سکتے ہیں، کیونکہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ایوان کے ارکان کرتے ہیں۔ تاہم، ان اثرات کی نوعیت کا انحصار متعلقہ آئینی دفعات کی تشریح اور الیکشن کمیشن کے اختیار کردہ طریقۂ کار پر ہوگا۔

اب توجہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مؤقف پر مرکوز ہے کہ صوبائی اسمبلی کے معمول کے مطابق کام نہ کرنے کی صورت میں انتخابات کرانے کے لیے کون سا آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہونا اہم ہوگا کہ آیا مارچ 2027ء سے پہلے خیبر پختونخوا اسمبلی معمول کے مطابق کام شروع کر دے گی یا صوبے کی 12 سینیٹ نشستوں کے انتخاب کے لیے کسی خصوصی قانونی وضاحت یا متبادل آئینی طریقۂ کار کی ضرورت پیش آئے گی۔

 

Back to top button